ہاۓیہ مریض ۔۔۔۔۔کرے ڈاکٹر کو پریشان

ہاۓیہ مریض۔۔۔۔۔۔۔۔کرے ڈاکٹر کو پریشان 
         عام طور پر ہم سبھی کو یہ سننے میں آتا ہے کہ ڈاکٹرز جو ہوتے ہیں وہ مریضوں کو پریشان کرتے ہیں انکی بیماری کو لے کر۔مریض کو ہر طرح سے ڈرادیتے ہیں ۔اور انہیں بہت زیادہ زیادہ خوف میں مبتلا کردیتے ہیں کہ آپکو فلاں فلاں بیماری ہوسکتی ہے وغیرہ وغیرہ ۔اسطرح اب تک ڈاکٹرز کے حوالے سے کوئ بھی مثبت بات یا مثبت سوچ نہیں آتی ۔جو بھی سننے میں آتا ہے وہ اس طرح ہوتا ہے
" ۔ارے فلاں ڈاکٹر ہے ناں قصائ ہے قصائ۔ اسکے پاس غلطی سے بھی مت جانا۔(غلطی سے کیسے جاتے ہیں بھلا ۔) 
"ارے !ہاں وہ" ڈاکٹر" وہ تو بہت کمینہ ہے ۔ٹسٹوں پر ٹسٹ لکھتا ہے اور پیسہ بناتا ہے اسکا بیڑہ غرق ہو"
۔(یہ سوچے بغیر کہ آپ کی بیماری کو جڑ سے پہچاننے کے لیے یہ ٹسٹ وغیرہ لۓجاتے ہیں ۔ڈاکٹر بیچارے کو کئ صلواتیں سنائ جاتی ہیں۔)
"کیا زمانہ آیا ہے ڈاکٹر تو پہلے ہوتے تھے اب تو جی بس حجام ہو گۓ ہیں ۔فقط پیسہ پیسہ کرتے ہیں ۔نہ ہمدردی کے دو بول بولتے ہیں اور نہ ہی کچھ تسلی کی بات کرتے ہیں۔اور کچھ نہیں تو تسلی سے دیکھ تو لیں.
" نہ جی.  وہ تو بس جلدی جلدی کچھ آڑھے تیڑھے لکھ دیں گے اور کہینگے "نکسٹ ۔"
آپ نے بھی اس طرح کی باتیں ڈاکٹروں کے متعلق ضرور سنی ہونگی ۔کیا آپ بھی ان سے متفق ہیں"
" ۔ہاں ۔تو کوئ بات نہیں ۔آج ہم آپکو تصویر کا وہ رخ دکھانا چاہیں گے جس پر عام لوگ غور و فکر نہیں کرتے۔
مریض اور مریض سے جڑے رشتہ داروں کا وہ جاہل رویہ  جس کی وجہ سے خود مریض کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے ۔لیکن اسکا ذمہ دار بھی وہ خود کو نہیں ڈاکٹر کو ہی سمجھتا ہے۔
              ابھی اوپر ہم نے کچھ باتیں بتائ تھیں کہ کس طرح ڈاکٹرز کو یہ مریض لوگ ڈاکو قصائ ،حجام اور نجانے کیا کیا کہتے ہیں ۔لیکن یہ خود اپنے گریبان میں جھانک لیں تو شاید ایسا نا کہیں۔
 ،لیکن یہ خود اتنے جاہل ہوتے ہیں کہ توبہ ہی بھلی۔ انکے بارے میں بات تو شروع کرنی ہی ہے ورنہ آپ یونہی ہمیں گھو رینگے کہ ہم ڈاکٹروں کو چھوڑکر بیچارے معصوم مریضوں کے پیچھے کیوں پڑے ہیں۔
۔کیا کہا ."معصوم "اور یہ مریض. جی نہیں.  یہ معصوم تو بلکل بھی نہیں ہوتے۔یہ کتنے چالاک ہو تے ہیں ۔آپ  یہ اندازہ بھی نہیں کرسکتے۔
آپ کیا بیچارے ڈاکٹر تک نہیں کر سکتے۔وہ  بیماری کے بارے میں اندازہ کر سکتے ہیں لیکن مریض کے دماغ میں کونسی کھچڑی پک رہی ہے ۔اسکے بارے میں وہ تھوڑا ہی جان پاۓ گا۔
اب ایک مریض ہے وہ زیابطیس  کے مرض میں مبتلا ہے ۔اور ایک  ڈاکٹر کے پاس اسکا علاج چل رہا ہے۔چونکہ اسکو ذیابطیس ہے ڈاکٹر نے اسے کچھ گولیاں دیں اور کہا آپ اتنے گولیاں کھاکر آئیں۔ آپ شرط لگالیں،وہ نہ پورا پرہیز کرے گا نہ وہ گولیاں کھاے۶ گا۔
بلکہ آپ کے سر پر آ بیٹھے گااور کہے گا ڈاکٹر صاحب،آپ نے جیسا کہا تھا ویسا ہی کیا مگر شوگر کم کیوں نہیں ہوئ یہ اب آپ ہی بتائیں۔(ڈاکٹری کی ہے بھئ اس نے ۔جادوگری نہیں ۔).
۔الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے ۔۔۔۔اب بیچارہ ڈاکٹر اس بات کو کیا سمجھے گا۔اس نے ڈاکٹری پڑھی ہوتی ہے۔اس قسم کی ہوشیاری سے اسے واسطہ پڑسکتا ہے یہ اسکے وہم و گمان میں بھی نہ ہو گا۔  وہ وہیں سوچتا رہ جاۓگاکہ اس نے سب کچھ اچھی طرح لکھا تھا۔پھر اس سے غلطی کہاں ہوئ ہو گی۔
۔اسی طرح بی پی کے مریض ہوتے ہیں۔انکا بی پی جب بھی چیک کریں ہمیشہ بڑھا ہوا ہوگا۔ڈاکٹر ہر وہ گولی لکھے گا جس سے بی پی کم ہو سکتا ہے اور ادھر مریض ہر ممکن کو شش کرے گا کہ گولی ہی نہ کھاۓ اور کھاۓ بھی تو کبھی کبھار ،انکی معلومات کے مطابق بی پی ایسا مرض ہوتا ہے جو تھوڑے دن گولیاں کھانے کے بعد ختم ہو جاتا ہے اور اس حساب سے ہی وہ گولیاں کھاکر چھوڑ دیتے ہیں ۔اور کہیں گے کہ اب ہم نے جو کرنا تھا کر لیا آگے اللہ کی مرضی۔...اب ڈاکٹر کیا کہے گا بیچارہ ۔گولیاں یہ نہں کھائیں گے اور کہیں گے اللہ کی مرضی ۔۔۔۔اب ان عقل کے دشمنوں کو کون سمجھاۓکہ بی پی ایسا مرض ہے جس کا مستقل علاج نہیں بلکہ اسے گولیوں سے کنٹرول کرتے ہوۓ چلنا ہوتا ہے یہ تین ،پانچ دن کا کورس  کرنے سے کم  ہونے والا مرض نہیں۔
 ڈاکٹر الٹا لٹک جاۓ یہ اسے بتایںنگے ہی نہیں کہ انہوں نے گولیاں ہی نہیں کھائیں۔ الٹا ڈاکٹر کو کنفیوز کریں گے کہ آپ نے گولیاں ہی اچھی نہیں دیں آپ اچھی گولیاں لکھیں گے تو ہمارا بی پی کم ہو جایےگا۔۔اب  کوئی پوچھے کہ اچھی گولیاں کیا ہوتی ہیں ۔کہاں ملتی ہیں کہ انہیں دیں اور انکی بیماری اڑن چھو ہوجاۓ۔
ہمارے ایک کرم فرما ہیں وہ بیماریوں سے بہت ڈرتے ہیں۔لیکن پھر بھی انہیں شوگر ہو گئ ۔اتنا ڈرنے کے باوجود ۔۔۔۔۔اب انہیں ٹسٹ کروانا تھا شوگر کا تاکہ پتا چلے کہ انکی شوگر واقعی بڑھ رہی ہے اور بڑھ رہی ہے تو کتنی ۔۔ڈاکٹر نے کہا چار پانچ دن کے بعد ٹسٹ کریں گے آپ گولیاں نار مل کھاتے رہیں ۔انکی ذہانت دیکھیں انہوں نے کل ٹسٹ کروانا ہے تو اس سے دو دن پہلے سے کھانا کم کردیا تاکہ انکی شوگر نہ بڑھے اور تقریباً روزہ کی حالت جیسے میں ٹسٹ کروایا۔انکا مقصد صرف اتنا تھا کہ جب وہ ٹسٹ کروائیں تو انکا ٹسٹ بلکل نارمل آۓ۔اور ہوا بھی ویسے ہی جیسے وہ چاہتے تھے یعنی ٹسٹ بلکل نارمل آۓاور وہ نہال نہال سے چلے گۓاور ہم بس دیکھتے ہی رہ گۓ۔اور وہ سارے خاندان میں یہی کہتے رہے کہ انہیں شوگر ھے ہی نہیں۔اس قسم کے لوگ بہت ملیں گے جو ڈاکٹر کو کنفیوز کردینگے اور ڈاکٹر سر پٹکتے رہ جاتے ہیں ۔
ایک اور کرم فرما ہیں ہمارے ،بس یوں کہیں کہ کیا کہیں کہ کیوں ہیں۔ انہیں بی پی ہے۔اور بی پی ایک سو ستر اور ایک سو نوے تک جاتا ہے۔اب ظاہر ہے ڈاکٹر انہیں ہائ ڈوز ہی دے گا۔لیکن یہ اتنا زیادہ ڈوز کھانے کو تیار نہیں انکے اپنے خیال میں اس سے انہیں کچھ بھی نقصان پہنچ سکتا ہے اس لیے وہ گولیاں اپنے حساب سے کھاتے ہیں یعنی جو گولی ڈاکٹر نے ایک کھانے کے لیے دی ہے وہ اسے آدھی کر دینگے۔اور جو گولی تین ٹائم کھانے کی ہوگی وہ اسے ایک ٹائم کر دینگے۔اس طرح انکا بی پی کنٹرول میں ہی نہیں آرہا تھا۔اب ڈاکٹر بیچارے کو الہام تھوڑے ہی آنا تھا کہ انہوں نے اسکے لکھی گئی گولیوں کا کیا حشر کیا گیا ہے تو وہ پیشہ طب ہی سے سنیاس لےلے ۔اور کہے آپ ہی اپنا علاج کر لو آخر اتنا سب کر ہی لیا ہے تو۔
یہ اتنا مزیدار ٹاپک ہے کہ کیا بتائیں ۔ایسے مریضوں کی ایک لمبی لسٹ تیار ہو جاتی جو ڈاکٹرز کو نت نئے طریقوں سے ستاتے ہیں۔انکے صبر کا امتحان لیتے ہیں بلکہ انکی جان کھا جاتے ہیں۔لیکن نہ ڈاکٹر کو  صحیح بتاتے ہیں کہ انہیں کیا مرض ہے اور نہ اسکے بتاےہوۓطریقے پر عمل کرتے ہیں۔اس طرح اپنے آپ کو نقصان پہنچا لیتے ہیں۔اور ڈاکٹرز کو مورد الزام ٹھہرا تے ہیں اسی لیے ہم کہہ رہے تھے ۔
"ہاۓیہ مریض  .....    کرے ڈاکٹر کو پریشان ۔"

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ