بکرا،پل اور ہم ۔۔۔۔۔

بکرا ،پل   ا
"مما مما ۔ مبارک ہو ۔ آخر وہ مہمان  آرہا ہے ۔ ": ہمارے بیٹے نے فون پر ہمیں مبارک باد دی ۔ 
" ہاۓ اللہ ۔ سچ ۔ کب تک آجائیگا وہ " 
 "شام تک گھر میں ہو گا ۔آپ تیاری کر لیں " 
"اچھا ۔ بالکل تیاری تو کرنی ہے آخر اسپیشل مہمان ہے وہ ۔‌ ۔‌" ہم نے بھی کچن میں ٹہرے ٹہرے پرجوش سے انداز میں کہا ۔ ۔
 اور شام تک ہم ایک عدد رسی ، کھانے کی ٹوکری اور فون کے ساتھ تیار  تھے ۔ 
رسی ۔‌آپ پریشان ہو گۓ کہ ایک مہمان کے لیۓ رسی کیوں ۔ لیکن جب مہمان بقر عید کا بکرا ہو تو رسی تو ہو گی ہی ۔‌
اور فون ۔۔‌۔۔۔۔ فون تو ہمیں اس کے فوٹوز ،اور اس کے ساتھ سیلفیز وغیرہ کے لیۓ چاہیۓ تھا ۔‌جن کو ہمیں سوشل میڈیا پر ڈال کر واہ واہ سمیٹنی تھی ۔ 

ہم اب اس مہمان یعنی بکرے کی آمد کے لیۓ بے چین تھے ۔‌یہ نہیں تھا کہ ہم پہلی بار قربانی دے رہے  تھے ہم ہر سال ہی قربانی دیتے تھے اور ہر سال ہمارا ایسا ہی حال ہو تا تھا ۔‌ہم نے سارا سامان آنگن میں رکھا ۔ آنگن صاف کیا ۔ پانی بھر کر رکھا ۔ اور خود اپنا نیا نکور لان کا کرتا میچنگ چوڑیاں ۔ اور ایک اچھا سا ہیر اسٹائل بنا کر بیٹھ گۓ ۔ 
حسیب  ٹھیک مغرب کی نماز کے بعد گھر میں تھا ۔‌اور  
   بکرے کی میں میں ہمارے آنگن میں یوں گونج رہی تھی جیسے نوزائیدہ بچے کی آوازوں سے گھر محلے سب گونجنے لگتے ہیں اور جس سے چھٹکارا پانا کافی مشکل ہو تا ہے ۔ 
ایک اچھا موٹا تازہ بکرے کا مقام بقر عید پر ویسا ہی ہو تا ہے جیسا کسی وی آی پی کا کسی فنکشن وغیرہ میں ۔‌سب اس کے انتظار میں رہتے ہیں ۔ سب اس کے ساتھ تصویریں بنوانے کے لیۓ بے چین  و مضطرب ہو تے ہیں ۔ اور جب وہ آ جاتا ہے تو سب گردن اکڑاۓ ، سینۂ تانے یوں پھر رہے ہو تے ہیں کہ بس میدان مار لیا ۔ہمارے لیۓ بھی 
بقر عید پر ایک بکرا خریدنا اور پھر اس کا  صحتمند ہونا میدان مار ر لینے جیسی بات  لگ رہی تھی ۔ ۔ 
اور ہمارا بھی حال کچھ ایسا تھا کہ  جیسے ہی بکرا آیا ۔ ہم نے جھٹ اس کی تصویریں لینی شروع کیں ۔آخر اتنا بناؤ سنگھار کیا ہی اس کے لیۓ تھا ۔
ایک دو تین ‌۔۔۔۔کھٹا کھٹ ۔۔
پھر فورا سوشل میڈیا پر ڈالا ۔
اس کیپشن کے ساتھ 
"۔۔بکرا آگیا ۔۔بقر عید مبارک "
اب سیلفیز لینے کی باری تھی جو کہ ہمارا پسندیدہ مشغلہ تھا‌۔ ہم نے بکرے کے قریب جا کر اس کے ساتھ سیلفی بنائ ۔
ساتھ منہ بھی گول کیا اپنا ۔ اور ایک ہاتھ ہوا میں لہرایا ۔ 
"می اینڈ مائ بکرا ۔۔۔۔"
اب یہ بھی سوشل میڈیا پر فورا ڈالا ۔ اور پھر کمنٹس دیکھنے لگے ۔‌
" مما ۔‌آپ اب اس بکرے کو دیکھ لیں ۔ میں جا رہا ہوں ۔ حسیب نے  آنگن کے ایک کونے میں بکرے کو اچھی طرح سے باندھا‌۔ 
" ہاں ٹھیک ہے ۔‌لیکن‌کچھ دیر بعد اس کو سارے محلے میں لے جانا ۔‌سجا سنوار کر ۔"  ہم نے سیلفیز لینے کا کام تھوڑی دیر کے لیۓ مو قو ف کر دیا ۔
"لیکن‌کیوں "۔۔ حسیب حیران بولا ۔
ا"ارے تو محلے والوں کو پتا کسیے چلے کہ ہم نے بھی  عید پر بکرا خریدا ہے۔ "ہم نے اس کی عقل پر ماتم کیا ۔
"تو جب آپ گوشت تقسیم کریں گی تو پتا تو چلے گا "۔‌اس نے کہا تو ہم نے سر ہلایا ۔
"ہاں۔‌لیکن‌گوشت سارے محلے میں تو بانٹنے سے رہے ۔ کچھ دو چار گھروں میں دیں گے ۔ اور بس "۔‌ہماری بات پر حسیب نے ہمیں‌ملامتی نظروں سے دیکھا ۔
"مما ۔‌قربانی کا مطلب یہ تو نہیں کہ سارا گوشت ڈیپ فریزر میں بھرا جاۓ اور مہینوں کھانے کے لیۓ رکھا جاۓ "۔‌

"حسیب ۔تم ابھی بچے ہو ۔ تمہیں ان سب باتوں کا پتا نہیں یہ سب  ۔‌چھوڑو ۔  جاؤ ۔ تم بکرے کو گھاس کھلا  لاؤ۔ میں تب تک اپنی فرینڈز سے بات کرتی ہوں " 
 ہم نے جلدی سے اس کے وعظ و  درس سے  جان چھڑائ اور خود فون کی طرف لپکے ۔‌
تقریباًً ہر فرینڈ رشتہ دار محلے والی سے گپ شپ کر کے ہم نے جب فون رکھا تو ہماری تمام فرینڈز محلے دار اور رشتہ دار کو پتا لگ چکا تھا کہ ہم نے بقر عید کے لیۓ بکرے کا انتظام کیا ہے ۔‌اور وہ شاندار بکرا  ہمیں جنت میں پل صراط پار کرواکر ہی دم لے گا ۔‌
اس پر کچھ مخلص سی سہلیوں  نے الگ مشورے بھی دیۓ کہ بھلے سے بکرا جتنا بھی بڑا ہو ۔گوشت جتنا بھی ہو ۔ اچھے اچھے تکے خود رکھ لو ۔باربی کیو وغیرہ کے کام آییں گے  سری پاۓ تو ڈیپ فریزر میں رکھ دو ۔ فرصت میں بنانا ۔۔ باقی جو تھوڑا بہت ہو ۔ وہ رشتہ داروں میں بانٹ دینا ۔ 
"سری پاۓ ۔ تو ہمارے یہاں بیٹی مطلب نند کا حصہ ہوتا ہے ۔ ہم ہمیشہ نند  کے گھر بھیجتے ہیں ۔ سالوں سے یہی رواج رہا ہے ۔" ہم نے فکرمندی سے کہا ۔
"تورواجوں کو توڑنا چاہیۓ ۔ یہی فرسودہ رسم و رواجوں نے معاشرہ میں بے سکونی ہے "۔‌ہماری فرینڈ نے کسی بہت بڑی سوشل ورکر کی قبر پر لات ماری ۔ 
"ہاں ۔ یہ بھی ٹھیک ہے ۔ ہر سال سری پاۓ تو ہماری نند کے گھر ہی جاتے ہیں لیکن اس بار  ہم یہ رسم توڑیں گے  اور سری پاۓ اپنی امی کے گھر بھیجیں گے "۔ ۔ ہم نے پرجوش انداز میں کہا ۔ 
"چلو ٹھیک ہے ۔" فون رکھ دیا گیا اور ہمارے کانوں میں وہی باتیں گھومنے لگیں.
 
********
۔ 
خیر سے بقر عید بھی آگئ ۔میاں تو باہر تھے ۔ ہم ہمارے بچے حسیب اطیب اور امرحہ اپنے عزیز بکرے کی قربانی کے لیۓ تیار تھے ۔جیسے ہی قربانی ہوئ ہم نے بیٹی کے ساتھ سارے شاپرز میں گوشت الگ الگ کرنا شروع کیا   ۔محلے میں کچھ قریبی پڑوسیوں کو  کچھ بوٹیاں  زیادہ ہڈیاں  شاپرز میں ڈال کر نپٹالیا تھا ۔ سری پاۓ اپنی سہیلی کے مشورے پر  ڈیپ فریزر میں ڈالے گۓ۔ کہ رسم و  رواج کو توڑ کر  انقلابی سماجی جہد کاروں میں ہمیں اپنے آپ کو  شمار جو کرنا تھا ۔ 

باربی کیو دوسرے دن کے لیۓ رکھا گیا ۔ 
عید کے دن بریانی پکی ۔ خوب لطف لے کر کھائ گئ ۔ میاں سے بات بھی کی ۔‌اور انہیں تسلی بھی دی کہ سب کچھ ٹھیک رہا ۔ بکرا اور بکرے کی قربانی بھی ان شاءاللہ اللہ کے یہاں قبول ہوئ ہوگی یہ تیقن بھی انہیں دیا اور ہم خواب خرگوش کے مزے لوٹنے چلے گۓ۔ 
حسیب اطیب دوستوں کی طرف چلے گۓ جبکہ امرحہ ، نۓ کپڑے پہن کر اپنی پکس دوستوں کو بھیجنے میں لگ گئ تھی ۔‌
ہم  ابھی بھی خواب غفلت میں پڑے تھے کہ ۔۔۔۔۔۔

"ارے !یہ ہم کہاں آگےء"ہم آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے لگے "۔ایک بڑا میدان تھا اور آگے ایک پل جیسا بنا تھا تو ہمیں یاد آیا کہ ہمیں یہ پل پار کرنا تھا اور آگے  ہماری منزل مقصود تھی۔
اس پل کو پار کرنے کے لیےء ہمیں اپنے بکرے کی تلاش کرنی تھی "۔
یہ ہمارا بکرا کہاں چلا گیا ۔ہم آس پاس نظریں دوڑانے لگے ۔"کہیں ہماری پڑوسن تو لے نہیں گیئں ۔وہ اکثر ہماری چیزیں لے جاتی ہیں اور پھر واپس کرنا بھول جاتی ہیں۔لیکن چاۓ پتی ،شکر لے کربھول گیئں تو کوئ بات نہی مگر یہاں بات بکرے کی ہے جس پر بیٹھ کر ہمیں پل پار کرنا تھا اور وہ بکرا ہی ندارد ۔ہم۔پھر آس پاس نظریں دوڑانے لگے ۔
"۔ارے وہ رہا ۔ہم کو بلآخر کونے میں دبکا پڑا بکرا نظر آیا ۔ہم نے اسے جگایا ۔
ارے تم یہاں سوتے پڑوگے تو ہمیں یہ پل کون پار کرواےء" گا.
"وہی جنکو دکھانے  کے  لیۓ تم نے میری ڈھیروں سیلفیاں "لی تھیں ۔اور سوشل میڈیا پر ڈالا تھا ۔طنزیہ آواز پر ہم چونک گےء ۔
"تم تو کافی غصہ میں نظر آرہے ہو" ۔"
ہونہہہہ ۔اب پوچھ کر کیا فائدہ" "۔ ۔"
لیکن ایسا کیا کیا ہم نے" ۔ہم پہلے منمناےء ۔پھر یاد آیا" منمنا نا تو بکرے کا کام ہے ۔اس لیۓ گلا کھنکھار بیٹھے"۔
تم نے کیا کرنا تھا ۔تم کو تو بس کھانا تھا۔کلیجی ،پتہ بوٹی ، اور بھیجہ ،ارے بھیجہ کھایا  تو بات سمجھ میں آتی ہے کہ ضرورت کی چیز تھی کھالی، مگر تم۔تو واہ گاما پہلوان نکلیں ۔کیا کیا نا کھایا تم نے ۔دستر خوان پر جو بیٹھیں تو میری ہر چیز پر تم ہی تو قابض ہو ئیں ۔بریانی سے  چن چن کر بوٹیاں کھانا تو تمہارا من پسند مشغلہ تھا"۔بکرے نے آنکھیں گھمائیں تو ہمارا تو پارہ ہی چڑھ گیا۔"
تم قربان ہو ۓ تھے کہ ہمیں دیکھ رہے تھے۔""
قربانی کے ساتھ ساتھ تم پر بھی نظر رکھے ہو ۓ تھا"۔بکرے نے اپنے سفید دانتوں کی نمائش کی۔یہ بھی ایک لطیفہ ہی ہے کہ روز برش کر کے بھی ہمارے دانت اتنے سفید نہیں ہو تے جتنے ان بکروں کے بنا برش  کۓ ہو تے ہیں ۔پتا نہیں یہ اپنے دانتوں کو کیا لگاتے ہیں۔ہم اسکے سفید دانتوں کو غور سے دیکھتے ہو ۓ سوچنے لگے تو بکرا ہمیں متوجہ کرنے کے لیۓ زور سے منمنایا ۔ 
"کیا ہے ۔کان ہی پھاڑ دیۓ تم نے تو ۔"ہم نے اپنے کانوں کو ہاتھ لگا یا۔
"کھا کھا کر تم تو سستی  کی کیفیت میں ہو ۔بار بار  جگانا پڑ رہا ہے۔" 
"کھا کھا کر مطلب' ہم نے کھا کر گناہ تو نہیں کیا. برابر تین حصے کۓ گۓ  اور تقسیم کۓ گۓ اس پر اتنا لعن طعن" ۔ہم نے اسے گھورا .
"اس بات پر تالیاں بجاتا 'مگر ہاتھ ںہیں ہیں کیا کروں "بکرا ہنسنے لگا تو ہم نے بھی جل کر کہا۔
"پیر سے مار لو اگر ہاتھ نہیں ہیں تو ۔اب اس میں لطیفہ کہاں سے آیا۔جو اس طرح ہنس رہے ہو" ۔
"تین حصوں کے لطیفہ پر ۔تم نے تین حصے کیسے کیۓ ۔یہ میں بتاتا ہوں ۔پہلا حصہ گھر والوں کا ،جس میں سب اچھا گوشت ،ثابت گوشت کے تکے وغیرہ جو تم نے اپنے لیۓ رکھ لیۓ۔
"دوسرا حصہ رشتہ داروں کا 'جو کہ تھوڑا کم‌اچھا مگر پھر بھی  کھانے کے قابل ہو تا ہے وہ الگ رکھ لیا ۔
اب جو تیسرا حصہ ہوتا ہے جو کہ غریبوں کا ہو تا ہے وہ تو یا تو پھینکنے والا ہو تا ہے یا بلیوں کے کام کا ہو تا ہے جو تم نے غریبوں میں بانٹا۔اب اس تقسیم کو کیا کہوں "۔بکرے کی اس بات پر ہم شرمندہ ہونا چاہتے تھے مگر شیطان نے وہ بھی ہونے  نا دیا۔
"اچھا بھئ'  اب بس کرو اور جلدی چلو ،ہمیں کہیں دیر نا ہو جاۓ ۔اور وہ ہماری پڑوسن کہیں ہم سے  آگے نا نکل جاۓ" ۔ہم نے بکرے کی پیٹھ پر ہاتھ رکھا۔
"میں بکرا ہوں‌ریس کا گھوڑا تو نہیں‌"۔وہ منمنا تے ہوۓ بولا۔
ہم اسکی بات نظرانداز کۓ اسکی پیٹھ پر سوار ہوۓ ۔وہ لڑکھڑایا۔
"ارے تم اس لنگڑی ٹانگ کے ساتھ ہمیں کیسے لے جاؤگے۔ہمیں فکر لا حق ہو ئ تو وہ طنزیہ مسکرایا.
"جیسی تمہاری نیت،ویسے یہ تمہارا سفر "۔
"دیکھو،زرا سنبھل کر" ،ہم تھوڑا گھبراۓ
" ۔ویسے بھی"بکرا بولا ۔
"بکرے کی ماں کب تک خیر  منایئگی"۔وہ تھوڑا ہنسا،ہمیں زیادہ غصہ آیا۔"ارے کیسے بکرے ہو تم ،تم پر جو لاگو ہوتے وہ محاورے ہم پر لاگو کر رہے ہو ۔ہو نہہہ ۔"
ایک بکرا ہمیں کہے کہ "بکرے کی ماں کب تک خیر منائیگی" اس پر ہمارا غصہ واجبی تھا۔
"مجھے بھی تو با محاورہ طنز کرنے کا حق حاصل ہے" ۔اس نے پھر اپنے سفید دانتوں کی نمائش کی تو ہم سے رہا نا گیا۔
"ٹھیک ہے ٹھیک ہے ۔تمہارے دانت سفید ہیں ۔لیکن اتنا نمائش تو مت کرو ۔ایسا لگ رہا ہے کسی ٹوتھ پیسٹ کا اشتہار دیکھ رہی ہوں."
"اشتہار تو میں نے بھی دیکھا تھا تمہاری قربانی کا ،گلی کا بچہ بچہ تمہاری قربانی مطلب میری قربانی ہی کا ذکر کر رہا تھا۔قربانی میری ہو رہی تھی واہ واہ تم بٹور رہی تھیں"
۔
"کتنا بک بک کرتے ہو ناں تم ،تمہارا نام اسی لیۓ بکرا پڑ گیا ہو گا۔"ہم اسکی باتوں سے تنگ آ کر بولے ۔
"اس طرح تو تمہارا نام ڈھنڈورا پیٹنے والی یعنی ڈھنڈورچی ہو نا چاہیۓ تھا۔" وہ بھی کچھ کم نا تھا۔
"جس انداز سے تم چل رہے ہو مجھے نہیں لگتا کہ تم مجھے یہ پل پار کرواؤ گے" ۔ہمیں اپنی فکر لاحق تھی ۔
"مطلب"
"تمہاری لنگڑاتی ٹانگوں سے ہم کیا امید رکھیں" ۔
"جن ٹانگوں کا ذکر خیر ہو رہا ہے وہ دراصل آپکی فریج میں آرام فرمارہی ہیں ۔اور یہ ٹمپرری بیسس پر لگوائ گئ ہیں ۔یہ عارضی ٹانگیں ایسے ہی کام کرتی ہیں "۔
"مطلب" اب مطلب پوچھنے کی ہماری باری تھی۔
"یہی کہ اچھی نیت کے ساتھ قربانی دی جاتی ہے تو فریج میں ٹانگیں نہیں پائ  جاییئنگی۔اور مجھے عارضی ٹانگوں کی ضرورت نہیں پڑے گی۔پھر تمہارے اور میرے لیۓ اس پل پر بھاگنا بھی ممکن ہو گا۔"
"اوہ ایسا ہے" ۔ہم تھوڑے شرمندہ ہو گۓ ۔
"مگر اب کیا ہو گا" ۔ہم نیچے دیکھے بغیر بھی سمجھ سکتے تھے کہ نیچے کیا ہو گی ۔دہکتی ہو ئ آگ ۔
"اگر ہم نیچے گر گۓ تو" ،ہمیں خدشہ سا لاحق ہوا۔
"تو باربی کیو اور کیا "۔بکرا بڑے اطمینان سے بولا
"باار بی کیو ؟ ہم گھگھیاۓ ۔بکرا ایسا طنز نا کرتا تو اور کون کرتا۔مگر اس وقت ہمیں  اسکے طنز سے زیادہ اپنی فکر ہو رہی تھی۔ہم بس بکرے سے اتر کر اپنے فریج سے وہ ٹانگیں (بکرے کی) جو ہم نے سب سے نظریں بچا کر اپنے گھر والوں کو دینے کا پلان کیا تھا۔وہ حصہ اپنی ان  نند کے حوالے کرنا تھا۔جس نے قربانی نہیں دی تھی ۔اور وہ اسکی مستحق بھی تھی ۔
"باربی کیو تو بس تمہارا ہی مزےدار ہو تا ہے ۔ہمارا نہیں ۔سمجھے تم" ۔ہم بکرے سے اترے ۔ہماری نیند اور آنکھیں دونوں بھی کھل گئ تھیں ۔اب پل پار کرنے کے لیۓ ہمیں بکرے کی منتیں نہیں کرنی تھیں ۔بکرے نے اچھا سبق دیا تھا۔
ختم شد

۔




تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ