زبان دراز

”مرزا صاحب !“بیگم کی پکار پر مرزا ہڑبڑا کر اٹھے ۔
”جی“
”یہ دودھ انڈے ،دہی اور گوشت وغیرہ لانے ہیں آپکو ،لے آیۓ“۔بیگم صاحبہ نے انہیں لسٹ تھماٸ۔
”دعوت کر رہی ہوں ،اپنے بھاٸ کی،خیر سے اس نے انجینیرنگ پاس کر لی ہے ۔“
”کتنے سالوں میں ؟“مرزا صاحب کا پوچھنا غضب ہوا ۔
”کتنے بھی سالوں میں کیا ہو مگر انجینیر تو بن گیا ناں وہ “بیگم نے انہیں گھو ر کر دیکھا تو وہ بھی خاموشی کو غنیمت سمجھتے ہوۓ اٹھے اور اپنے حلیہ پر نظر ڈالی ۔سفید بنیان پر دھاری دار پاجامہ پہنے وہ ایک گزیٹڈ افسر تو نظر نہیں آرہے تھے ۔آفس میں ہوتے تو ہر کو ٸ کرسی سے اٹھ کر سلام کرتا تھا ۔اور گھر میں یہ حالت تھی کہ انکے کچھ بولنے کی دیر ہوتی تھی اور انکے پاٶں کے نیچے سے زمین کھینچ دی جاتی تھی ۔کہاں کہ آفس میں وہ زور سے آواز دے کر چاۓمنگاتے ،اور کہاں یہ گھر کا عالم کہ وہ” چوں “   بھی نا کر پاتے ۔آہ اور اف تو آگے کی بات ہوتی سارے گھر میں بیگم صاحبہ کے راٸج کردہ سکے چلتے تھے ۔ملک میں جس کی بھی حکومت ہو ،گھر میں ہر دم بیگم حکومت ہی چلتی تھی ۔بغاوت کے آثار دور دور تک بھی نا تھے ۔مرزا صاحب کے پاس زبان ہی نہیں تھی ۔وہ صداۓاحتجاج کس سے بلند کرتے ۔راوی اور مرزا دونوں خاموش تھے ۔
وہ لسٹ لیکر گۓ اور دودھ انڈے لیے خاموشی سے گھر کو واپس آرہے تھے کہ انہیں یعقوب بھاٸ ملے ۔سلام علیک ہوٸ ۔”کیا مرزا کہاں سے آرہے ہو “ یعقوب بھاٸ نے مسکراتے ہوۓ پوچھا ۔
”آں !کچھ نہیں میاں گھر میں سالے صاحب کی گل پوشی وغیرہ ہے تو بس اسکے لیے نکلا تھا “
”تو ،کیا پک رہا ہے  قورمہ “وہ معنی خیزی سے پوچھ رہے تھے۔
”ہاں “ وہ کہتے ہو ۓ کتراۓ کیونکہ انہیں پتا تھا کہ آگے سے کیا سوال آۓ گا۔
”زبان کا “یعقوب بھاٸ بول کر خود بھی محظوظ ہو ۓ۔
مرزا صاحب نے جیسے دانت پیسے ۔
”جب پتا ہے تو کیوں پوچھ رہے ہو ،بلکہ کہنا چاہیۓ کہ جلے پر نمک کیوں چھڑک رہے ہو “
”ارے بھاٸ ،کبھی تو اپنی مرضی کر لو ،ساری افسری بس آفس ہی کے لیے رکھی ہے کیا ،“۔
اب کیا کروں ،بیگم سے دو دو ہاتھ کر لوں “مرزا بھی تپ کر بولے ۔
”ارے ،اتنا تو کہ ہی سکتے ہو کہ ہمہ وقت زبان  ہی کا قورمہ بناتی ہو کبھی مرغ کا قورمہ ہی بنا لو ۔کیا اس پر بھی پابندی ہے ۔“
دراصل مرزا صاحب کی بیگم کو گوشت وغیرہ کو ٸ چیز اتنی محبوب نا تھی جتنی کہ زبان ،وہ ہر چیز زبان کی ہی بناتی تھیں ۔زبان کا سالن ،تلی ہوٸ ،بھنی ہوٸ بس زبان ہی ہوتی تھی ۔جبکہ مرزا صاحب کو چڑ تھی ان زبانوں سے ۔لیکن وہ بیگم صاحبہ کے سامنے اپنی زبان ہی ہلا نا پاتے۔
محلے میں مشہور ہو گۓتھے وہ لوگ کہ چاہے کوٸ سی بھی دعوت ہو مرزا صاحب کے یہاں زبان ہی پکنی ہے چاہے وہ گاۓکی ہو کہ بکرے کی،
”قبلہ ،آپ گزیٹڈ آفیسر ہو ،ایسا بھی کیا ،ایک بار ہمت جٹالو ،اسکے بعد بس تم ہی تم ہو گے ،کسی کی مجال نہیں کہ وہ تمہاری مرضی کے خلاف کچھ کرے “
”جواں مرد بنو ،ہمت مرداں تو مدد خدا ،
” ہمت پیدا تو کرو ،ہم سب آپکے ساتھ ہیں “ یعقوب بھاٸ نے جنگ آزادی والے سارے نعرے مرزا صاحب کے کانوں میں انڈیل دیۓ  اور خود بیگم کی پکار پر ”جی ،آیا بیگم “کہتے چلے گۓ۔
اب رہے مرزا تو انکو یہ یاد ہی نہیں رہا کہ آزادی ملے سالوں ہو چکے ہیں اور یہ نعرے انکے کام نہیں آنے والے ۔
وہ دھم دھم کرتے گھر میں گھس گۓ ،اور زور سے آواز دی ۔
”بیگم بیگم “
وہ آ کر انہیں اس طرح دیکھنے لگیں جیسے شیر اپنے شکار کو دیکھتا ہے
”کیا ہوا “
یہ سودا سلف لو “بیگم کو دیکھتے ہی آدھی ہوا ہی نکل گٸ مرزا صاحب کے غبارے کی ۔
 بیگم نے جیسے ہی تھیلی کھولی ۔انہیں ٹوٹے انڈے نظر آۓ۔
یہ ٹوٹے انڈوں کا کیا کروں میں اور گوشت کہاں ہے ۔ آواز تو بڑی زور کی لگاٸ تھی ۔”بیگم “ وہ انکے انداز کی نقل اتارتے اتارتے انہیں غصہ سے دیکھنے لگیں ۔
گوشت ؟ “گوشت کیا کہ رہی ہو ،نالایق عورت ،زبان ُ زبان کہو زبان ،مرزا صاحب نے ہمت جٹاکر کہا ۔وہ  قبل آزادی کے جوش کے ساتھ مخاطب تھے ۔
ہر بار زبان ہی پکاتی ہو ،زبان کا میٹھا سالن ،زبان کا قورمہ ،بھنی ہوٸ زبان ،اور تلی ہوٸ بھی زبان ،زبان دراز عورت ! مرزا صاحب نے پورے جوش و جزبہ سے انہیں للکارا۔
شادی کیا کر لی میں نے تجھ سے ،میری تو زبان ہی کاٹ ڈالی اور خود کی زبان ڈیڑھ انچ لمبی کر لی اور پکانے لگی زبان زبان زبان ، کبھی گاۓکی تو کبھی بکرے کی ،بس اب میری زبان پکانی رہ گٸ ہے وہ چلاۓیہ دیکھے بنا کہ بیگم کےہاتھوں میں بیلن موجود ہے ۔
بھاٸ انجینیر بنا تو گل پوشی  یہ  تو پوچھو کتنے سالوں میں بنا ،اسکے سامنے کے بچے انینیر بن کر پانچ سال سے تو نوکری کر رہے ہیں اور یہ اب  بنا ہے انجینیر سالا “
”مرزا صاحب “ بیگم نے ”حملہ “والی للکار کے ساتھ آواز نکالی ۔
” کیا ہے غیبت ،چغلی کی رسیا زبان دراز عورت “مرزا صاحب غیض و غضب کے عالم میں تھے ۔
”آ پ کا ہو گیا   “ انکے انداز پر مرزا صاحب چونک اٹھے ۔انہیں یاد آگیا کہ وہ کس کے سامنے کھڑے ہیں اور یہ بھی کہ آفس میں تو انکی چلتی ہے لیکن گھر میں کبھی نہیں  ۔انہیں یہ بھی یاد آگیا کہ وہ اتنے بہادر نہیں جتنا انہوں نے بیگم کے سامنے ظاہر کیا تھا ۔وہ دل ہی دل میں یعقوب بھاٸ کو کوسنے لگے جنہوں نے انہیں انقلاب لانے کی بات کی تھی یہاں تو بیگم غدر مچا کر بیٹھیں تھیں ۔” منو  منو “وہ اپنے بیٹے کو پکارنے لگیں ۔
آ پ جو کما کر لاتے ہیں اس میں جو بن سکتا ہے وہ میں بناتی ہوں اور زبان درازی تو خیر ہماری یہ عادت خاندانی ہے اور ہم نے اپنی خاندانی عادتوں سے کبھی سمجھوتا نہیں کیا ۔اگر آپ کو اعتراض ہے تو ہم کو بھی غرض نہیں  ۔آپ بخوشی بوریہ بستر سمیٹیۓاور کہیں بھی دفعان ہو جایۓ ۔ کیونکہ یہ  گھر ہمارے ابا جان نے جہیز میں دیا تھا  ۔
(ساتھ دو گز لمبی زبان بھی )مرزا دل ہی دل میں بولے ۔ اب غبارہ کی ساری ہوا نکل گٸ تھی ۔اب سب کچھ دل ہی دل میں کہنا شروع ہو گیا تھا ۔
بیگم  ..... وہ بیگم ......
منو  ارے او منو ذرا وہ ہری مرچیں تو لے آٶ۔“ بیگم پکارنے لگیں ۔
”دیکھو بیگم وہ ہری مرچیں  بہت تیز “مرزا صاحب کی بات ادھوری ہی رہ گٸ ۔منو ہری مرچیں لے آیا تھا ۔
” یہ ہری مرچیں ہیں انہیں دھو دیں اور پیس لیں نمک ملا کر “بیگم نے حکم دیا ۔
بیگم !میں برتن دھو لوں گا ،کپڑے دھو لوں گا مگر یہ ہری مرچ نہیں پیس سکتا ،اس سے ہاتھ بہت جلتے ہیں ۔“مرزا گھگھیاۓ ۔
”زبان نہیں جلی مجھ پر چلاتے ہوۓ “وہ خونخوار نظریں ان پر گاڑ کر بو لیں ۔
امید ہے آیندہ کے لیے اچھا سبق دے جاینگی یہ ہری مرچیں “ وہ اطمینان سے کہتیں اندر چلی گٸں ۔
”ابا ،ابا “منو ان کے پاس آ بیٹھا۔
”یہ ہری مرچ بہت  تیز ہوتی ہے ؟“
”ہاں ۔بلکل تمہاری امی کی طرح “ مرزا صاحب نے ہتھیار ڈالنے والے انداز میں کہا اور خاموش ہو گۓ۔
ختم شد









تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ