ہم آجکل پکوان کبھی نہ کرنے کی قسم کھاے۶ ہوے۶ ہیں کیونکہ اس پکوان کی وجہ سے ہم ایسے تلخ تجربہ سے گزرے ن ہیں کہ ہم
نےپکوان سے ہی توبہ کرلی۔
اب قصہ کچھ یوں ہے کہ گھر میں امی وغیرہ باہر جارہے تھے اسی وقت بڑے ابا کا فون آیا کہ وہ گھر تشریف لارہے ہیں۔امی نے ہمیں کہا کہ ھم آنے تک تم کھانا بنالینا۔ہم پریشان کہ کیا بنای۶یں۔امی نے کہا اس میں اتنا پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے ،کھچڑی انڈوں کا سالن روٹی وغیرہ بنا لینا،فریج میں گاجر پڑے ہیں حلوہ کی تیاری کرلینا میں آکر بگھار دوں گی۔ہم نے انہیں دیکھا وہ ایسے اناڑی کو جنگ کرنے میدان جنگ میں بھیج رہی تھیں جسے تلوار پکڑنا بھی نہیں آتا۔خیر وہ سب تو چلے گے۶اور ہم نے کمر کس لی اور میدان جنگ میں جیسے سچ مچ کود پڑے۔
سب سے پہلے ہم نے کھچڑی بنانے کا سوچا ،کھچڑی کو اچھی طرح گرم مصالحہ وغیرہ سے بگھارا اور پھر بریانی کی طرح نتھار لیا ۔اس طریقہ سے کچھ اور ہی چیز بن گی۶ ،ہم خود بھی اسے کچھڑی کہنے سے گھبراے۶،نہ گھی نظر آرہا ہے ،نہ گرم مصالحے ،کہیں نرم کہیں ادھ پکے،اف توبہ ،یہ کیا غضب ہوا ہم سر پکڑ کر رہ گے۶،ہم نے اسکو یونہی رکھدیا ۔
ہم نے سوچا اب ہم روٹی بنا لیتے ہیں وہ کونسا مشکل کام ہے ۔ہم نے آٹا لیا اور جگ بھر پانی انڈیل دیا ،اور آٹا گوندھنے لگے۔لیکن آٹا پانی زیادہ ہونے کی وجہہ سے لی۶ بنگیا تھا اور ہمارے ھاتھ گیلے آٹے میں لتھڑے ہو ے۶ تھے۔
اب سالن بنانے کی باری تھی ہم نے انڈوں کو ابالنے کے لے۶ رکھا ،انڈے ابل کم غصہ سے کھول زیادہ رہے تھے،وہ پتیلی سے باہر نکلنے کی کوشش میں تھے کیوں ہمیں کچا چبانے کے لے۶ شاید ۔ہم نے ڈر کے مارے گیس ہی بند کردی۔
اب ہم نے سوچا گاجر کا حلوہ بنا لیتے ہیں ۔گاجر کے حلوہ کا خیال آتے ہی امی کے ھاتھ کا بنا لذیذ میٹھا خوشبو بگھارتا گاجر کا حلوہ نظروں میں پھر گیا۔ہم نے سوچا اب ہم تو ایسا گاجر کا حلوہ بنایں گے ایسا بنایں گے سب اپنی انگلیاں چاٹتے رہ جایں گے۔ہمنے گاجروں کو لیا اور کش کرنے کی کوشش کرنے لگے،کوشش یوں کہ پتا نہی کیوں گاجر ہم سے بار بار پھسلتے جارہے تھے،اب ہم جو ذرا غصہ سے چھلنے گے۶ تو ہماری انگلی چھل گی۶،ہمیں غصہ آیا اور ہم نے گاجروں کو کھاکر اس تکلیف کا بدلہ اتار لیا ۔جب ذرا غصہ ٹھنڈا ہوا تو دیکھا آدھے گاجر ختم ہو چکے تھے اور آدھے اپنے حال زار پر ماتم کر رہے تھے ۔اس وقت جب ہم آلو پیاز سے کشتی لڑ رہے تھے اسی وقت بڑے ابا مع افراد خانہ کے آگے۶ ۔بڑے ابا نے ہمیں دیکھا ،بکھرے بال آٹا لگا ہوا بد سلیقگی سے دوپٹہ اوڑھے ہم بڑے ابا کو سلام کرنا ہی بھول گے۶ ۔
کیا نی۶ باورچن رکھے ہو تم لوگ ،بڑے ابا نے ہمارے حلیہ کے پیشنظر پوچھا تھا۔
اف اتنی محنت کرنے کے بعد ملا بھی تو کیا یہ لقب باورچن ،اس کے بعد ہم نے کچن میں جانے ہی سے توبہ کرلی۔ ۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں