خالی خالی سے ہم ایک ہلکی پھلکی مزاحیہ تحریر

خالی  خالی سے ہم       ایک ہلکی پھلکی مزاحیہ تحریر
زندگی میں ہم سب کبھی نہ کبھی ایسی کیفیت سے گزرتے ہیں جب اپنا آپ ہمیں خالی خالی سا لگتا ہے۔ ہم پر بھی آجکل ایسا ہی دورہ سا پڑا ہے کہ اپنے آپ میں ہم خالی خالی سے محسوس کر رہے ہیں۔ویسے ہم قنوطیت کا شکار ہر گز نہیں ہیں اور نہ ہمیں قنوطیت پسند ہے ۔یہ بھی کوئ بات ہوئ کہ اچھا بھلا بندہ سنجیدگی کا لبادہ اوڑھے فلسفیانہ گفتگو کرتا نظر آۓ۔ہم میں کم از کم اتنی اداسی نہیں ہے ۔نہ ہی سنجیدگی ہے۔ اگر سنجیدگی رہتی تو ہم بھی کہیں ڈاکٹر انجینیر ہوتے، یوں مزاح تھوڑی نہ لکھ رہے ہوتے۔
۔ہم ویسےعام عورتوں کی طرح بھاری بھرکم بھی نہیں کہ چلو ایک آدھ کلو وزن کم ہو گیا ہو اور ہمیں خالی پن محسوس ہو ۔اور نا ہی ہماری آواز بھاری ہے اور نہ ہی ہمارا پیر،    لیکن پھر یہ خالی پن کیوں ؟کیا کھو گیا ہے ہم سے ۔
۔۔۔۔۔۔
شادی شدہ ہیں اس لیے عشق وشق بھی نہیں ہو سکتا کہ چلو کسی کے فراق میں ہم نے نیند چین کھویا ہو اور اب خالی پن فیل کررہے ہوں۔اس قسم کے مرض ہم نے جوانی میں بھی نہیں پالے ۔اب تو خیر  ہمارے بچے جوان ہو رہے ہیں۔یا الھی خیر یہ کیا ماجرا ہے۔اچھے بھلے تو تھے ہم ۔پھر راتوں رات  ہم پر ایسی کیا افتاد آن پڑی کہ ہم خالی ہو گۓ۔گھبرا کر ہم نے آئینہ دیکھا تو آئینہ بھی ہنس کر کہنے لگا "کچھ خالی خالی سا لگ رہا ہے "۔ہم نے غصہ سے اسے یعنی اپنے آپ کو ہی منہ چڑایا اور کہا "اپنے کام سے کام  رکھ۔اونہھ۔بڑا آیا ہمیں چڑانے"
 ۔آئینہ کو بھی کوئ آئینہ دکھانے والا ہونا چاہیے۔ہم بے تکی باتیں سوچنے لگے۔سوچتے سوچتے ہمارے ذہن میں یہ خیال آیا کہ شاید ہم عورت ہیں اس لیے خالی خالی سے محسوس ہو رہے ہوں ۔ہم نے پھر سے آئینہ میں اپنے آپ کو گھورا۔
آئینہ نے طنزیہ مسکرا کر دیکھا اور کہا" نہیں عورت تو خالی نہیں ہوتی وہ تو ہر جگہ بھرتی ہوتی ہے۔اس سے مرضی نہیں پو چھی جاتی بس خانہ پری کی جاتی ہے۔عورت سستی ہو گئ اور اسکا اپنا کوئ وجود باقی نہ رہا ،نہ کوئ کردار رہا،عورت نے اپنے آپ کو کتنا ارزاں کر لیا ہے۔آئینہ ہمیں آئینہ دکھا رہا تھا۔اور ہم چپ چپ تھے۔ہماری زبان گنگ تھی۔لیکن ہم آئینہ سے متفق نہیں تھے۔
آئینہ تو وہی چیز دکھاتا ہے جو ہم دیکھتے ہیں۔وہ ہمارا ہی عکس ہو تا ہے۔ہماری ہی سوچ کا عکس آئینہ ہمیں بتاتا ہے۔سوچ کی گہری ہوتی شکنوں کے ساتھ ہم چونک گۓ۔سارے گھر میں چہل پہل شروع ہو گئ تھی۔ابو چاۓ کے لۓ آواز دے رہے تھے۔میاں جی کچھ ڈھونڈ رہے تھے۔پپو ببلو منی کسی بات پر لڑ رہے تھے۔اب سارے گھر میں ہماری ڈھونڈ مچ گئ تھی ۔
"کہاں ہے۔ ارے انو کہاں ہے" ۔سب پوچھ رہے تھے۔
آئینہ معاشرہ کا بد صورت رخ بتارہا تھا۔اور ہم کہہ رہے تھے ۔"نہیں .عورت بھرتی کی نہیں ہوتی اور نہ خالی ہو تی ہے۔وہ تو ہر خالی جگہ کو پر کرتی ہے اپنے اندر کے رنگوں سے ہر جگہ کو رنگوں سے بھر دیتی ہے۔ہر ادھورے تصویر مکمل کرتی ہے۔
م نے آئینہ  کو جیسے لا جواب کر دیا۔اور ہاں خالی خالی تو بس احساس تھا۔عورت مکمل ہوتی ہے اور ہر کام کو تکمیل پہنچاتی ہے
۔اب ہم سے نہ کہنا ،"خالی خالی سے لگ رہی ہو"۔ہم نے آئینہ پر دھونس جمائ اور کمرہ سے نکل گۓ۔۔
ختم شد 
🌸🌸🌸🌸🌸🌸👃

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ