پھڑکے ایک مہزب شہری
پھڑکے ایک مہذب شہری
آپ لوگوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کہ یہ" پھڑکے" کیا بلا ہے۔بس یوں سمجھئے کہ ایک ایسا کردار جسکی رگ ہمدردی غیر ضروری طور پر پھڑکتی ہے جس کی وجہ سے لوگوں نے یہ نام انہیں دیا۔
ہمارے پھڑکے جیسے ہی جاگیں گے۔اپنی خودساختہ ذمہ داریاں انہیں یاد آینگی۔اور وہ ایک ذمہ دار و مہذب شہری بننے گھر سے نکل پڑینگے۔پیچھے سے بھلے انکی امی اپنی دوا لانے کا کہیں ،وہ ایک کان سے سنکر دوسرے کان سے نکالتے چلے جاینگے۔
پھڑکے میاں کو گھر سے نکلتے ہی آگے ایک چو راہے پر ایک اندھا ملا ۔وہ بیچارا ہاتھ میں کاسہ لئے بھیک مانگ رہا تھا۔پھڑکے میاں نے اسے زبردستی روڈ پار کرادی۔وہ نا نا کرتا رہا اور ہمارے پھڑکے میاں کی رگ ہمدردی جو عروج پر تھی آخر اسے سڑک کے اس پار پہنچا کر ہی دم لیا۔اندھا انہیں گالیاں دیتے رہ گیا۔
ہمارے پھڑکے میاں آگے چلے ،ایک چور پرس لیے بھاگا آرہا تھا اسکے پیچھے کچھ لوگ بھی تھے۔پھڑکے میاں نے جلدی سے اسے ایک عمارت کے اندر چھپا دیا۔لوگ آگے چلے گۓتو چور نے انکا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا ،یہ تو میرا فرض تھا۔چور نے انہیں دو تھپڑ لگاۓ اور انکے پیسے چھین لیے اور کہا،یہ میرا فرض ہے ۔یہ کہکرچور بھاگ گیا۔
پھڑکے میاں کو بڑی شرمندگی ہوئخیر آگے چلتے گۓ۔چلتے گۓ۔تبھی دیکھا کہ ایک بھوکا کتا رال ٹپکاۓ بیٹھا ہے انکو اس کتے پر بڑا ترس آیا۔انہوں نے ادھر ادھر دیکھا کہ اسکو کچھ کھانے کو دیا جاۓ۔تبھی ایک بھوکا روٹی کھاتے ہوۓنظر آیا ۔وہ جھٹ سے اس کے پاس گۓ اور اسکی روٹی چھین کر کتے کو دی۔بھوکا چلاتے رہ گیا کہ تین وقت کے فاقہ کے بعد روٹی ملی تھی۔تو نے اس کتے کو دے دی۔پھڑکے میاں کہا ں سننے والے تھے بھوکے کی فریاد سنے بنا آگے بڑھ گۓ۔
وہ آگے بڑھے تو ایک پارک نظر آیا وہ وہاں گھس گۓ۔اور جب باہر نکلے تو برا حال تھا۔کپڑے الگ پھٹے ہوئے تھے۔بعد میں پتا چلا پارک میں موجود جوڑوں کو پکڑ کر شادی کروانے جارہے تھے۔جوڑوں نے خوب دھنائ کی کیونکہ وہ پہلے ہی کے شادی شدہ تھےاور یونہی گھومنے آۓہو ۓتھے۔
خیر اس طرح ہمارے پھڑکے میاں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے،ایک مہذب شہری بننے کی چاہ میں ،لوٹ کہ بدھو گھر کو آۓ کی طرح گھر پہنچتے۔گھر پہنچتے ہی انہیں فیسبک یاد آتا اور وہ اپنے سارے دن کی روداد سناتے اور پوچھتے ،کیا ایک ذمہ دار،مہذب شہری بننے کی یہی سزا ہوتی ہے،چونکہ وہاں بھی انہی کے جیسے ذمہ دار شہری ہوتے ہیں وہ بھی انکے ساتھ اظہار ہمدردی کرنے کے سارے ریکارڈ توڑ دیتے ہیں۔
ویسے پھڑکے میاں کا ماننا ہے کہ ہم سب زندگی میں اسی طرح کی ذمہ داری نبھاتے ہیں۔اندھے کی زبردستی مدد یعنی کسی جوان خوبصورت بیوہ کی مدد کرنے کے لیے کتنوں کی رگ ہمدردی یونہی نہیں پھڑک اٹھتی ہے۔
چوروں کی مدد کرنے ہی کو ہم نے اپنا شیوہ بنا لیا ہے۔اور اس کو ہی اپنا فرض عین سمجھ لیا۔اسی رویہ کی وجہ سے چور ہمارا پیسہ لیکر ملک سے فرار ہو رہے ہیں۔
ہمارے ملک کے سیاستدان ، ہم غریبوں کے منہ کا نوالہ چھن کر کتے جیسے امیروں کا پیٹ بھر رہے ہیں۔اور ہمیں بھوکا ہی رکھ رہے ہیں۔
ہم نے اپنے آپ سے ہی اخلاق کا معیار بنایا ہے اور اس پر جو کھرا نا اترے ہم اسکو گنہگار سمجھتے ہیں۔
اس طرح پھڑکے جیسے لوگ ہر جگہ پھڑکتے،پھدکتے رہتے ہیں۔
پھڑکے میاں کو گھر سے نکلتے ہی آگے ایک چو راہے پر ایک اندھا ملا ۔وہ بیچارا ہاتھ میں کاسہ لئے بھیک مانگ رہا تھا۔پھڑکے میاں نے اسے زبردستی روڈ پار کرادی۔وہ نا نا کرتا رہا اور ہمارے پھڑکے میاں کی رگ ہمدردی جو عروج پر تھی آخر اسے سڑک کے اس پار پہنچا کر ہی دم لیا۔اندھا انہیں گالیاں دیتے رہ گیا۔
ہمارے پھڑکے میاں آگے چلے ،ایک چور پرس لیے بھاگا آرہا تھا اسکے پیچھے کچھ لوگ بھی تھے۔پھڑکے میاں نے جلدی سے اسے ایک عمارت کے اندر چھپا دیا۔لوگ آگے چلے گۓتو چور نے انکا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا ،یہ تو میرا فرض تھا۔چور نے انہیں دو تھپڑ لگاۓ اور انکے پیسے چھین لیے اور کہا،یہ میرا فرض ہے ۔یہ کہکرچور بھاگ گیا۔
پھڑکے میاں کو بڑی شرمندگی ہوئخیر آگے چلتے گۓ۔چلتے گۓ۔تبھی دیکھا کہ ایک بھوکا کتا رال ٹپکاۓ بیٹھا ہے انکو اس کتے پر بڑا ترس آیا۔انہوں نے ادھر ادھر دیکھا کہ اسکو کچھ کھانے کو دیا جاۓ۔تبھی ایک بھوکا روٹی کھاتے ہوۓنظر آیا ۔وہ جھٹ سے اس کے پاس گۓ اور اسکی روٹی چھین کر کتے کو دی۔بھوکا چلاتے رہ گیا کہ تین وقت کے فاقہ کے بعد روٹی ملی تھی۔تو نے اس کتے کو دے دی۔پھڑکے میاں کہا ں سننے والے تھے بھوکے کی فریاد سنے بنا آگے بڑھ گۓ۔
وہ آگے بڑھے تو ایک پارک نظر آیا وہ وہاں گھس گۓ۔اور جب باہر نکلے تو برا حال تھا۔کپڑے الگ پھٹے ہوئے تھے۔بعد میں پتا چلا پارک میں موجود جوڑوں کو پکڑ کر شادی کروانے جارہے تھے۔جوڑوں نے خوب دھنائ کی کیونکہ وہ پہلے ہی کے شادی شدہ تھےاور یونہی گھومنے آۓہو ۓتھے۔
خیر اس طرح ہمارے پھڑکے میاں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے،ایک مہذب شہری بننے کی چاہ میں ،لوٹ کہ بدھو گھر کو آۓ کی طرح گھر پہنچتے۔گھر پہنچتے ہی انہیں فیسبک یاد آتا اور وہ اپنے سارے دن کی روداد سناتے اور پوچھتے ،کیا ایک ذمہ دار،مہذب شہری بننے کی یہی سزا ہوتی ہے،چونکہ وہاں بھی انہی کے جیسے ذمہ دار شہری ہوتے ہیں وہ بھی انکے ساتھ اظہار ہمدردی کرنے کے سارے ریکارڈ توڑ دیتے ہیں۔
ویسے پھڑکے میاں کا ماننا ہے کہ ہم سب زندگی میں اسی طرح کی ذمہ داری نبھاتے ہیں۔اندھے کی زبردستی مدد یعنی کسی جوان خوبصورت بیوہ کی مدد کرنے کے لیے کتنوں کی رگ ہمدردی یونہی نہیں پھڑک اٹھتی ہے۔
چوروں کی مدد کرنے ہی کو ہم نے اپنا شیوہ بنا لیا ہے۔اور اس کو ہی اپنا فرض عین سمجھ لیا۔اسی رویہ کی وجہ سے چور ہمارا پیسہ لیکر ملک سے فرار ہو رہے ہیں۔
ہمارے ملک کے سیاستدان ، ہم غریبوں کے منہ کا نوالہ چھن کر کتے جیسے امیروں کا پیٹ بھر رہے ہیں۔اور ہمیں بھوکا ہی رکھ رہے ہیں۔
ہم نے اپنے آپ سے ہی اخلاق کا معیار بنایا ہے اور اس پر جو کھرا نا اترے ہم اسکو گنہگار سمجھتے ہیں۔
اس طرح پھڑکے جیسے لوگ ہر جگہ پھڑکتے،پھدکتے رہتے ہیں۔
ختم شد
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں