غزل
روے۶ گل شرم سے یوں لال ہوا جاتا ہے
رخ ماہ جبین حیا سے لال ہوا جاتا ہے
ترک تعلق کی جو اگر بات آپ نے کی
چہرہ ہمارا غصہ سے لال ہوا جاتا ہے
غم زیست کا حاصل ہو تو کیا ہو
آنکھ سے گر کر قطرہ لال ہوا جاتا ہے
سفر ماضی کی کیا روداد کہیں
آنکھوں سے بیاں حال ہوا جاتا ہے
کٹھن سفر ہوتو ہو مگر ہو ختم بھی
آس امید ہے پر دل بے حال ہوا جاتا ہے
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں