قدیم زمانہ کی فن تحریر اور اس زمانہ کی فن تحریر میں زمین آسمان کا فرق ہے۔آج کل کے قلمکار کی تحریر ایسی ہوتی ہے کہ جیسے وہ دنیا سے بیزار ہو چکا ہو،فن تحریر سے اوب گیا ہو،حسرت ویاس کی تصویر ہو گیا ہو ،ناقابل فہم ٹیڑھے میڑھے راستوں کی طرح تحریر ہوتی ہے جسکو پڑھنے والا بھول بھلیوں میں گم ہو کر رہ جاتا ہے ۔
عجیب داستاں یہ کہاں شروع کہاں ختم
سوچتا رہ جاتا ہے۔
اگر دیکھا جاے۶ تو ایک قلمکار کا دایرہ کار بہت وسیع ہوتا ہے۔وہ اپنے قلم سے بہت کچھ کر سکتا ہے زمانہ میں انقلاب لا سکتا ہے ۔ذہنی تربیت دے سکتا ہے۔اذنی تحریر کو مقصد سے آراستہ کر سکتا ہے اسکو مفید بنا سکتا ہے۔مگر آج کا قلمکار ،آج کے قلم کی طرح یوز انڈ تھرو ہو گیا ہے ۔یعنی پڑھو اور بھول جاو۶ ۔تحریر بے مقصد ،غیر دلچسپ،ناقابل فہم ہوگی تو کون قاری اسکو یاد رکھے گا۔آج کے قلمکار کی تحریر ایسی ہوتی ہے کہ بس پہلے اہل قلم اپنی قلم کو تلوار بنا لیتے تھے،سوے۶ ہوے۶ ذہنوں کو جگانے کا کام لیتے تھے ۔نیز قلم سے نشتر کا کام لیتے تھےمعاشرہ میں رائج فرسودہ رسم و رواج اور برایوں کو دور کرنے کے لئے استعمال کرتے تھے۔مگر صاحب آج کا قلمکار،جی ہاں قلم تو اس کے لئے بھی تلوار ہے مگر زنگ آلود تلوار جس کو وہ ایک دوسرے پر نکتہ چینی کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔گویا ایک دوسرے کو کند چھری سے ذبح کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے میں لگا رہتا ہے۔تنقید برائے تنقید کرتا چلا جاتا ہے۔قلم سے شخصی مخاصمت نکالنے میں لگا رہتا ہے۔اور قلم سے ایک دوسرے کی کاوشوں پر نکتہ چینی کرتا ہے۔اور اس لفظی جنگ میں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے سے بھی گریز نہیں کرتا۔
ہمارے اس مضمون کو خدا را غلط نہ سمجھیں،اور نہ قلمکار حضرات اسکو شخصی حملہ سمجھیں۔ہم تو یہ بتانا چاہ رہے ہیں کہ سب سے محترم چیز تو قلم ہے۔قلم کے احترام کا تقاضا یہ ہے کہ اس کچھ با مقصد تحریر کے لیے استعمال کیا جائے۔ورنہ لکھ تو سبھی رہے ہیں مگر حقیقت میں پڑھے کتنے جا رہے ہیں اور یاد رکھنے کے قابل کون قلمکار ہیں یہ کہنا مشکل ہے۔ہمارا تو ماننا ہے کہ سب سے مقدم کام قلم کا احترام ہے۔یہ ہر قلمکار کا فرض ہے۔قلم کے تیں عقیدت کا اظہار کر نا ہے تو اپنے قلم کو نشتر کی طرح سماجی برایوں کے خلاف استعمال کریں۔اپنی تحریر کو بامقصد بنایں ۔قلم سے اپنی منفرد شناخت بنایں۔
کیا پڑھے یاد نہیں رہتا۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں