میرے ہم نوا ۔۔۔۔۔۔قسط 45
میرے ہم نوا ۔۔۔۔۔۔قسط 45 " آخر کچھ بتاتے کیوں نہیں تم کہ وہ بھائ کے گھر گئ ہے اور ابھی تک آئ نہیں ۔ایسا کیا ہوا ۔ " صابرہ بیگم کے صبر کا پیمانہ جیسے ٹوٹ گیا تھا ۔وہ اب اسے گھیر چکی تھیں جو اس ذکر سے ممکنہ حد تک پہلو تہی کر رہا تھا ۔ " مجھے نہیں معلوم ۔ آپ خود پوچھ سکتی ہیں اپنی بھتیجی سے کہ وہ گھر چھوڑ کر کیوں گئیں ۔ " وہ خود بہت تلخ ہو رہا تھا یہ اسے محسوس ہو رہا تھا ۔ " تم نے کچھ کہا ہو گا ۔ ":وہ اب اسے ہی مشکوک نظروں سے دیکھ رہی تھیں ۔ " نہیں ۔میں نے ایسا کچھ نہیں کہا ۔ بس یہ اس کا اپنا فیصلہ ہے ۔ میں نے نہیں کہا تھا گھر چھوڑ کر جانے کو " اس کے لہجہ میں تلخی گھلی تھی جس پر صابرہ بیگم خاموش ہو گئیں تھیں ۔ یہ بات انہیں بھی نا گوار گذری تھی کہ وہ گھر چھوڑ کر بنا بتا ۓ چلی گئ تھی۔ اور وہ طہ کی فطرت سے بخوبی واقف تھیں وہ ایسی غلطیاں کبھی برداشت نہیں کرتا تھا ۔ نا معاف ۔ وہ دل ہی دل میں ان دونوں کے لیۓ دعا کرتے اٹھ گئیں تھیں ۔لیکن وہ چپ نہیں بیٹھیں تھیں نظیر صاحب کو اشارتاً بتا دیا کہ دو نوں میں کچھ نا راضگی ہو گئ ہے۔ " میں بات کروں گا ۔ابوال...