ہم اور شاعری
ہیوں تو ہمارا شاعری سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے لیکن ہمارے ایک کرم فرما نے فرمایا کہ آپکا نام بڑا شاعرانہ ہے ۔آپ شاعری کیوں نہیں کرتیں ۔بس انکا فرمانا اور ہمارا شاعری کے میدان میں کودنا لوگوں کے لیے سزا بن گیا۔
شاعری کے لیے کیا چاہیۓ ہوتا ہے ۔ہم نے یوں پوچھا جیسے بریانی کی ترکیب پوچھ رہے ہوں۔
”سب سے پہلے ایک عدد تخلص “ انکا جواب بھی ویسے ہی تھا جیسے کہ رہے ہوں ،”ایک عدد لیموں “
”آپ ہی تجویز کریں “ہم نے بڑے بڑے کہنہ مشق شعرأ کو مات دیتے ہوۓ اس طرح کہا جیسے شاعری تو بس ابلی پڑ رہی ہے ،بس ایک تخلص کی دیر ہے ۔
”پھول،خوشبو ،تتلی ،کیسے ہیں “۔
”یہ تخلص ہیں کہ پروین شاکر کی شاعری ؟“ ہمیں نام پسند نا آۓ۔
”ٹھیک ہے پھر دروازہ ،کھڑکی ،کنڈی رکھ لو “جل کر کہا گیا۔
” ہم انجینیر کی اولاد تھوڑی ہیں کہ اس طرح کے تخلص رکھیں ۔“ ہمارا بھی منہ بن گیا۔وہ خاموش ہوۓ۔ اور ہم شاعروں کے تخلص پر غور و خوض کرنے لگے ۔غالب ،میر ،اقبال تک تو ٹھیک ہی تھے مگر داغ ،یہ بھی کو ٸ تخلص ہوا بھلا ،کیا پتا انکی زوجہ کپڑے صحیح نا دھو تی ہوں تو انہوں نے جل کر اپنا تخلص ہی داغ رکھ لیا ہو ،اور یہ جگر ، ہو نا ہو ،انہیں تو جگر کا عارضہ ہوگا تبھی انہوں نے یہ تخلص رکھا ہوا اور ویسے بھی پینے سے جگر کا عارضہ تو ہونا ہی تھا ۔
ہمیں پھر جوش یاد آۓ ۔پتا نہیں انہیں کس بات کا جوش تھا ۔ساری شاعری جوشیلے جذبات سے بھری پڑی ہے ۔سارے ملک میں انقلاب انہوں نے ہی لانا تھا جیسے ہونہہ .........۔
اب یہ جون ایلیا۶ ہی کو لیں ،اتنا حلیہ بگڑا ہوا ،بال پیشانی پر بکھرے ،یہ اپنی جون میں واپس نہیں آپاتے ہونگے ،تبھی جون نام رکھ لیا ۔اب کچھ شاعروں نے اپنے نام کے آگے اپنے شہر ،گاٶں کا نام لگا یا ہو ا تھا ،جیسے جگر مرادآبادی ،جوش ملیح آبادی ،فانی بدایوانی وغیرہ وغیرہ ،اب کیا ضرورت تھی بھٸ ،شہروں کے نام لگانے کی ،کیا کہیں بھاگے جا رہے تھے انکے شہر ،گاٶں ،نام کے ساتھ دم چھلا بنا کر چھوڑ دیا تھا۔کیا اپنے نام کم پڑ رہے تھے ،جو شہر کے بھی لگالیۓ۔خیر ،اب ہمیں کیا شہر کے گاٶں کے قبیلہ کے کسی کے بھی لگالیں ۔کون پوچھنے آۓگا۔ان سب سوچوں سے جان چھڑاکر ہم نے اپنا تخلص ”ہوا“ رکھ لیا۔منفرد کے چکر میں رکھ تو لیا ،مگر ہماری شاعری تھی کہ ہلکی پھلکی ہو کر ہوا ہی میں بکھرنے لگی ۔ہمیں اندیشہ ہوا کہ اسی طرح رہا تو کسی دن ہم اور ہماری شاعری کسی ردی کی ٹوکری میں پایٸں جایٸنگے۔ہم پھر اپنی فریاد لیۓاپنے کرم فرما کے پاس جا پہنچے ۔
”ہماری شاعری میں وزن ہی نہیں“۔
”شاعری کے بھی اوزان ہو تے ہیں ۔ناپ تول کر شعر لکھتے ہیں “وہ ہمیں ہمارے انداذ میں سمجھا نے کی کوششش کرنے لگے۔
اچھا !ناپا تولا جاتا ہے ؟ہم گۓ اور دادا کا ترازو اٹھا لاۓ۔ جسے دیکھ وہ کرم فرما بھنا کر کہنے لگے۔
لایٸۓ لایٸۓ اور پکارٸۓ ٹماٹر پچاس روپیۓکلو ،آلو تیس روپے کلو ،انکے اس انداذ پر ہم کھسیا گۓ۔
اسکے بعد وہ پورے دو گھنٹے ہمیں تقطیع ،بحر وغیرہ سمجھانے لگے ۔اور ہم سر ہلاتے گۓ،جب سر ہلا ہلا کر تھک گۓتو بیزار ہو کر بولے ۔
”اب ہمارے سر میں شدید درد ہو رہا ہے ہم چاۓبنانے جارہے ہیں ۔“
سر تو ہمارا بھی درد کر رہا ہے مگر ہمارا دل آپ کا گلا دبانے کو جی چاہ رہا ہے “۔
دو گھنٹے برباد کر دیۓاور نتیجہ صفر ہی صفر “۔وہ متاسف سے جانے کے لٸۓ اٹھ کھڑے ہوۓاور ہم نے بھی انہیں خدا حافظ کہا اور چل دیۓ۔
ہم نے شاعری لکھنے کے لیۓ جو جو لوازمات ضروری تھے لیۓاور ڈایننگ ٹیبل پر جا کر بیٹھ گۓ۔سب ہنس رہے ہیں ناں کہ لکھنے کے لیۓرایٹنگ ٹیبل چھوڑ ڈایننگ ٹیبل کیوں ؟تو جناب !ہماری عادت ہے ٗجب تک ہم کچھ چٹخارہ دار کھا نا کھا نا لیں کچھ بھی لکھ نہیں سکتے ۔اس لیۓہم نے ڈاییننگ کرسی سنبھالی اورلکھنا شروع کیا ۔لیکن یہ کیا !
ابھی کچھ لکھ بھی نا پاۓ تھے کہ ہچکیوں کی آواز آٸ۔پھر رونے کی آوازیں ،ہم چونک گۓ،جب زرا آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھا تو نظم رو رہی تھی ۔اور اب ہچکیوں پر آگٸ تھی۔قریب میں غزل صاحبہ بھی بال کھو لے بیٹھی تھیں ۔اس نے بھی رونے کا منہ بنایا تھا۔
”اررر ے ،کیا ہوا ، رونا دھونا کیوں مچایا ہوا ہے “ہم نے نظم کو غصہ سے دیکھا۔
ہم پر رحم کر و “ نظم منہ بسور کر بولی ۔
ہم کو مت چھیڑو ورنہ ہم تمہاری جان لے لینگے“غزل نے جیسے دہاٸ دی ۔
ہم ان دونوں کو ابھی سنبھال بھی نا پاۓتھے کہ قریب بیٹھے ہماری غزل کے ردیف ،قافیہ گتھم گتھا ہوۓ۔وہ دونوں ایک دوسرے کو مکے مارنے لگے ۔
اففوہ ،تم لوگ “ہم نے دونوں کو بڑی مشکل سے الگ کیا اور پھر روتی ہوی نظم ،غزل کو دیکھا۔
”کیا ،کہ رہی تھیں تم “
ہم نے تمہارا کیا بگاڑا ہے “۔نظم نے منہ بنایا۔اسکا ساتھ غزل بھی برے برے منہ بنا کر دینے لگی۔
”تو میں نے بھی کیا بگاڑا تمہارا “ہمیں بھی غصہ آیا ۔
تم ،تم نے تو ہمارا ستیاناس کر دیا “وہ دونوں ہمارے بال نوچنے لگیں ۔
”جب شاعری کرنی نہیں آۓ تو کیا ضروری ہے کہ ہمارے حلیہ بگاڑو “
لیکن لیکن “ ہم بچتے بچاتے بولنے کی کوشش کرنے لگے ۔
وہ دیکھو ،تمہارے ردیف ،قافیہ ،دونوں پھر سے گتھم گتھا ہوۓ۔ان دونوں نے ہماری توجہ ادھر مبزول کرواٸ۔ہم نے سر تھام لیا ۔
اور اسکو تو دیکھو ،نظم چلاٸ۔ہم نے دیکھا وہ ہمارا تخلص تھا جو خودکشی کرنے جارہا تھا۔۔
اررے کوٸ اسکو روکو “ ہم چلا اٹھے ۔وہ ڈایننگ ٹیبل سے کود کر جان دینے کی کوشش کر رہا تھا ۔ ہم نے اسے جلدی سے پکڑا اور ایک طرف کیا۔
”کیا کر رہے تھے بے وقوف “ہم نے اسے ڈانٹا ۔
میرا نام بدنام مت کرنا ورنہ میں چلا “ وہ ہمارا تخلص ہمیں ہی دھمکی دے رہا تھا
اسکا ساتھ نظم اور غزل بھی دینے لگیں ۔
ہم سچ کہ رہے ہیں تم ہمیں کہیں بھی منہ دکھانے کے قابل نا چھوڑو گی۔
تو اب کیا کریں ہم “ ہم نے ان سب کے سامنے جیسے ہتھیار ڈال دٸۓ ۔
”لکھو ۔ “
” کیا “ ہم نے قلم پکڑا
”شاعری سے توبہ “ ۔
بس اس دن سے ہم نے شاعری کی تمام اصناف سے توبہ کرلی ہے ورنہ شاعری کے میدان میں ہمارے خلاف اعلان بغاوت ہوسکتا ہے ۔
ختم شد
ہمیں پھر جوش یاد آۓ ۔پتا نہیں انہیں کس بات کا جوش تھا ۔ساری شاعری جوشیلے جذبات سے بھری پڑی ہے ۔سارے ملک میں انقلاب انہوں نے ہی لانا تھا جیسے ہونہہ .........۔
اب یہ جون ایلیا۶ ہی کو لیں ،اتنا حلیہ بگڑا ہوا ،بال پیشانی پر بکھرے ،یہ اپنی جون میں واپس نہیں آپاتے ہونگے ،تبھی جون نام رکھ لیا ۔اب کچھ شاعروں نے اپنے نام کے آگے اپنے شہر ،گاٶں کا نام لگا یا ہو ا تھا ،جیسے جگر مرادآبادی ،جوش ملیح آبادی ،فانی بدایوانی وغیرہ وغیرہ ،اب کیا ضرورت تھی بھٸ ،شہروں کے نام لگانے کی ،کیا کہیں بھاگے جا رہے تھے انکے شہر ،گاٶں ،نام کے ساتھ دم چھلا بنا کر چھوڑ دیا تھا۔کیا اپنے نام کم پڑ رہے تھے ،جو شہر کے بھی لگالیۓ۔خیر ،اب ہمیں کیا شہر کے گاٶں کے قبیلہ کے کسی کے بھی لگالیں ۔کون پوچھنے آۓگا۔ان سب سوچوں سے جان چھڑاکر ہم نے اپنا تخلص ”ہوا“ رکھ لیا۔منفرد کے چکر میں رکھ تو لیا ،مگر ہماری شاعری تھی کہ ہلکی پھلکی ہو کر ہوا ہی میں بکھرنے لگی ۔ہمیں اندیشہ ہوا کہ اسی طرح رہا تو کسی دن ہم اور ہماری شاعری کسی ردی کی ٹوکری میں پایٸں جایٸنگے۔ہم پھر اپنی فریاد لیۓاپنے کرم فرما کے پاس جا پہنچے ۔
”ہماری شاعری میں وزن ہی نہیں“۔
”شاعری کے بھی اوزان ہو تے ہیں ۔ناپ تول کر شعر لکھتے ہیں “وہ ہمیں ہمارے انداذ میں سمجھا نے کی کوششش کرنے لگے۔
اچھا !ناپا تولا جاتا ہے ؟ہم گۓ اور دادا کا ترازو اٹھا لاۓ۔ جسے دیکھ وہ کرم فرما بھنا کر کہنے لگے۔
لایٸۓ لایٸۓ اور پکارٸۓ ٹماٹر پچاس روپیۓکلو ،آلو تیس روپے کلو ،انکے اس انداذ پر ہم کھسیا گۓ۔
اسکے بعد وہ پورے دو گھنٹے ہمیں تقطیع ،بحر وغیرہ سمجھانے لگے ۔اور ہم سر ہلاتے گۓ،جب سر ہلا ہلا کر تھک گۓتو بیزار ہو کر بولے ۔
”اب ہمارے سر میں شدید درد ہو رہا ہے ہم چاۓبنانے جارہے ہیں ۔“
سر تو ہمارا بھی درد کر رہا ہے مگر ہمارا دل آپ کا گلا دبانے کو جی چاہ رہا ہے “۔
دو گھنٹے برباد کر دیۓاور نتیجہ صفر ہی صفر “۔وہ متاسف سے جانے کے لٸۓ اٹھ کھڑے ہوۓاور ہم نے بھی انہیں خدا حافظ کہا اور چل دیۓ۔
ہم نے شاعری لکھنے کے لیۓ جو جو لوازمات ضروری تھے لیۓاور ڈایننگ ٹیبل پر جا کر بیٹھ گۓ۔سب ہنس رہے ہیں ناں کہ لکھنے کے لیۓرایٹنگ ٹیبل چھوڑ ڈایننگ ٹیبل کیوں ؟تو جناب !ہماری عادت ہے ٗجب تک ہم کچھ چٹخارہ دار کھا نا کھا نا لیں کچھ بھی لکھ نہیں سکتے ۔اس لیۓہم نے ڈاییننگ کرسی سنبھالی اورلکھنا شروع کیا ۔لیکن یہ کیا !
ابھی کچھ لکھ بھی نا پاۓ تھے کہ ہچکیوں کی آواز آٸ۔پھر رونے کی آوازیں ،ہم چونک گۓ،جب زرا آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھا تو نظم رو رہی تھی ۔اور اب ہچکیوں پر آگٸ تھی۔قریب میں غزل صاحبہ بھی بال کھو لے بیٹھی تھیں ۔اس نے بھی رونے کا منہ بنایا تھا۔
”اررر ے ،کیا ہوا ، رونا دھونا کیوں مچایا ہوا ہے “ہم نے نظم کو غصہ سے دیکھا۔
ہم پر رحم کر و “ نظم منہ بسور کر بولی ۔
ہم کو مت چھیڑو ورنہ ہم تمہاری جان لے لینگے“غزل نے جیسے دہاٸ دی ۔
ہم ان دونوں کو ابھی سنبھال بھی نا پاۓتھے کہ قریب بیٹھے ہماری غزل کے ردیف ،قافیہ گتھم گتھا ہوۓ۔وہ دونوں ایک دوسرے کو مکے مارنے لگے ۔
اففوہ ،تم لوگ “ہم نے دونوں کو بڑی مشکل سے الگ کیا اور پھر روتی ہوی نظم ،غزل کو دیکھا۔
”کیا ،کہ رہی تھیں تم “
ہم نے تمہارا کیا بگاڑا ہے “۔نظم نے منہ بنایا۔اسکا ساتھ غزل بھی برے برے منہ بنا کر دینے لگی۔
”تو میں نے بھی کیا بگاڑا تمہارا “ہمیں بھی غصہ آیا ۔
تم ،تم نے تو ہمارا ستیاناس کر دیا “وہ دونوں ہمارے بال نوچنے لگیں ۔
”جب شاعری کرنی نہیں آۓ تو کیا ضروری ہے کہ ہمارے حلیہ بگاڑو “
لیکن لیکن “ ہم بچتے بچاتے بولنے کی کوشش کرنے لگے ۔
وہ دیکھو ،تمہارے ردیف ،قافیہ ،دونوں پھر سے گتھم گتھا ہوۓ۔ان دونوں نے ہماری توجہ ادھر مبزول کرواٸ۔ہم نے سر تھام لیا ۔
اور اسکو تو دیکھو ،نظم چلاٸ۔ہم نے دیکھا وہ ہمارا تخلص تھا جو خودکشی کرنے جارہا تھا۔۔
اررے کوٸ اسکو روکو “ ہم چلا اٹھے ۔وہ ڈایننگ ٹیبل سے کود کر جان دینے کی کوشش کر رہا تھا ۔ ہم نے اسے جلدی سے پکڑا اور ایک طرف کیا۔
”کیا کر رہے تھے بے وقوف “ہم نے اسے ڈانٹا ۔
میرا نام بدنام مت کرنا ورنہ میں چلا “ وہ ہمارا تخلص ہمیں ہی دھمکی دے رہا تھا
اسکا ساتھ نظم اور غزل بھی دینے لگیں ۔
ہم سچ کہ رہے ہیں تم ہمیں کہیں بھی منہ دکھانے کے قابل نا چھوڑو گی۔
تو اب کیا کریں ہم “ ہم نے ان سب کے سامنے جیسے ہتھیار ڈال دٸۓ ۔
”لکھو ۔ “
” کیا “ ہم نے قلم پکڑا
”شاعری سے توبہ “ ۔
بس اس دن سے ہم نے شاعری کی تمام اصناف سے توبہ کرلی ہے ورنہ شاعری کے میدان میں ہمارے خلاف اعلان بغاوت ہوسکتا ہے ۔
ختم شد
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں