میں سورج ہوں
میں سورج ہوں
رات کے شاید آٹھ بجے ہونگے تبھی کھڑکی پر دستک ہو ٸ ۔ہم حیران کہ کھڑکی پر دستک کون دیتا ہے” ۔کون “ہم نے پوچھا ۔
”میں سورج ہوں “ جواب آیا ۔ ”تو ،ہم کیا کریں “ ہم نے چڑ کر کہا ۔
”اور ویسے بھی یہ کوٸ وقت ہے آنے کا ،صبح آجانا “ہم نے سورج کے ساتھ فقیروں سے بھی زیادہ بد تر سلوک کرتے ہوۓ کہا ۔لو پہلے ہی گرمی سے دماغ خراب ہو رہا ہے اور یہ جناب ہیں کہ ”میں سورج ہوں “کی گردان لگاۓبیٹھے ہیں ۔سورج ہو تو سورج ہی رہو ناں چاند بنکر راتوں میں کیوں آۓہو ۔ ہم دل ہی دل میں پیچ وتاب کھاتے ہوۓ سوچ رہے تھے ۔
”صبح تو میں بغیر اجازت کے بھی آجاتا ہوں ۔مجھے تم سے بات کرنی تھی “۔سورج لجاجت سے یوں بولا کہ ہمارا دل گرمیوں کے مکھن کی طرح پگھل گیاکہہ تو صحیح رہا تھا صبح اس نے کون سا ہماری اجازت لیکر طلوع ہو نا تھا صبح ہوتے ہی بے شرموں کی طرح آجا نا ہے ۔ ہم نے کھڑکی کھول دی تو سورج صاحب بڑے کروفر سے صوفہ پر جا کر بیٹھے پیلا پیلا دوشالہ اوڑھے ۔
”او یہاں اسٹول پر بیٹھو ،دن میں آپکی من مانی چل سکتی ہے رات میں نہیں “ہم نے سوچا سورج کو اسکی اوقات یاد دلا دیتے ہیں ویسے بھی وہ دن میں ہمیں ہماری اوقات یاد دلاتا رہتا ہے ۔بیچارہ سورج ہماری بات مان کر دبک کر بیٹھ گیا اسٹول پر ۔ہم نے چشمہ نکالا اور پہن لیا ہم سورج سے آنکھ ملاکر بات کرنا چاہ رہے تھے ۔
”میں نے سنا تم نے محکمہ موسمیات کو خط لکھا اور مجھے نوکری سے نکالنے کی بات کی “سورج اپنے مدعے پر آیا تو ہمیں بھی یاد آیا کہ واقعی ہم نے ایک ایسا خط لکھا تھا
”ہاں تو اور کیا کریں، کیا کریں ہم، تم ہی بتاٶ جس موسم میں مانسون کی آمد ہو نا تھی ۔بارش برسنا تھا تم قہر ڈھارہے ہو “ہم نے سورج کو قہر برساتی نظروں سے دیکھا ۔”اب کل ہی ایک معصوم نے پوچھا کہ مانسون کب آتا ہے اور ہم نے رٹے رٹاۓانداز میں جواب دیا کہ” جون میں آ تا ہے“ اس بچے نے یہ کہہ کر ہمیں لاجواب کر دیا کہ” اب تو جولاٸ آگیا ہے کیا مانسون گھاس چرنے گیا ہے ۔جو گرمی ہی گرمی ہے ۔“اب بتاٶ تم ہمیں کیا وضاحت دوگے بلکہ تم اور محکمہ موسمیات دونوں فیصلہ کر لو کہ آخر مانسون کب ہو گا کیونکہ بچپن سے یہی سنتے آرہے تھے اب تو موسمیات کو اپنی لغت میں مانسون کے لیۓدوسری تعریف لکھنی ہو گی یا پھر تمہیں اپنے کام سے استعفی دینا ہو گا۔ہم بنا فل اسٹاپ کے بولتے چلے گۓ
”آخر کہنا کیا چاہتی ہو تم سارا قصور میرا ہے تم انسانوں کا نہیں“ سورج کو بھی تاٶآگیا
ہاں تو بارش کا مہینہ ہے اور بارش ندارد ، اور تم ہوکہ اوور ٹایم کر رہے ہو اس لیے کہہ رہے ہیں کہ استعفی دے دو اپنی جاب سے “
”میں اپنی خوشی سے نہیں کر رہا یہ اوور ٹایم “وہ منہ بنا کر بو لا ۔
”تو “ ہم نے تیوری چڑھاٸ
بارش کا آجکل بادلوں سے بریک اپ ہو گیا ہے بارش روٹھ کر پہاڑوں میں جا بیٹھی ہے بادل روز منانے تو جا رہا ہے پر بارش مان ہی نہیں رہی ۔“سورج نے ایک ٹھنڈی سانس لی ۔(رات تھی ناں اس لیے )
”ہاں تو بادلوں کی آوارہ گردی کسے بھاۓگی “ جب دیکھو ادھر ادھر نین مٹکا کرتے پھرتے ہیں “ ہم نے بھی بادلوں کو کوسا۔
اور یہ سردی آج کل کیا کر رہی ہے “ہم نے لگے ہاتھوں سردی کی خیریت بھی جاننا چاہی ۔
”میرے سامنے اسکی کو ٸ مجال نہیں جو وہ پر بھی مارے، ہوگی کہیں کونے کھدروں میں چھپی بیٹھی “سورج نے ازلی طنطنہ سے کہا۔
”اور بہار ،خزاں کیا کر رہی ہیں“ ”وہ تو سدا کی لڑاکو بہار کو خزاں سے چڑ اور خزاں بہا ر سے نالاں ۔بہار کو ہرا رنگ پسند تو خزاں پیلے پر جان چھڑکتی ہے دونوں رنگوں کو لیکر لڑتی ہی رہتی ہیں “سورج نے بھی تفصیلی جواب دیا ۔
”اور گرمی “
”گرمی تو میری پرسنل سیکریٹری ہے “سورج شرماۓ انداز میں بولا ۔
”اسی لیے اسکا دماغ ساتویں آسمان پر رہتا ہے ڈگری یافتہ جو ٹہری “ہم نے جل کر کہا ۔
” اور بجلی ۔ وہ تو نظر ہی نہیں آرہی “
”بجلی کا تو تمہیں پتا ہے ۔وہ پارٹیز کی شوقین ۔کسی نا کسی پارٹی میں جاتی ہے اور بجلی گرا کر آتی ہے “۔سورج نے آہ بھر ی ۔
اور ایک بات تو بتاٶ “ہم نے اسے گھورا ۔
تمہیں غصہ کس بات کا ہے اتنا ، لےکے ہم سب کو ایک جہنم جیسا ماحول کی یاد دلادی ہے ۔جب دیکھو تم آگ کا گولہ بنے پھر رہے ہو ۔اور کچھ کام وام نہیں ہے جو روز صبح صبح آجاتے ہو ، “ ہم نے سورج کو لتاڑا تو اسکو بھی شدید غصہ آیا ۔
”تم بار بار مجھ پر الزام دھر رہی ہو بغیر کسی ثبوت کے ،اپنے آپ کو تو دیکھو “ ”تم لوگ خود ہی ماحول بگاڑ رہے ہو اور الٹا الزام ہم پر دھر تے ہو۔“
”ہاں ۔اب تم کہوگے کہ ہم نے جو جنگلات کاٹے اور جو ماحولیاتی آلودگی وغیرہ پیدا کی تم اب اسکے بارے میں کہو گے ہیں ناں “
نہیں وہ سب تو پرانی باتیں ہو یٸں ۔تم لوگ اپنے اعمال دیکھ لو “ جھوٹ ،دھوکہ بد کاریاں اور قتل و غارت گری ،کونسے برے کام نہیں جو تم لوگ کر رہے ہو ۔“ ”پرسوں شیطان ملا تو وہ بھی کہ رہا تھا کہ ”یار ! رمضان میں تو میں چھٹی پر تھا پھر اتنے برے کام انسانوں نے کیسے کیۓ “اب انسانوں کو بھٹکانے کے لیے شیاطین کی ضرورت باقی نہیں رہی ۔ایک انسان ہی کافی ہے ہماری کمی پوری کرنے کے لیے “وہ سگریٹ کے کش لگاتا مجھ سے بولا تھا اور میں سواۓہاں کے کچھ بول ہی نا سکا ۔سورج کی بات پر ہم گڑ بڑا کر رہ گۓ ۔
”کچھ نیک لوگ بھی تو ہیں ،بزرگ ،بچے اور بے زبان جانور ان پر تو رحم ہو “ ہم نے پست آواز میں کہا ۔
”بس جو تھوڑی بہت بارش ہو تی ہے وہ صرف ان ہی لوگوں کے لیے ہو تی ہے ۔ورنہ تم لوگوں کے اعمال کو دیکھ کر تو دل جلا کر بھسم کرنے کو چاہتا ہے ۔“ سورج ابھی بھی تپا ہوا تھا۔
” اور کچھ نہیں تو بریک ہی لے لو کچھ دنوں کے لیے “ اب ہم نرم پڑ چکے تھے ۔
”تم لوگوں نے رمضان جیسے مہینے میں بریک نہیں لیا تو میں کیوں لوں “ وہ اٹھا ۔
”جا رہا ہوں ۔امید ہے تم اپنی درخواست واپس لے لو گی“وہ جا چکا تھا “ہم نے اپنے گلاس اتار لیےتھے اب ہم سورج سے آنکھ ملانے کے قابل نہیں رہے تھے ۔۔
ختم شد
”
”او یہاں اسٹول پر بیٹھو ،دن میں آپکی من مانی چل سکتی ہے رات میں نہیں “ہم نے سوچا سورج کو اسکی اوقات یاد دلا دیتے ہیں ویسے بھی وہ دن میں ہمیں ہماری اوقات یاد دلاتا رہتا ہے ۔بیچارہ سورج ہماری بات مان کر دبک کر بیٹھ گیا اسٹول پر ۔ہم نے چشمہ نکالا اور پہن لیا ہم سورج سے آنکھ ملاکر بات کرنا چاہ رہے تھے ۔
”میں نے سنا تم نے محکمہ موسمیات کو خط لکھا اور مجھے نوکری سے نکالنے کی بات کی “سورج اپنے مدعے پر آیا تو ہمیں بھی یاد آیا کہ واقعی ہم نے ایک ایسا خط لکھا تھا
”ہاں تو اور کیا کریں، کیا کریں ہم، تم ہی بتاٶ جس موسم میں مانسون کی آمد ہو نا تھی ۔بارش برسنا تھا تم قہر ڈھارہے ہو “ہم نے سورج کو قہر برساتی نظروں سے دیکھا ۔”اب کل ہی ایک معصوم نے پوچھا کہ مانسون کب آتا ہے اور ہم نے رٹے رٹاۓانداز میں جواب دیا کہ” جون میں آ تا ہے“ اس بچے نے یہ کہہ کر ہمیں لاجواب کر دیا کہ” اب تو جولاٸ آگیا ہے کیا مانسون گھاس چرنے گیا ہے ۔جو گرمی ہی گرمی ہے ۔“اب بتاٶ تم ہمیں کیا وضاحت دوگے بلکہ تم اور محکمہ موسمیات دونوں فیصلہ کر لو کہ آخر مانسون کب ہو گا کیونکہ بچپن سے یہی سنتے آرہے تھے اب تو موسمیات کو اپنی لغت میں مانسون کے لیۓدوسری تعریف لکھنی ہو گی یا پھر تمہیں اپنے کام سے استعفی دینا ہو گا۔ہم بنا فل اسٹاپ کے بولتے چلے گۓ
”آخر کہنا کیا چاہتی ہو تم سارا قصور میرا ہے تم انسانوں کا نہیں“ سورج کو بھی تاٶآگیا
ہاں تو بارش کا مہینہ ہے اور بارش ندارد ، اور تم ہوکہ اوور ٹایم کر رہے ہو اس لیے کہہ رہے ہیں کہ استعفی دے دو اپنی جاب سے “
”میں اپنی خوشی سے نہیں کر رہا یہ اوور ٹایم “وہ منہ بنا کر بو لا ۔
”تو “ ہم نے تیوری چڑھاٸ
بارش کا آجکل بادلوں سے بریک اپ ہو گیا ہے بارش روٹھ کر پہاڑوں میں جا بیٹھی ہے بادل روز منانے تو جا رہا ہے پر بارش مان ہی نہیں رہی ۔“سورج نے ایک ٹھنڈی سانس لی ۔(رات تھی ناں اس لیے )
”ہاں تو بادلوں کی آوارہ گردی کسے بھاۓگی “ جب دیکھو ادھر ادھر نین مٹکا کرتے پھرتے ہیں “ ہم نے بھی بادلوں کو کوسا۔
اور یہ سردی آج کل کیا کر رہی ہے “ہم نے لگے ہاتھوں سردی کی خیریت بھی جاننا چاہی ۔
”میرے سامنے اسکی کو ٸ مجال نہیں جو وہ پر بھی مارے، ہوگی کہیں کونے کھدروں میں چھپی بیٹھی “سورج نے ازلی طنطنہ سے کہا۔
”اور بہار ،خزاں کیا کر رہی ہیں“ ”وہ تو سدا کی لڑاکو بہار کو خزاں سے چڑ اور خزاں بہا ر سے نالاں ۔بہار کو ہرا رنگ پسند تو خزاں پیلے پر جان چھڑکتی ہے دونوں رنگوں کو لیکر لڑتی ہی رہتی ہیں “سورج نے بھی تفصیلی جواب دیا ۔
”اور گرمی “
”گرمی تو میری پرسنل سیکریٹری ہے “سورج شرماۓ انداز میں بولا ۔
”اسی لیے اسکا دماغ ساتویں آسمان پر رہتا ہے ڈگری یافتہ جو ٹہری “ہم نے جل کر کہا ۔
” اور بجلی ۔ وہ تو نظر ہی نہیں آرہی “
”بجلی کا تو تمہیں پتا ہے ۔وہ پارٹیز کی شوقین ۔کسی نا کسی پارٹی میں جاتی ہے اور بجلی گرا کر آتی ہے “۔سورج نے آہ بھر ی ۔
اور ایک بات تو بتاٶ “ہم نے اسے گھورا ۔
تمہیں غصہ کس بات کا ہے اتنا ، لےکے ہم سب کو ایک جہنم جیسا ماحول کی یاد دلادی ہے ۔جب دیکھو تم آگ کا گولہ بنے پھر رہے ہو ۔اور کچھ کام وام نہیں ہے جو روز صبح صبح آجاتے ہو ، “ ہم نے سورج کو لتاڑا تو اسکو بھی شدید غصہ آیا ۔
”تم بار بار مجھ پر الزام دھر رہی ہو بغیر کسی ثبوت کے ،اپنے آپ کو تو دیکھو “ ”تم لوگ خود ہی ماحول بگاڑ رہے ہو اور الٹا الزام ہم پر دھر تے ہو۔“
”ہاں ۔اب تم کہوگے کہ ہم نے جو جنگلات کاٹے اور جو ماحولیاتی آلودگی وغیرہ پیدا کی تم اب اسکے بارے میں کہو گے ہیں ناں “
نہیں وہ سب تو پرانی باتیں ہو یٸں ۔تم لوگ اپنے اعمال دیکھ لو “ جھوٹ ،دھوکہ بد کاریاں اور قتل و غارت گری ،کونسے برے کام نہیں جو تم لوگ کر رہے ہو ۔“ ”پرسوں شیطان ملا تو وہ بھی کہ رہا تھا کہ ”یار ! رمضان میں تو میں چھٹی پر تھا پھر اتنے برے کام انسانوں نے کیسے کیۓ “اب انسانوں کو بھٹکانے کے لیے شیاطین کی ضرورت باقی نہیں رہی ۔ایک انسان ہی کافی ہے ہماری کمی پوری کرنے کے لیے “وہ سگریٹ کے کش لگاتا مجھ سے بولا تھا اور میں سواۓہاں کے کچھ بول ہی نا سکا ۔سورج کی بات پر ہم گڑ بڑا کر رہ گۓ ۔
”کچھ نیک لوگ بھی تو ہیں ،بزرگ ،بچے اور بے زبان جانور ان پر تو رحم ہو “ ہم نے پست آواز میں کہا ۔
”بس جو تھوڑی بہت بارش ہو تی ہے وہ صرف ان ہی لوگوں کے لیے ہو تی ہے ۔ورنہ تم لوگوں کے اعمال کو دیکھ کر تو دل جلا کر بھسم کرنے کو چاہتا ہے ۔“ سورج ابھی بھی تپا ہوا تھا۔
” اور کچھ نہیں تو بریک ہی لے لو کچھ دنوں کے لیے “ اب ہم نرم پڑ چکے تھے ۔
”تم لوگوں نے رمضان جیسے مہینے میں بریک نہیں لیا تو میں کیوں لوں “ وہ اٹھا ۔
”جا رہا ہوں ۔امید ہے تم اپنی درخواست واپس لے لو گی“وہ جا چکا تھا “ہم نے اپنے گلاس اتار لیےتھے اب ہم سورج سے آنکھ ملانے کے قابل نہیں رہے تھے ۔۔
ختم شد
”
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں