سنا ہے اسے جگنو ٹھہر کر دیکھتے ہیں مزاحیہ لکھنوی ٹچ

"سنا ہے اسے جگنو ٹھہر کر دیکھتے ہیں" ،نواب صاحب ہلکے ہلکے گنگنانے لگے ۔
"اوئ نوج،کہیں خدانخواستہ کسی بدروح سے تو آپکا سابقہ نہیں پڑا نواب میاں،اے ہم تو کہتے تھے آپکو راتوں میں نا نکلا کریں،دیکھ لیں مصیبت گلے پڑ گئ ناں آخر"
،اماں حضور پاندان سامنے رکھے ان سے مخاطب تھیں ۔نواب صاحب نے بڑی حیرت سے انہیں دیکھا۔
"اماں حضور ،آپ سے التماس ہے کہ وضاحت فرما ئیں کہ یہ بات کس تناظر میں آپ نے فرمائ۔
آ"آپ خود ہی فرما رہے ہیں کہ "،اماں حضور نے سروتے سے چھالیہ کترنا کچھ دیر کے لیے موقوف کردیا۔
آ"آپ کی محبوبہ کو جگنو ٹھہر کر دیکھتے ہیں تو جگنو تو دن میں نظر آتے نہیں،ظاہر ہے رات ہوگی، اور جگنو کا شہر میں کیا کام ،جنگل ،بیابان میں رات کے وقت نظر آتے ہیں جگنو،اب کوئ بدروح جنگل میں چہل قدمی کر رہی ہوگی تو جگنو ٹھہر کر دیکھتے ہونگے ناں ۔نواب میاں،آخر آپ کو جنگلوں میں جانے کی کیا سوجھی،کہہ دیتے ہیں ہم آپ کو،ٹک کر گھر بیٹھیں،ہم کالے بکرے کا صدقہ دیں گے تاکہ آآپ   آفتیں و بلیات سے محفوظ رہیں۔"۔انہوں  نے پھر سے سروتے کی کٹ کٹ شروع کردی تھی۔
اپنے حسین محبوب کا یہ حشر دیکھکر نواب صاحب بس لاحول ولاقوۃ پڑھ پاۓ۔ 

******


نواب میاں دالان کے تخت پر محو استراحت تھے۔اماں حضور بے بو (خادمہ کے ساتھ)گفت و شنید میں
مصروف تھیں۔
سر اہنے میر کہ آہستہ بولو
ٹک روتے روتے سو گیا ہے
نواب میاں کی بڑبڑاہٹ اماں حضور کے گوش گزار ہوئ تو وہ بے بو کو بھیج کر خود انکے پاس آگئیں ۔
ا"اے نواب میاں ہم نے  "،میر"، نام کیا رکھا آپ نے تو حد ہی کردی ،میر تقی میر ہی بن گۓ۔اللہ بخشے ،آپ کے والد محترم کو ،اتنے نامور شاعر تھے کہ کیا بتایئں،بھلا سا کوئ تخلص بھی رکھتے تھے۔جتنے مشہور ہوۓ اتنے گمنام بھی ہوۓ۔لکھنو میں جتنے شعراء ہیں اتنے نان والے نہیں،مگر نان والے جتنا کماتے کھاتے ہیں،اتنا شاعر کما سکتے نہیں ۔"
ا"اماں حضور ،شاعری اور غم روزگار دو مختلف چیزیں ہیں۔" نواب میاں جھلا کر بولے۔
ا"اے میاں زندگی گزر گئ ان دونوں  کے درمیان ،چکی کے دو پاٹ کی طرح پس گۓ۔اب تو اتنی تمنا ہے کہ خیر سے آپ ملازمت پر لگ جائیں  اور زندگی کی شاعری بحر سے خارج نہ ہو بس۔"
آ"آپ میر پڑھیں کہ غالب،مگر حیات جاوداں کا ایک ہی سبق ہوتا ہے اور وہ ہے روٹی ،اندھا کیا چاہے آنکھیں،بھوکا کیا چاہے روٹی،"انکی آواز میں درد سا محسوس ہوا۔
"لکھنؤ والے مشہور ہیں ،آپ آپ کر تے ٹرین چھوڑنے میں،ہم نہیں چاہیں گے  کہ آپ بھی یہ موقعہ گنوادیں،آپ کا انٹرویو ہے اور آپ کو وقت پر پہنچ جانا چاہیۓ ۔اور ساتھ خوشخبری بھی لاو یں۔ یہ نہیں کہ میر تقی میر بن کر آ جائیں۔"اماں حضور ر کی لن ترانی سے نواب صاحب کے چھکے سے چھوٹ گۓ۔
ا"اماں حضور ہم نے آپ کو کبھی شرمندہ نہیں کیا،۔"
آآپ کی ولادت ہی ہمارے لیے شرمندگی کا باعث ہوئ میاں۔‌آپ کہہ رہے تھے 
سرہانے میر کہ آہستہ بولو
 ،ٹک روتے رہتے سو گیا ہے
"کیوں روتے رہتے سو گۓ،دودھ نا ملا تھا یا عادت ہی ہے رونے دھونے کی۔
،۔"ہم آپ کو کہہ دے رہے ہیں سارے لکھنؤ میں   بس ایک  ہی میر ہیں اسکے بعد کوئ میر تقی نا ہوگا،اس لیے آپ شاعری چھو ڑیۓاور غم روزگار میں مصروف ومشغول ہوں آپ کے لیے بہتر ہوگا ۔"
ایہ کہہ کر اماں حضور نے بات ختم کی ۔




تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ