سگھڑ لڑکی ایک مزاحیہ تحریر
سگھڑ لڑکی ۔۔۔۔
" بہن ۔وہ خالہ رشیدہ کی بیٹی کیسی ہے ۔ اپنے فہد کے لیۓ ۔"
" وہ نغمہ ۔رہنے دو ۔ وہ تو بالکل بھی سگھڑ نہیں ہے۔ ۔ "
" کیا سگھڑ نہیں ہے ۔ پھر رہنے دو ۔ کوئ اچھی سگھڑ لڑکی ہو تو بتاؤ ۔ "
" لڑکی خوبصورت ہو اور سگھڑ ہو ۔بس "
" اگر لڑکی سگھڑ نہیں تو رہنے دو ۔اچھی صورت کو لیکر کیا کریں اگر سلیقہ مندی ہی نہیں ۔ "
" سگھڑ لڑکی چاہیۓ ۔ "
سگھڑ لڑکی ۔"
" سگھڑ ،سکھڑ سگھڑ۔۔"
ہم جہاں جاتے ہمارے کانوں میں بس یہی لفظ گونجتے ۔
" سکھڑ لڑکی "
"ارررررے!سگھڑ لڑکی" ۔۔۔ اور آج کے زمانے میں،رہنے دیں ،اس طرح کی کوئ مخلوق آج کل نہیں پائی جاتی۔ہاں کسی زمانے میں اس طرح کی لڑکیاں ہوتی تھیں۔اور انکی بےحد قدر وقیمت تھی۔لیکن آجکل انکا کال پڑ گیا ہے،نجانے زمین کھاگئ کہ آسمان،سگھڑ لڑکیوں کو ڈھونڈنا تو جوۓ شیر لانے کے مترادف ہو گیا ہے۔ویسے سگھڑ لڑکیوں نے شاید ٹھان لیا تھا کہ بس بیسویں صدی تک ہی پیدا ہوناہے اسکے بعد نہیں۔شاید انکی قسم سے ہی ہم جیسے پھو ہڑ پیدا ہوۓتھے۔بلکہ کچھ تو یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ سو پھوہڑ لڑکیاں مری ہونگی تب یہ پیدا ہوئ ہوگی۔اب ہم پیدا ہوئے تو اس میں ہماری غلطی تھوڑی ھے۔ایک تو پیدا ہوئے اور وہ بھی پھوہڑ،اب ہمیں تھوڑی پتا تھا کہ ہم پھوہڑ پیدا ہونے والے ہیں۔اگر اس بارے میں پتا ہوتا تو ہم کچھ احتیاطی تدابیر کے ساتھ پیدا ہوتے۔اب کیا کریں ،اب تو جو ہونا تھا ہوگیا۔
امی کو اب ہمیں سلیقہ مند بنانا تھا ،اس لیے انہوں نے ہمیں سلائ کٹائ کا کام سیکھنے کا مشورہ دیا۔
چلیۓ ،اب اپنے بچپن کی بات کرتے ہیں۔ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات کی طرح ہماراپھوہڑ پن بھی بچپن میں ہی ظاہر ہو نے لگا تھا۔وہ اس طرح کہ جب اسکول جانے کے لیے بال بنانا ہوتا تو بجاۓ امی کے ہاتھوں سے بال بنانے کے ہم خود اپنے بال بنا لیتے تھے۔لیکن جب اسکول جاتے تو ہمارے پیچھے اکثر بچے ہمارے بال دیکھ کر ہنس رہے ہو تے تھے۔ہماری کم عقلی کی بدولت بات بہت دیر سے سمجھ آئ،جب ایک سینیر خیر خواہ نے ہمیں بتایا کہ جب بال بنایا کرو تو پیچھے کے بال بھی اچھی طرح سلجھا لیا کرو،تم سامنےتوبال اچھے بنا لیتی ہو،لیکن پیچھے سے وہ ابابیل کے گھونسلہ نظر آرہا ہو تا ہے۔پیچھے کے بالوں کو بھی کنگھے سےسلجھالیا کرو۔آپ یقین مانیں گھڑوں پانی پر گیا،یہ سوچ کر کہ اتنے دن سے ہم ابابیل کا گھونسلہ سر پر رکھے ،اسکول جارہے تھے۔اس تاریخ سے ہم نے خود سے بال بنانا چھوڑدیا۔۔۔
خیر جیسے تیسے بڑے ہو گۓ ،بڑے ہونے نے ہماری بدسلیقگی پر کوئ اثر نہیں ڈالا بلکہ بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ ہم اور زیادہ پھوہڑ ہو تے گۓ۔ کپڑوں کی الماری اور ہماری کبھی بنی نہیں،ہمیشہ چھتیس کا آنکڑہ رہا۔ہم کپڑے الماری میں ڈھکیلتے،بدلہ میں الماری سارے کپڑے باہر ڈھکیلتی،یہ ڈراما روز چلتا۔کسی دن امی صلح کا فرض نبھانے آجاتیں تو الماری ہم سے ڈھنگ سے پیش آتی لیکن پھر چند دنوں بعد وہی رفتار بے ڈھنگی ،ہماری بھی اور الماری کی بھی۔
الماری کی طرح کچن اور فرج سے بھی ہماری بنتی نہیں،ایک سرد جنگ ہمیشہ سے رہتی ہے۔ادھر فریج میں ہم نے کچھ لاپرواہی سے رکھ چھو ڑا ادھر فریج ہماری لاپرواہی کا ڈھنڈورا پیٹنا شروع کر دیتی۔اور گھر کے سارے بڑے ہمیں ڈھونڈنا شروع کر دیتے۔
ارے،یہ فریج میں خربوزہ رکھ کر بھول گئ ،سارے فریج میں خربوزہ کی بو ہو گئ ،کچھ عقل نہیں اسکو،نجانے کب سدھرے گی ۔(لو بھلا،بگڑی بھی کبھی بنتی ہے )
ہم غصہ سے فریج سے ساری اشیاء نکال پھینکتے اور فریج سے بدلہ لینے کے لیے باڈی اسپرے مار دیتے ،"اور پیدا کر بدبو ،ایسے ہی باڈی اسپرے کرتے رہینگے"۔لیکن فریج بھی ہماری طرح ایک نمبر کی ڈھیٹ،وہ ویسے ہی رہتی جیسے اسکا دل چاہتا۔
ایک بار ایسا ہواکہ ہم ہمارا ویلٹ یعنی بٹوا کہیں بھو ل گۓاب یاد ہی نہیں آرہا کہاں رکھ دیۓ ہیں۔آتے جاتے الماری کھو لتے جاتے ہیں اور بٹوا ڈھونڈ نے لگتے ہیں ۔الماری ہر بار ہمیں منہ چڑانے لگی تھی ۔تھک ہار کر ہم نے پانی پینے کے لیے فریج کھولا تو ویلٹ وہاں رکھا تھا۔سر پیٹنے کو جی چاہا ہمارا،توبہ توبہ ،ان دونوں نے کیسے ملی بھگت سے ہمیں ستایا،ایک طرف الماری تو دوسری طرف فریج،ہم نے بے دھیانی سے بٹوا فریج میں رکھ دیا ،(کیا پتا دھنیا الماری میں رکھ دیا ہو) وہ تو اچھا ہوا،ہم نے ویلٹ فریج میں رکھ۔ دیا اگر مایکرو اوون میں رکھ دیتے تو۔۔۔۔۔۔۔
الماری کی طرح کچن اور فرج سے بھی ہماری بنتی نہیں،ایک سرد جنگ ہمیشہ سے رہتی ہے۔ادھر فریج میں ہم نے کچھ لاپرواہی سے رکھ چھو ڑا ادھر فریج ہماری لاپرواہی کا ڈھنڈورا پیٹنا شروع کر دیتی۔اور گھر کے سارے بڑے ہمیں ڈھونڈنا شروع کر دیتے۔
ارے،یہ فریج میں خربوزہ رکھ کر بھول گئ ،سارے فریج میں خربوزہ کی بو ہو گئ ،کچھ عقل نہیں اسکو،نجانے کب سدھرے گی ۔(لو بھلا،بگڑی بھی کبھی بنتی ہے )
ہم غصہ سے فریج سے ساری اشیاء نکال پھینکتے اور فریج سے بدلہ لینے کے لیے باڈی اسپرے مار دیتے ،"اور پیدا کر بدبو ،ایسے ہی باڈی اسپرے کرتے رہینگے"۔لیکن فریج بھی ہماری طرح ایک نمبر کی ڈھیٹ،وہ ویسے ہی رہتی جیسے اسکا دل چاہتا۔
ایک بار ایسا ہواکہ ہم ہمارا ویلٹ یعنی بٹوا کہیں بھو ل گۓاب یاد ہی نہیں آرہا کہاں رکھ دیۓ ہیں۔آتے جاتے الماری کھو لتے جاتے ہیں اور بٹوا ڈھونڈ نے لگتے ہیں ۔الماری ہر بار ہمیں منہ چڑانے لگی تھی ۔تھک ہار کر ہم نے پانی پینے کے لیے فریج کھولا تو ویلٹ وہاں رکھا تھا۔سر پیٹنے کو جی چاہا ہمارا،توبہ توبہ ،ان دونوں نے کیسے ملی بھگت سے ہمیں ستایا،ایک طرف الماری تو دوسری طرف فریج،ہم نے بے دھیانی سے بٹوا فریج میں رکھ دیا ،(کیا پتا دھنیا الماری میں رکھ دیا ہو) وہ تو اچھا ہوا،ہم نے ویلٹ فریج میں رکھ۔ دیا اگر مایکرو اوون میں رکھ دیتے تو۔۔۔۔۔۔۔
امی کو اب ہمیں سلیقہ مند بنانا تھا ،اس لیے انہوں نے ہمیں سلائ کٹائ کا کام سیکھنے کا مشورہ دیا۔
امی ہم سے مار کٹائ وغیرہ نہیں ہو گی۔ہم نے سرے سے انکار کر دیا۔
ارے،سینے پرونے کی بات کر رہی ہوں۔میں آنٹی سے بات کروں گی۔وہ سنٹر چلاتی ہیں۔تمہارا کچھ تو بھلا ہو گا۔
اب ہمارا بھلا ہونا تھا کہ برا،یہ تو ہم سمجھ نہیں سکے،لیکن بہرحال ہمیں جانا پڑا۔
اب ان آنٹی کو کیا پتا تھا کہ سلوائ وغیرہ میں ہم کتنے کند ذہن ہیں ،تین مہینے تک تو سو ئ میں دھاگہ ڈالنا ہی سیکھتے رہے۔آنٹی کو بھی اندازہ ہو گیا کہ مقابل انہیں ناکوں چنے چبوانے والا ہے۔سلوائ کے معاملہ میں،آخر چھ مہینے گزر گۓانہوں نے ہمیں کپڑا دیا۔اور کہا کہ آپ گلا کاٹیں میں دوسری بچیوں کو دیکھتی ہوں۔تھوڑی دیر کے بعد وہ ہماری طرف پلٹیں،
کیا ہوا،گلا نہیں کاٹا،
جی وہ کسکا گلا؟
جی آپ تو بس اب میرا گلا ہی کاٹ دیں۔انہوں نے جل کر کہا۔غضب خدا کا،چھ مہینے سے آپ کے پیچھے دماغ کھپارہی ہوں ۔اور یہاں سادگی کا یہ عالم ۔توبہ توبہ۔آپ تو بس معاف کر دیں مجھے۔وہ سیدھے سیدھے ہمیں جانے کو کہہ رہی تھیں۔ہم بھی الٹے قدموں گھر آگۓ۔اور آتے ہی چلا کر کہا،ہم سے نہیں ہو گا گلا کاٹنا،جیب کاٹنا،وہ آنٹی تو ہمیں سیدھا سیدھا مجرمہ بنانے پر تل گئ ہیں۔ہماری باتیں سنکر امی تو سر پیٹتے رہ گئیں۔
ایک طرف رمضان کی آمد تو دوسری طرف امی کی طبیعت خراب ہوگئ اور کچن کی ذمہ داری ہمارے نازک کندھوں پر آ پڑی،ہم نے بھی سوچ لیا کہ یہی وقت ہے کچھ کر دکھانے کا،ہم کچن میں سبز انقلاب لانے کے لیے بے چین تھے۔ہم نے برتن اتنے رگڑ رگڑ کر مانجھے کہ وہ پتلے ہو گۓ۔ہم پر اسکا مطلق اثر نا ہوا،پتلے ہوں کہ گاڑھے،ہمیں کیا،ہم نے کندھے اچکاۓ اور بس۔
کچن میں ہماری آمد کے ساتھ ہی کئ قسم کے حشرات نے کچن پر دھاوا بول دیا۔امی کبھی کچن میں جھانکتیں تو ہمیں باتیں سنانے لگتیں۔یہ چوہے دیکھو ،کیسے دندناتے پھر رہے ہیں جیسے کہ انکے باپ کا چمن ہو۔
تم نے تو کچن انکے حوالے ہی کر دیا دیکھو کیسے کود رہے ہیں ۔
تو امی ہم نے انہیں دعوت تھوڑی نا دی ہے۔وہ بن بلاے آگۓ ہیں۔بے غیرت کہیں کے۔ہم نے چوہوں کو کوسا۔
تم جو روٹی کے ٹکڑے،ٹماٹر وغیرہ ادھر ادھر پھینک رہی ہو نا ،وہ انکے لیے دعوت جیسا ہی ہے۔
ارے امی ،آپ بھی ناں، ہم ہنسے۔"وہ تو ہم ایسے ہی ڈال رہے تھے۔اب بیچارے روزی روٹی کے لیے کہاں دھکے کھاتے پھریں گے "۔اس کے جواب میں امی نے جو گھور کر دیکھا تو ہم کھسیا سے گۓ۔وہ بھی اپنی جگہ درست تھیں۔کچن میں زبردست قسم کی حشرات کی فوج نے دراندازی کر دی تھی۔مکڑیاں لینڈ گرابر بنی یہاں وہاں جالے بن کر دیوار وں پر قبضہ کر رہی تھیں۔چیونٹیوں نے الگ ناک میں دم کر رکھا تھا۔وہ ہر میٹھی چیز پر اپنا ہی حق سمجھ رہی تھیں۔شکر پر تو انکا پیدائشی حق ہے ہی مگر آٹے ،چاول پر بھی اپنا حق ملکیت جتا رہی تھیں۔چیونٹیاں تو چیونٹیاں ،مکھی،مچھر ،نے بھی ہمارے کچن پر ہلہ بول دیا تھا۔اور ہم نہتے ان تمام سے نبرد آزما تھے۔
ایسے میں اپیا معہ اپنے دو بچوں کے ساتھ وارد ہوئیں۔بچے کیا تھے آفت کے پر کالے تھے۔نجانے کیا کھا کر پیدا کیا تھا اپیا نے، ہمیشہ کچھ نا کچھ اوٹ پٹانگ کرتے رہتے تھے۔انہوں نے ہمارے ناک میں دم کر دیا تھا۔لیکن بہن کی خاطر برداشت کر رہے تھے ۔لیکن یہی بات وہ بھی بڑے دھڑلے سے کہتے تھے کہ ہم آپکو اپنی ماں کی بہن ہونے کی وجہ سے برداشت کر رہے ہیں ۔یہ سنکر تو ہم نے خوب دھنائ کی تھی ،بدلہ میں امی نے ہماری کھنچائ کردی ،امی سے شکایت جو کردی تھی ان شیطانوں نے،ہم لوگوں کی حرکتیں دیکھ کر ہی اپیا نے اپنے بچوں کو شیطان اور ہمیں شیطان کی خالہ کا لقب دے دیا تھا۔
اس دن بھی ہم جب امی اور اپیا بازار گئیں اور ہم گدھے گھوڑے بیچ کر خواب خرگوش کے مزے لینے کا ابھی سوچ ہی رہے تھے کہ ان شیطانوں نے شور مچایا کہ ہمیں جوس بنا کر دیں ،ہم" کاہلوں کے سردار" ،ہم نے کہا ،ہم سو رہے ہیں خبردار جو ہمیں جگایا تو،جوس ووس پینا ہے تو جاؤ کچن میں جاکر خود بناؤ ۔لیکن ہمیں کیا پتا تھا کہ ہم اپنی شامت اعمال کو دعوت دے رہے ہیں ۔ہم تو سوگۓ اور جب اٹھے تو امی ،اپیا بھی آگئ تھیں ۔ہم نے کچن میں جھانکا ،اپیا نے سب سامان وغیرہ اپنی جگہ پر رکھ دیا تھا گویا کہ اپنے لاڈلوں کے کرتوتوں پر پردہ ڈالا تھا۔ہم نے بھی سکھ چین کی سانس لی ۔اپیا شام تک چلی گئیں اور ہم بہت دیر تک انکے جانے کا جشن مناتے رہے۔لیکن ہمیں یہ پتا نہیں تھا کہ آگے ہمارا بینڈ بجنے والا ہے۔رمضان ختم ہوچکا تھا اور اب عید آگئ تھی امی نے ہمیں حکم دیا کہ شیرخرمہ تم بنا لو میں گھر کی صفائی وغیرہ کر لونگی ۔ہم نے اثبات میں سر ہلایا اور بڑی تندہی سے شیر خرمہ بنانے لگے۔اصلی گھی،مغزیات،اور نمکین سویوں سے بگھار کر شیر خرمہ دم پر رکھا اور خود سارے مہمان کے استقبال کو جا کھڑے ہوۓ۔تایا،تائ،اپیا بھائ جان سب آگۓ اور ہم شیر خرمہ
سب کو پیش کرنے لگے۔لیکن حیرت کی بات تھی،کسی نے بھی شیر خرمہ کی تعریف نہیں کی ۔بس دو دو چمچ لیتے اور چھوڑ دیتے۔ہمارا ماتھا ٹھنکا تو امی نے بھی سوالیہ نظروں سے ہمیں دیکھا،ہم نے حسب عادت کاندھے اچکاۓ۔امی نے کچن میں ہمیں بلایا اور شیر خرمہ چکھایا۔توبہ،ہمارے منہ سے نکلا ،یہ کیسا ذائقہ ہے امی ۔
میں نے یہی پوچھنے کے لیے بلایا ہے کہ" یہ کیا ہے"۔امی کا قہر برساتا لہجہ ،ہم سر کھجانے لگے سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ شیر خرمہ میں کیا کمی رہ گئ۔
آں شاید شکر کم پڑ گئ۔ہم نے اپنے کٹورے میں شکر ملادی مگر شیرخرمہ کے ذایقہ میں کوئ زیادہ فرق محسوس نا ہوا۔
یہ شیرخرمہ ہے یا قورمہ ؟امی نے غصہ سے پوچھا ،
امی سچ میں یہ شیرخرمہ میں نمک کیسے پڑ گیا۔ہم الٹا انہی کو پوچھنے لگے۔
اب یہ تو تم بتاوگی مجھے کہ یہ خرمہ" قورمہ "کیسے بنا ۔کیا بنے گا تمہارا،سارے خاندان میں ناک کٹوادی۔اب تمہاری تائ سارے خاندان میں ڈھنڈورا پیٹنے گی کہ ہمارے ہاں میٹھا نہیں نمکین شیرخرمہ بنا تھا۔میری مت ہی ماری گئ تھی جو تمہیں بنانے کے لیے کہا خود ہی بنالیتی تو یہ نو بت ہی کیوں آتی"۔امی کی گولہ باری شروع ہو گئ تھی۔اور ہم منہ کان دباۓ سن رہے تھے اور سوچ رہے تھے کہ شکر نمک میں کیسے بدلی۔ویسے بھی شیر خرمہ نا میٹھا تھا نا کھارا،بس بس شکر نمک کا ملا جلا محلول لگ رہا تھا۔
ہم دوبارہ موقعہ واردات پر پہنچے اور سارے کچن کا دوبارہ جائزہ لیا ،تب جاکر عقدہ کھلا کہ ہم نے جو شکر کا ڈبہ لیا تھا،وہ روزآنہ استعمال میں آنے والا ڈبہ نہیں تھا۔بلکہ یہ الگ رکھا ہوا تھا اور ہم نے شیر خرمہ کے لیے جو شکر ڈالی تھی۔وہ اس میں سے ڈالی تھی۔چونکہ شکر اس ڈبہ میں زیادہ تھی ۔اس ڈبہ کو دیکھتے ہی جیسے ساری گتھیاں سلجھنے لگیں۔منظر ،پس منظر سب سمجھ آنے لگا،ہمیں یاد آگیا جب ہم سونے جارہے تھے ،امی اپیا بازار گئ تھیں ۔اور اپیا کے شیطانوں نے جوس کی فرمایش کی تھی۔ہم نے سوۓ سوۓ ہی ان کو خود جوس بنانے کے لیے کہا تھا ،انہوں نے جوس تو بنا لیا مگر شرارتا شکر میں پسا ہوا نمک ملا دیا۔چونکہ شکر تو موٹی تھی مگر نمک پسا ہوا تھا اس لیے شکر میں نمک نظر ہی نہیں آرہا تھا ۔ہماری شامت آئ تھی جو انکو جوس بنانے کے لیے کہا تھا۔ ہم نے ان دونوں شیطانوں کو کانوں سے پکڑا ۔
"ہم صرف تجربہ کر رہے تھے" ۔ان دونوں نے دہائ دی۔
"شکر میں نمک ملا کر تم کونسے ساینسدان بن جاتے"ہم نے دونوں کے کان مروڑے۔
"ان معصوموں کو چھوڑو ،ان سے زیادہ تو تمہیں تجربہ ہو گیا ہوگا کہ اس طرح بچوں کو کچن میں نہیں بھیجنا چاہیۓ۔بچے تو بچے ہی ہوتے ہیں کچھ بھی غلط ہو سکتا تھا ۔کچھ بھی سنگین حادثہ ہو سکتا تھا۔امی نے ہمیں لتاڑنا شروع کیا۔
"اور نہیں تو کیا خالہ؟" بچوں نے ہاں میں ہاں ملائ ۔
انکی ہنسی دیکھ کر ہمارے تو تن بدن میں آگ ہی لگ گئ
"اس سے زیادہ اور کیا سنگین حادثہ ہونا تھا ۔عید کا شیر خرمہ اور وہ بھی نمکین "۔ہم بسورے۔
تمہاری ان لاپرواہیوں نے یہ دن دکھایا ہے۔امی کی گولہ باری جو رک گئ تھی پھر سے شروع ہوگئ۔
امی !ہم آپکو پکی سگھڑ لڑکی بن کر دکھائیں گے۔ہماری بات پر امی نے ہمارے سامنے ہاتھ جوڑدیے۔
ناں با ناں تم رہنے دو پتا چلے سگھڑ کے بجاۓ تم کچھ اور بگڑ گئ ہو۔اللہ ہم سب پر رحم کرے ۔
لو ،امی تو ایسے دعا کر رہی ہیں جیسے ہم نا ہوۓ کوئ بلا ہو گۓکہ اللہ محفوظ رکھے۔
ہم جیسے بھی ہیں ہیں بس سگھڑ نہیں ہیں۔کیا کریں ۔ویسے ہم سوچ رہے ہیں کہ سگھڑ بننے کا کوئ کریش کورس ہی کر لیں،کم سے کم امی کے طعنوں سے تو نجات ملے گی۔ہے ناں
ارے،سینے پرونے کی بات کر رہی ہوں۔میں آنٹی سے بات کروں گی۔وہ سنٹر چلاتی ہیں۔تمہارا کچھ تو بھلا ہو گا۔
اب ہمارا بھلا ہونا تھا کہ برا،یہ تو ہم سمجھ نہیں سکے،لیکن بہرحال ہمیں جانا پڑا۔
اب ان آنٹی کو کیا پتا تھا کہ سلوائ وغیرہ میں ہم کتنے کند ذہن ہیں ،تین مہینے تک تو سو ئ میں دھاگہ ڈالنا ہی سیکھتے رہے۔آنٹی کو بھی اندازہ ہو گیا کہ مقابل انہیں ناکوں چنے چبوانے والا ہے۔سلوائ کے معاملہ میں،آخر چھ مہینے گزر گۓانہوں نے ہمیں کپڑا دیا۔اور کہا کہ آپ گلا کاٹیں میں دوسری بچیوں کو دیکھتی ہوں۔تھوڑی دیر کے بعد وہ ہماری طرف پلٹیں،
کیا ہوا،گلا نہیں کاٹا،
جی وہ کسکا گلا؟
جی آپ تو بس اب میرا گلا ہی کاٹ دیں۔انہوں نے جل کر کہا۔غضب خدا کا،چھ مہینے سے آپ کے پیچھے دماغ کھپارہی ہوں ۔اور یہاں سادگی کا یہ عالم ۔توبہ توبہ۔آپ تو بس معاف کر دیں مجھے۔وہ سیدھے سیدھے ہمیں جانے کو کہہ رہی تھیں۔ہم بھی الٹے قدموں گھر آگۓ۔اور آتے ہی چلا کر کہا،ہم سے نہیں ہو گا گلا کاٹنا،جیب کاٹنا،وہ آنٹی تو ہمیں سیدھا سیدھا مجرمہ بنانے پر تل گئ ہیں۔ہماری باتیں سنکر امی تو سر پیٹتے رہ گئیں۔
ایک طرف رمضان کی آمد تو دوسری طرف امی کی طبیعت خراب ہوگئ اور کچن کی ذمہ داری ہمارے نازک کندھوں پر آ پڑی،ہم نے بھی سوچ لیا کہ یہی وقت ہے کچھ کر دکھانے کا،ہم کچن میں سبز انقلاب لانے کے لیے بے چین تھے۔ہم نے برتن اتنے رگڑ رگڑ کر مانجھے کہ وہ پتلے ہو گۓ۔ہم پر اسکا مطلق اثر نا ہوا،پتلے ہوں کہ گاڑھے،ہمیں کیا،ہم نے کندھے اچکاۓ اور بس۔
کچن میں ہماری آمد کے ساتھ ہی کئ قسم کے حشرات نے کچن پر دھاوا بول دیا۔امی کبھی کچن میں جھانکتیں تو ہمیں باتیں سنانے لگتیں۔یہ چوہے دیکھو ،کیسے دندناتے پھر رہے ہیں جیسے کہ انکے باپ کا چمن ہو۔
تم نے تو کچن انکے حوالے ہی کر دیا دیکھو کیسے کود رہے ہیں ۔
تو امی ہم نے انہیں دعوت تھوڑی نا دی ہے۔وہ بن بلاے آگۓ ہیں۔بے غیرت کہیں کے۔ہم نے چوہوں کو کوسا۔
تم جو روٹی کے ٹکڑے،ٹماٹر وغیرہ ادھر ادھر پھینک رہی ہو نا ،وہ انکے لیے دعوت جیسا ہی ہے۔
ارے امی ،آپ بھی ناں، ہم ہنسے۔"وہ تو ہم ایسے ہی ڈال رہے تھے۔اب بیچارے روزی روٹی کے لیے کہاں دھکے کھاتے پھریں گے "۔اس کے جواب میں امی نے جو گھور کر دیکھا تو ہم کھسیا سے گۓ۔وہ بھی اپنی جگہ درست تھیں۔کچن میں زبردست قسم کی حشرات کی فوج نے دراندازی کر دی تھی۔مکڑیاں لینڈ گرابر بنی یہاں وہاں جالے بن کر دیوار وں پر قبضہ کر رہی تھیں۔چیونٹیوں نے الگ ناک میں دم کر رکھا تھا۔وہ ہر میٹھی چیز پر اپنا ہی حق سمجھ رہی تھیں۔شکر پر تو انکا پیدائشی حق ہے ہی مگر آٹے ،چاول پر بھی اپنا حق ملکیت جتا رہی تھیں۔چیونٹیاں تو چیونٹیاں ،مکھی،مچھر ،نے بھی ہمارے کچن پر ہلہ بول دیا تھا۔اور ہم نہتے ان تمام سے نبرد آزما تھے۔
ایسے میں اپیا معہ اپنے دو بچوں کے ساتھ وارد ہوئیں۔بچے کیا تھے آفت کے پر کالے تھے۔نجانے کیا کھا کر پیدا کیا تھا اپیا نے، ہمیشہ کچھ نا کچھ اوٹ پٹانگ کرتے رہتے تھے۔انہوں نے ہمارے ناک میں دم کر دیا تھا۔لیکن بہن کی خاطر برداشت کر رہے تھے ۔لیکن یہی بات وہ بھی بڑے دھڑلے سے کہتے تھے کہ ہم آپکو اپنی ماں کی بہن ہونے کی وجہ سے برداشت کر رہے ہیں ۔یہ سنکر تو ہم نے خوب دھنائ کی تھی ،بدلہ میں امی نے ہماری کھنچائ کردی ،امی سے شکایت جو کردی تھی ان شیطانوں نے،ہم لوگوں کی حرکتیں دیکھ کر ہی اپیا نے اپنے بچوں کو شیطان اور ہمیں شیطان کی خالہ کا لقب دے دیا تھا۔
اس دن بھی ہم جب امی اور اپیا بازار گئیں اور ہم گدھے گھوڑے بیچ کر خواب خرگوش کے مزے لینے کا ابھی سوچ ہی رہے تھے کہ ان شیطانوں نے شور مچایا کہ ہمیں جوس بنا کر دیں ،ہم" کاہلوں کے سردار" ،ہم نے کہا ،ہم سو رہے ہیں خبردار جو ہمیں جگایا تو،جوس ووس پینا ہے تو جاؤ کچن میں جاکر خود بناؤ ۔لیکن ہمیں کیا پتا تھا کہ ہم اپنی شامت اعمال کو دعوت دے رہے ہیں ۔ہم تو سوگۓ اور جب اٹھے تو امی ،اپیا بھی آگئ تھیں ۔ہم نے کچن میں جھانکا ،اپیا نے سب سامان وغیرہ اپنی جگہ پر رکھ دیا تھا گویا کہ اپنے لاڈلوں کے کرتوتوں پر پردہ ڈالا تھا۔ہم نے بھی سکھ چین کی سانس لی ۔اپیا شام تک چلی گئیں اور ہم بہت دیر تک انکے جانے کا جشن مناتے رہے۔لیکن ہمیں یہ پتا نہیں تھا کہ آگے ہمارا بینڈ بجنے والا ہے۔رمضان ختم ہوچکا تھا اور اب عید آگئ تھی امی نے ہمیں حکم دیا کہ شیرخرمہ تم بنا لو میں گھر کی صفائی وغیرہ کر لونگی ۔ہم نے اثبات میں سر ہلایا اور بڑی تندہی سے شیر خرمہ بنانے لگے۔اصلی گھی،مغزیات،اور نمکین سویوں سے بگھار کر شیر خرمہ دم پر رکھا اور خود سارے مہمان کے استقبال کو جا کھڑے ہوۓ۔تایا،تائ،اپیا بھائ جان سب آگۓ اور ہم شیر خرمہ
سب کو پیش کرنے لگے۔لیکن حیرت کی بات تھی،کسی نے بھی شیر خرمہ کی تعریف نہیں کی ۔بس دو دو چمچ لیتے اور چھوڑ دیتے۔ہمارا ماتھا ٹھنکا تو امی نے بھی سوالیہ نظروں سے ہمیں دیکھا،ہم نے حسب عادت کاندھے اچکاۓ۔امی نے کچن میں ہمیں بلایا اور شیر خرمہ چکھایا۔توبہ،ہمارے منہ سے نکلا ،یہ کیسا ذائقہ ہے امی ۔
میں نے یہی پوچھنے کے لیے بلایا ہے کہ" یہ کیا ہے"۔امی کا قہر برساتا لہجہ ،ہم سر کھجانے لگے سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ شیر خرمہ میں کیا کمی رہ گئ۔
آں شاید شکر کم پڑ گئ۔ہم نے اپنے کٹورے میں شکر ملادی مگر شیرخرمہ کے ذایقہ میں کوئ زیادہ فرق محسوس نا ہوا۔
یہ شیرخرمہ ہے یا قورمہ ؟امی نے غصہ سے پوچھا ،
امی سچ میں یہ شیرخرمہ میں نمک کیسے پڑ گیا۔ہم الٹا انہی کو پوچھنے لگے۔
اب یہ تو تم بتاوگی مجھے کہ یہ خرمہ" قورمہ "کیسے بنا ۔کیا بنے گا تمہارا،سارے خاندان میں ناک کٹوادی۔اب تمہاری تائ سارے خاندان میں ڈھنڈورا پیٹنے گی کہ ہمارے ہاں میٹھا نہیں نمکین شیرخرمہ بنا تھا۔میری مت ہی ماری گئ تھی جو تمہیں بنانے کے لیے کہا خود ہی بنالیتی تو یہ نو بت ہی کیوں آتی"۔امی کی گولہ باری شروع ہو گئ تھی۔اور ہم منہ کان دباۓ سن رہے تھے اور سوچ رہے تھے کہ شکر نمک میں کیسے بدلی۔ویسے بھی شیر خرمہ نا میٹھا تھا نا کھارا،بس بس شکر نمک کا ملا جلا محلول لگ رہا تھا۔
ہم دوبارہ موقعہ واردات پر پہنچے اور سارے کچن کا دوبارہ جائزہ لیا ،تب جاکر عقدہ کھلا کہ ہم نے جو شکر کا ڈبہ لیا تھا،وہ روزآنہ استعمال میں آنے والا ڈبہ نہیں تھا۔بلکہ یہ الگ رکھا ہوا تھا اور ہم نے شیر خرمہ کے لیے جو شکر ڈالی تھی۔وہ اس میں سے ڈالی تھی۔چونکہ شکر اس ڈبہ میں زیادہ تھی ۔اس ڈبہ کو دیکھتے ہی جیسے ساری گتھیاں سلجھنے لگیں۔منظر ،پس منظر سب سمجھ آنے لگا،ہمیں یاد آگیا جب ہم سونے جارہے تھے ،امی اپیا بازار گئ تھیں ۔اور اپیا کے شیطانوں نے جوس کی فرمایش کی تھی۔ہم نے سوۓ سوۓ ہی ان کو خود جوس بنانے کے لیے کہا تھا ،انہوں نے جوس تو بنا لیا مگر شرارتا شکر میں پسا ہوا نمک ملا دیا۔چونکہ شکر تو موٹی تھی مگر نمک پسا ہوا تھا اس لیے شکر میں نمک نظر ہی نہیں آرہا تھا ۔ہماری شامت آئ تھی جو انکو جوس بنانے کے لیے کہا تھا۔ ہم نے ان دونوں شیطانوں کو کانوں سے پکڑا ۔
"ہم صرف تجربہ کر رہے تھے" ۔ان دونوں نے دہائ دی۔
"شکر میں نمک ملا کر تم کونسے ساینسدان بن جاتے"ہم نے دونوں کے کان مروڑے۔
"ان معصوموں کو چھوڑو ،ان سے زیادہ تو تمہیں تجربہ ہو گیا ہوگا کہ اس طرح بچوں کو کچن میں نہیں بھیجنا چاہیۓ۔بچے تو بچے ہی ہوتے ہیں کچھ بھی غلط ہو سکتا تھا ۔کچھ بھی سنگین حادثہ ہو سکتا تھا۔امی نے ہمیں لتاڑنا شروع کیا۔
"اور نہیں تو کیا خالہ؟" بچوں نے ہاں میں ہاں ملائ ۔
انکی ہنسی دیکھ کر ہمارے تو تن بدن میں آگ ہی لگ گئ
"اس سے زیادہ اور کیا سنگین حادثہ ہونا تھا ۔عید کا شیر خرمہ اور وہ بھی نمکین "۔ہم بسورے۔
تمہاری ان لاپرواہیوں نے یہ دن دکھایا ہے۔امی کی گولہ باری جو رک گئ تھی پھر سے شروع ہوگئ۔
امی !ہم آپکو پکی سگھڑ لڑکی بن کر دکھائیں گے۔ہماری بات پر امی نے ہمارے سامنے ہاتھ جوڑدیے۔
ناں با ناں تم رہنے دو پتا چلے سگھڑ کے بجاۓ تم کچھ اور بگڑ گئ ہو۔اللہ ہم سب پر رحم کرے ۔
لو ،امی تو ایسے دعا کر رہی ہیں جیسے ہم نا ہوۓ کوئ بلا ہو گۓکہ اللہ محفوظ رکھے۔
ہم جیسے بھی ہیں ہیں بس سگھڑ نہیں ہیں۔کیا کریں ۔ویسے ہم سوچ رہے ہیں کہ سگھڑ بننے کا کوئ کریش کورس ہی کر لیں،کم سے کم امی کے طعنوں سے تو نجات ملے گی۔ہے ناں
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں