اسکیلیٹر برقی زینے

 کچھ لفظ کافی مشکل ہو تے ہیں ۔اب اس لفظ کو ہی لیں ،اسکیلیٹر ،ہے ناں مشکل ،ہم تو ہججے ہی کررہے ہیں ویسے ،زبان ہے کہ بار بار اکسیلیٹر کہے جارہی ہے ۔( کار کا بھوت ابھی اترا نہیں  شاید اس لیۓ)۔ 
اسکیلیٹر یعنی رواں زینہ ،مطلب چلتی ہو ٸ سیڑھیاں ،چلتی ہوٸ ،اب کیا سیڑھیاں بھی چلنے لگیں ،اب یہی باقی رہ گیا تھا ،پہلے زمانے میں سیڑھی چڑھنے کے کام آتی تھی ۔اور اب اس ااسکیلیٹر کو دیکھ کر تو لگ رہا ہے کہ اب سیڑھیاں گرانے کا کام بھی کرنے لگیں ۔یہ بجلی سے جو چلتی ہیں تو نۓآدمی کو اس پر چڑھنا پہاڑ پر چڑھنا برابر ہی لگتا ہے ۔حالانکہ پہاڑ پر چڑھنے سے آدمی کو دم آتا ہے اور اس چلتے زینہ پر چڑھنے سے آدمی کا دم جاتا ہے ۔اس چلتے زینہ کو آدمی کی سہو لت کے لیۓ ہی بنایا گیا ہے ورنہ بندے ہانپتے کانپتے سیڑھیاں چڑھتے اترتے رہتے ۔فلک بوس عمارتیں بناٸ گٸیں تو اسکیلیٹر بھی بنادٸے تاکہ لوگوں کو چڑھنے اترنے سہولت ہو ۔لیکن ...... لوگ اور ہمارے جیسے لوگ ہوں تو چلتے یا رواں زینے گلے کی ہڈی بن جاتے ہیں ۔نا چڑھتے بنے نا اترتے بنے ۔بس سامنے جا یٸں گے اور ایک قدم آگے تو دس قدم پھر پیچھے ۔مطلب کہ ہمت ہی نہیں ہوتی کہ قدم رکھیں اور ایک جست میں اوپر پہنچیں  ،بلکہ ایسا لگتا ہے جیسے ایک قدم رکھینگے اور سیدھا اللہ کے پاس اوپر  پہنچ جاٸینگے ۔ اور اترنے والی سیڑھیاں تو اور ہی خطرناک نظر آتی ہیں ۔یوں لگتا ہے جیسے اب گرے کہ تب ۔چڑھنا اترنا عذاب ہی ہو جاتا ہے جیسے ۔
ایک بار بچوں کے ساتھ ایک شاپنگ مال کو گۓ تو وہاں  یہ موٸ سیڑھیاں تھیں ۔کمبختوں نے جگہ کی قلت کو دیکھتے ہو ۓ بس یہ اسکیلیٹر لگا رکھی تھیں ۔اور ہم جیسے سیدھے سادھے لوگوں کے لیۓ سادی سیڑھیاں ندارد تھیں ۔مطلب غاٸب تھیں  ۔کمبختوں نے آپشن ہی نہیں چھوڑا تھا  لفٹ تو تھی مگر خراب ہو کے بند پڑی تھی ۔بچے ،میاں تو ایک جست  میں چڑھ گۓ ۔اور ہم ہیں کہ ان چلتی سیڑھیوں کو گھورتے جا رہے ہیں ۔اب رکینگی کہ تب ۔  
” ممی ۔ کیا سوچ رہی ہیں ۔بس پیر رکھیٸۓ اور آجاٸیۓ ۔“ اوپر سے بیٹے نے ہلکی آواز لگاٸ۔
ایک تو چلتی سیڑھیاں ،اوپر سے اسکی ریلنگ بھی چلتی ہو ٸ ،پکڑیں تو کیسے ۔پکڑیں ۔ہم نیچے اس سوچ سے پریشان ۔ ایک تو ہاتھ لگانے سے ڈر ہو رہا تھا تو دوسری جانب قدم رکھنے سے ۔
ہم نے قدم بڑھایا پھر ڈر کر پیچھے کر لیا ۔آس پاس دیکھا ۔کٸ جوان لڑکے لڑکیاں اتنے آرام سے چڑھ رہے تھے ۔کچھ خواتین بھی تھیں جو بلکل ڈرے بنا چڑھ رہی تھیں ۔ہم نے انہیں رشک سے دیکھا ۔” کتنی بہادر ہیں ۔ان عورتوں کو تو ملٹری میں ہونا چاہیۓ  ۔ملک کے لیے جان کی بازی لگا دینگی ۔“ ہمارے لیے چلتی سیڑھیوں پر قدم رکھنا ہی بہادری والا کام لگ رہا تھا ۔ ایسی حالت میں ایسی ہی سوچیں آتی ہیں ناں ۔ 
”ممی “ اب بیٹی نے آواز لگاٸ ۔ ”میں آٶں “ 
”پوچھ کیا رہی ہو ،آجاٶ،اس سے پہلے کہ شاپنگ مال میں سب ہمیں گھورنے لگتے ہم نے بیٹی  کو فوراً آنے کے لیے کہا ۔ وہ بندریا کی طرح چڑھتی سیڑھیوں سے نیچے اتر آٸ ۔
”اررررے ،“ہم کہتے ہی رہ گۓ  ۔سمجھ ہی نہیں آیا کہ اسکی تعریف کریں کہ اسکی چوٹی پکڑ کر ماریں ۔”یہ بھی کوٸ طریقہ ہے اترنے کا “ہم نے اسے گھورا ۔
”فاٸن مما“   آپ چلیں میرا ہاتھ پکڑیں اور بس اپنا پیر رکھیں ۔اس نے ہاتھ بڑھایا۔
ہم نے ڈرتے ڈرتے اسکا ہاتھ پکڑا اور اس نے ہمیں کھینچ لیا ۔ہم بھی جلدی سے سنبھلے ۔اب اوپر کی جانب جارہے تھے تو کہیں اور دیکھنے کی ہمت ہی نا ہو ٸ ۔ٹکٹکی باندھے سیڑھیاں ختم ہونے کا انتظار کر رہے تھے ایسے جیسے کہ سیڑھیاں اپنے ساتھ ساتھ ہمیں بھی اندر نا کھینچ لیں ۔جیسے ہی آخری زینہ آیا ہم بے ڈھنگے انداذ میں کودے اور زمین پر اپنے پاٶں جما لیے ۔
”مما ،یہ بھی کوٸ طریقہ ہے اترنے کا ، “ بیٹی نے جیسے اپنا بدلہ اتارا۔
فاین  ۔چلیں اب “ ہم خوش تھے کہ بہرحال اوپر تو آگۓ ۔
”آگیٸں تم ۔مجھے تو لگا کہ پوری مووی ہی ہو جانی پر تم اوپر نا آٶ گی“۔یہ ہمارے میاں تھے، جو بڑے سکون سے ہمیں اوپر آتے دیکھ رہے تھے ۔
”لیکن مووی میں ابھی آدھا گھنٹہ ہے  کیا کریں “ وہ ہم سے پوچھ رہے تھے ۔
آپ ایسا کریں  بچہ اور آپ تھوڑا کپڑوں کے سکشن دیکھ لیں ۔ہم تب تک تھوڑی اور پریکٹس کر لیتے ہیں ۔“
کیا ۔وہ چلاۓ۔ پاگل لگوگی اس طرح سیڑھیاں چلتی اترتی ۔ چپ چاپ چلو ہمارے ساتھ ۔“
آپ جاٸیں ۔ہم تو یہیں ٹہرینگے بلکہ چڑھتے اترتے رہینگے ۔“
ہمارا فیصلہ اٹل ہی ہوتا ہے ۔اس لیے وہ ہمیں بیٹی کے ساتھ چھوڑ کر چلے گۓ۔اب ہم تھے اور زینہ بہ زینہ سفر تھا۔ تقریباً دس بار تو ہم چڑھتے اترتے رہے ۔ڈر بلکل ختم ہو گیا تھا اور اسکی جگہ جوش نے لے لی تھی  ۔کتنا مزہ آتا ہے جب آپ ٹہرے رہیں اور آپکے پیروں کی زمین چلنے لگے ۔ کمال کا تجربہ لگا ہمیں تو ، جب تک میاں جی بچے کے ساتھ آۓ ۔ہم اسکیلیٹر بولنے اور اس پر چڑھنے میں طاق ہو چکے تھے
اس دن  کے بعد ہم سب سے بس یہی بات پوچھنے لگے کہ آپ نے کبھی وہ سیڑھیاں چڑھیں ہیں ہم تو چڑھے بھٸ شروع میں بڑی مشکل ہو ٸ لیکن ہم نے بھی ہمت نا ہاری اور سیکھ لیۓ۔ ہم بڑے فخر سے یوں بتاتے جیسے ایک معرکہ سر کر لیا ہو ۔ اور سچ میں بھی کٸ خواتین نے کہا کہ انہیں ان اسکلیٹر پر چڑھنے سے ڈر لگتا ہے اور وہ باز رہتی ہیں ۔کچھ خواتین ایسی بھی تھیں جو  بلا جھجھک اس پر چڑھ گٸیں تھیں اور یہ بلکل گنوار تھیں ۔کہتے ہیں ناں جہالت کی وجہ سے آدمی بے خوف ہو جاتا ہے ۔شاید اسی کو کہتے  ہوں ۔خیر اتنا جوش کافی تھا ہمارے لیے مگر ہم نے زیادہ جوش دکھایا اور وہ ہمیں راس نا آیا
ہمارے کچھ رشتہ دار عمرہ جارہے تھے  ہمیں انہیں چھورنے ایر پورٹ جانا تھا ۔ہماری فیملی اور یہ رشتہ دار سب ملکر ایر پورٹ روانہ ہو ۓ۔انکی فلاٸٹ سے دو گھنٹہ پہلے ہم گھر سے نکلے تھے چیکنگ وغیرہ ہونے کے بعد وہ لوگ اندر چلے گۓ اورہم سب کو لیکر ہمارے شوہر لفٹ کی طرف بڑھے۔لفٹ میں کٸ لوگ ویسے بھی کھڑے تھے لفٹ کے بلکل سامنے ہی اسکیلیٹر بھی لگاۓ گۓ تھے ۔جس کو دیکھتے ہی ہمارے اندرجوش سا پیدا ہوا اور ہم کسی کو بنا بتاۓ اسکیلیٹر پر چڑھ گۓ اور سیدھا تھرڈ سے سکنڈ فلور پر اترے۔ ہمارے ذہن میں یہی تھا وہ سب بھی یہیں اور جلد آٸنگے ۔ مگر ہماری پھوٹی قسمت کہ وہ لوگ سیدھا کیا الٹا بھی نیچے نہیں اترے بلکہ ہمیں ڈھونڈنے لگ پڑے ”کہاں گٸیں کہاں گٸیں “ کہتے وہیں دیکھنے لگے ۔اور ہم ہیں جو انکے آنے کا انتظار کرتے کرتے پورا گراٶنڈ فلور تک اسکیلیٹر سے چلے گۓ۔یہ سوچکر کہ کہیں سے بھی ان لوگوں کو نیچے ہی آنا ہے ناں ۔اب ٹہرے ہوۓ ہیں اور رستہ تکتے ٹہرے ہیں کہ اب آۓ کہ تب آۓ لیکن کوٸ ایک بندہ نے بھی صورت نا دکھاٸ۔کچھ دیر گذری تو ہمیں گھبراہٹ شروع ہوٸ کہ یہ لوگ ابھی تک آۓ کیوں نہیں ۔کیا کریں ہم سوچتے سوچتے پریشان ہو  گۓپھر خیال آیا فون کرنا چاہیۓ لیکن فون ساتھ تھا نہیں ۔ ہم نےوہاں سے گذرتی ایک عورت سے فون مانگا تو وہ ہمیں سر سے پیر تک گھور کر کر چلی گٸ گھورنا تھا تو گھورتی پر فون تو دیتی کیا اسکا فون لیے ہم کہیں بھاگے جارہے تھے ۔ہم کوفت بھرے انداذ میں سوچنے لگے ۔کتنی بار ہم نے کٸ ایسی خواتین کی مدد کی ہے بلا کسی تردد کے فون پکڑادیتے تھے اور اب ہم خود ایک فون کو ترس رہے تھے ۔۔اب ہم تھوڑا آگے بڑھے تو دیکھا یہ باہر جانے کا رستہ تھا ۔ساتھ ہی کٸ کرایہ کی کاریں ڈرایوروں کے ساتھ ٹہریں تھیں۔ہم وہیں چلے گۓ اور ان میں سے ایک سے ڈرتے ڈرتے فون طلب کیا ۔ ان لوگوں کو شاید انداذہ ہو گیا تھا شایدکہ  ہم اپنے لوگوں سے بچھڑ گۓ ہیں اس لیے فون دے دیا ۔ہم نے جلدی سے اپنے شوہر کو فون ملایا ۔
”کہاں ہو “انکی پریشانی بھری اور غصہ میں بھری آواز آٸ اور ہم تھے کہ پہلے تو لب بستہ  پھر ہم نیچے ہیں نیچے ہیں کی گردان لگانے لگے ۔اتنابڑا ایر پورٹ اور ہمیں یہ بولنے نہیں آرہا تھا کہ ہم اصل میں ہیں کہاں ،
باجی ،آپ میک ڈونلڈ کے پاس ٹہری ہیں کہیۓ اسی اللہ کے بندے نے ہماری پریشانی بھانپتے ہوۓ کہا ۔
ہم نے نظریں اٹھاٸیں تو بڑا سا میک ڈونلڈ کا بورڈ نظر آیا ۔سچ میں گھبراہٹ ہی اتنی تھی کہ اتنا بڑا بورڈ ہمیں نظر نہیں آیا تھا۔
اپنے آپ کو کوستے جلدی سے اس کیفے کا بتایا اور خود ”شکریہ “کہکر آس پاس دیکھنے لگے کہ وہ لوگ کہاں سے وارد ہو تے ہیں ۔
پھر ہمیں میاں جی ،بچے اور بقیہ  لوگ آتے دکھاٸ دیۓ تو جان میں جان آٸ ۔وہ لوگ پیچھےکی سایڈ سے اترے تھے اور ہم سامنے کی سایڈ پرجا پہنچے تھے ۔
ہم نے اس ٹیکسی والے بھاٸ کا پھر سے شکریہ ادا کیا۔ اور گھر کی جانب روانہ ہو ۓ۔
”مما ۔آپ کو کیا سدھرا جو اسکیلیٹر سے اتر گٸیں ۔سیدھا سیدھا لفٹ سے اتر سکتی تھیں ناں “یہ ہمارا بیٹا تھا ۔
” آپ کی مما کو شو کرنا تھاناں کہ انہیں بھی اسکیلیٹر سے چڑھنے اترنے آتا ہے ۔اس لیے  “ یہ میاں جی کی آواز تھی ۔
”ایسی بھی کو ٸ بات نہیں تھی “ہم نے منہ بنا کر کہا ۔ ”ہم سب پریشان ہو گۓ تھے “ بیٹی نے کہا ۔
” لیکن میں نہیں ہوا تھا ۔ سوچ رہا تھا ”گم ہو گٸ کہکر دوسری کر لوں گا “  یہ ہمارے میاں تھے اور اپنے ارادے  ظاہر کر رہے تھے ۔
گاڑی میں بیٹھے دوسرے لوگ مسکرانے لگے۔
”دیکھنا ،سب سے زیادہ تو یہی پریشان ہو ا تھا ۔اسکا بس چلتا تو سارے ایر پورٹ  اتھاریٹی کو دوڑیں لگواتا  ، وہ تو اچھا ہوا تم نے فون کیا ۔ہم تو سمجھ رہے تھے کہ اب شامت آٸ کہ تب “ یہ رشتہ والی بہن تھیں جو ہنس کر بتارہی تھیں ۔
ہمیں انداذہ تھا اس لیۓبنا وقت ضاٸع کۓ فون کیا تھا “ہم کہتے اپنے شوہر کو دیکھا تو وہ باہر دیکھنے لگے ۔
”مما ۔اب آیندہ اسکیلیٹر کو دیکھ کر اتنا جوش و خروش مت دکھایٸۓ گا ۔ لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں “بچہ نے ہمیں وارننگ دی ۔
”صحیح کہا “ ہم نے ٹھنڈی سانس بھری تھی ۔
اس طرح یہ چلتی سیڑھیوں نےہماری زندگی میں یہ آفت مچاٸ تھی ۔
۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ