اۓ میرے نصیب کے چاند
آزاد نظم
اۓ میرے نصیب کے چاند
میرے دل کے آنگن میں
اندھیرا ہے بہت
اس لیۓ تو بن کہ
ماہ تمام
میری سونی راہوں میں اجالا بکھیر دے
یا
تیری چاندنی کی کرنیں
اس طرح پھوٹیں جس سے مجھے
راہ سجھا ٸ دے
میری زندگی کی منزل ملے
اۓ میرے رب
تو تو دو جہاں کا رب ہے
خالق ہے
تیرے یہاں کس چیز کی کمی ہے
ایسی خوشی جس میں الم ہی الم ہوں
مجھے منظور نہیں
اس لیۓ مرے خالق
مجھے وہ غم دے
جس سے مجھے خوشی ملے
از نازنین فردوس
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں