نوک جھونک

نوک جھونک
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ میاں بیوی کے رشتہ میں نوک جھونک نا ہو تو رشتہ میں مٹھاس نہیں رہتی۔سچ ہی کہتے ہیں لوگ ویسے ۔اب ہمیں ہی لے لیں ۔ہمارے شوہر کو عادت ہی نہیں کہ وہ ہماری تعریف ہی کریں۔یوں تو سارے ہی شوہروں کو یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ تعریف کرنے میں حد سے زیادہ بخیل پنے کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔حالانکہ دیکھا جاۓتو جاۓ تو بیوی کی صرف ایک بار تعریف کرنے سے شوہر کا ایک ہفتہ آرام سے کٹ جاتا ہے ۔مگر افسوس بیوی کی تعریف نا کر کہ شوہر اپنے ہفتوں کو یونہی برباد کرتے رہتے ہیں۔
اب ہماری ہی مثال لیں ،اس دن پڑوس میں دوپہر کی دعوت تھی۔ہم نے بھی سبز کڑھا ٸ والا کرتا ،سبز چوڑیاں ،سبز موتیوں کا گلے کا سٹ،میچنگ ہیر بینڈ لگاۓ،سبز دوپٹہ لہراتے ادھر ادھر آجارہے تھے۔
یہ طوطا پری کیوں بنی پھر رہی ہو ۔اخبار پڑھتے پڑھتے ہی سوال آیا۔
ٹھیک ہے آموں کا سیزن ہے ۔اس کا یہ مطلب تھوڑی ہے کہ ساری آموں کی مثالیں مجھے ہی دے دیں۔ہم انکی طوطا پری والی مثال پر تپ کر رہ گۓ۔
ڈیابیٹک ہوں ،اس لیۓ آموں کے نام لےلے کر ہی خوش ہوتا ہوں۔ٹھنڈی سی سانس بھر کر کہا گیا۔
ہم ہونہہ کہ کر رہ گۓ۔
بہت بری عادت ہے ویسے آپکی ،کبھی جو ڈھنگ کی تعریف ہی کی ہو،ہمیشہ دل جلانے والا انداز ہوتا ہے۔اتنی محنت سے بیوٹی پارلر سے تیا ہو کر آٸ تھی اس دن مگر آپ نے ایک لفظ نہیں کہا۔ہم بسورے ۔ارے کہا تو تھا ایک لفظ ،
”محترمہ“
”کون ہیں آپ“
وہی تو ،ذرا زیادہ بناٶسنگھار کر لیا کہ پہچاننے ہی سے انکار کر دیتے ہیں۔ہم نے تیکھے پنے سے کہا۔
دیکھو ،سچ بات تو یہ ہے کہ جب تم خوب بناٶسنگھار کرکہ،میک اپ وغیرہ کر کہ میرے سامنے آتی ہو ناں تو کو ٸ اجنبی عورت جیسی محسوس ہو تی ہو،میں تو دیکھتے ہوۓبھی ڈرتا ہوں ۔پتا نہیں تم ہی ہو یا کوٸ اور۔
تو بھر دوسری سجی بنی عورتوں کو اپنی بیوی سمجھ کر دیکھتے ہونگے۔ہم نے بھی تاک کر نشانہ لیا۔
توبہ ہی بھلی،جب اپنی بیوی اپنی نظر نہیں آتی تو دوسری عورتوں کو دیکھنا کیا معنی۔
ویسے بھی دوسروں کی بیویوں کو گھورنا ادب کے خلاف سمجھتا ہوں۔آٸ سمجھ۔
ہمارا نشانہ خطا ہو گیا تھا۔وہ ویسے بھی شریف النفس تھے۔
ہمیں تو تم سیدھی سادھی،سادے کپڑوں میں ،گھر کے کام کرتی ہوٸ ہی اچھی لگتی ہو۔
مطلب برتن دھوتے ہوۓ،کپڑے رگڑ رگڑ کر دھوتے ہوۓ،جالے لیتے ہوۓ،ادرک لہسن کی بدبو کے بھبھوکے اڑاتے ہوۓ،تب اچھے لگتے ہیں۔ہم نے انہیں کھا جانے والی نظروں سے دیکھا۔
ہاں اور کیا،وہ بھولے پنے سے بولے۔
سیدھا سیدھا کہ دیں کہ جمعدارنی بنے اچھے لگتے ہیں۔ہم نے پھاڑ کھانے والے لہجہ میں کہا تو وہ انجان سےہوگۓ۔
تو تم کونسا میری تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملاتی ہو۔تم کیا کوٸ بھی عورت مرد کی اس اندز میں تعریف کرتی ہے ۔وہ کہنے لگے۔
اے جی سنتے ہو ،
آپ کے بال کچھ زیادہ ہی سفید لگ رہے ہیں۔ڈاٸ کروالیں۔یا
چشمہ کا نمبر بڑھ گیا ہے چشمہ بدلوالیں۔یا
آپ تو پورے گاٶ تکیہ لگ رہے ہیں کچھ خوف کریں ۔یا
گنجے بن کر تو آ پ اور زیادہ خوفناک لگ رہے ہیں۔
”تو اور کیا کہنا چاہیۓ ہمیں“ہم مسکراہٹ دبا کر بولے۔
”سمارٹ،کیوٹ،پیارے،“
پیارے سنکر تو ہمیں اچھو لگ گیا۔
آپکی عمر کے مردوں کو پیارے نہیں پختہ عمر کے کہتے ہیں۔ہم ہنس کر بولے۔
اور کیوٹ تو رہنے دیں ،آپ کے چہرے پر اتنی کرختگی ہے کہ لفظ” کیوٹ“ بھی آپ کو دیکھ کر ڈر کر بھاگ جایٸگا۔
اور اگر آپکو اسمارٹ کہا تو گلی کے سارے بچے مجھ پر ہنسینگے۔
”ٹھیک ہے شکل میری امریش پوری جیسی ہے مگر شاہ رخ کہ کر حوصلہ افزاٸ تو کر سکتی ہو۔
”رہنے دیں آپ کو پتا ہے ہم شاہ رخ کے بہت بڑے فین ہیں ۔اس لیۓاسکو اس حد تک گرا نہیں سکتے۔“
اور آپ تو تعریف کے نام پر ہمارا مذاق ہی اڑاتے ہیں ۔
سبز رنگ پہنا تو طوطا پری
نیلا پہنا تو نیلم پری
سرخ تو خطرے کا نشان
سیاہ پہنا تو حکومت  کے خلاف احتجاج پر نکل رہی ہو کیا
سفید پہنا تو ،ارے اتنی جلدی ھتیار ڈال دیۓ۔
صلح کا جھنڈا لہرا رہی ہو۔
گہرا سرمٸ پہنا تو چو ہیا لگ رہی ہو۔حد ہے آپ سے بھی ۔بول بول کر ہم خود ہی تھک گۓ۔
ارے تم نے تو وہ گدھے رنگ کا کچھ  کہا ہی نہیں انہوں نے شریر سے انداز میں ہمیں جیسے یاد دلایا۔ہم تپ کر آس پاس نظریں دوڑانے لگے۔
”کیا ڈھونڈ رہی ہو “
کچھ ایسی چیز ،جسے ہم آپ پر بھینک کر مار سکیں۔“ہمارے جارحانہ تیورکو دیکھ کر وہ ”ارے باپ رے “ کہتے وہاں سے کھسک لیۓ۔
یوں نوک جھونک تو چلتی ہی رہتی ہے ۔
ختم شد


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ