میرے ہم نوا ۔۔۔قسط 42
میرے ہم نوا ۔۔۔قسط 42
اس کا خیال تھا وہ سیدھا گھر جا رہے ہیں لیکن جب طہ نے ایک آئیسکریم پارلر کے پاس بائیک روکی تو وہ چونکی ۔تھی۔
" یہاں کیوں ۔ " وہ سوچتے اتری تھی ۔
" اربیہ نے آئسکریم کے لیۓ کہا تھا ۔" وہ اب وضاحت دے رہا تھا ۔
" اچھا ۔ میں یہیں رکتی ہوں ۔آپ لے آییں ۔ "
اس نے بائیک کی سیٹ سے ٹیک لگا دیا تھا ۔۔
" آئسکریم کھانے کا موڈ ہے تو کھا کر پیک بھی کروالیں گے ۔ " اب وہ زیادہ کھل کر بو لا تھا تو وہ چپ چاپ اسکے پیچھے چل پڑی تھی ۔
یہ ایک چھوٹا لیکن بہت خوبصورتی سے سجا آئسکریم پارلر تھا ۔ جسکی دیواروں کو مختلف رنگوں سے سجا یا گیا تھا ۔اس کے
آرڈر دے کر آنے تک وہ پورے پارلر کا جائزہ لے چکی تھی ۔وہ اسکے سامنے آکر بیٹھا تب اس نے اپنی نگاہیں جھکا لی تھیں ۔
وہ کچھ دیر تک اسے یونہی دیکھتا رہا ۔جو اب حالت اضطراب میں اپنی انگلیاں مروڑ رہی تھی ۔
اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا ویٹر آرڈر لے کر آگیا تھا ۔
اس نے ان دونوں کے سامنے آئسکریم رکھی تھی اور خود مسکراتے جلا گیا تھا ۔
" آپ شروع کر سکتی ہیں ۔ " وہ اپنے باؤل میں چمچ پھیرتے بولا تو اس نے بھی اپنے باؤل میں چمچ پھیرنے شروع کیا ۔ ۔
وہ کافی دیر اسے دیکھتا رہا ۔
وہ یونہی بیٹھی رہی تھی ۔
" کیا ہوا ۔آپ کھا نہیں رہیں ۔ " اسکی آئسکریم آدھے سے زیادہ ختم ہوئ تھی اور وہ یونہی چمچ باؤل میں پھیر رہی تھی تب اسے کہنا پڑا ۔
" مجھے کیویٹی و سنسٹیویٹی کی پرابلم ہے ۔ " وہ بےچارگی سے بولی تھی ۔
" کیا ۔" کہیں جیسے غبارہ پھٹا ہو اور ساری ہوا نکل گئ ہو ۔ اس وقت طہ کے موڈ کی بھی ویسی ہی حالت ہو گئ تھی ۔
" بول تو سکتی تھیں ۔ " اس کے لہجہ میں خفگی سی تھی ۔
" آپ نے پوچھا ہی نہیں ۔ " اس نے بھی برجستہ کہا تو وہ ایک لمحہ کے لیۓ خاموش ہو گیا تھا ۔
" مجھے کیا خبر کہ آپ کو یہ پرابلم بھی ہے ۔ " اس کی" بھی "پر اس نے کوئ ردعمل نہیں دیا ۔ وہ اب لڑنے کے موڈ میں نہیں تھی ۔
" پھر اب کیا کریں گے ۔ " اس نے اب اسکے بھرے ہوۓ آئسکریم باؤل کو دیکھا تھا ۔
" کھا لوں گی ۔ لیکن آہستہ آہستہ ۔۔ " وہ خفیف سی مسکراتی باو ل پر جھک گئ تھی
اس کی آئسکریم ختم ہونے کافی وقت لگا تھااور وہ چپ چاپ صبر سے اسے دیکھتا رہا تھا ۔
***۔
جب وہ لوگ گھر پہنچے تو گیارہ بج رہے تھے ۔ لیکن وہ سب جاگ رہے تھے ۔
اس نے اربیہ کو آئسکریم کا پیک دیا تھا ۔ اور خود دالان میں پڑی ایک کرسی پر بیٹھ گیا تھا ۔
" کیسے ہیں ابوالکلام بھائ " نظیر صاحب نے اس سےپوچھا ۔
" اجھے ہیں ۔ آنے کے لیۓ کہہ رہے تھے شاید اگلے ہفتے تک آجائیں ۔
" " پھپھو ۔ ابو جی کا حج کے لیۓ قرعہ میں نام آ گیا ہے ۔ " تہذیب نے بھی وہیں نیچے بیٹھ کر خوشی سے۔ کہا تھا ۔
" ارے واہ ۔کیا مبارک بات ہے ۔ " سب اس خبر سے بے پناہ خوش تھے ۔اربیہ آئسکریم نکال کر سب کو دے رہی تھی ۔تہذیب نے اسے منع کر دیا تھا اور اب وہ اپنے کمرے میں چینج کرنے چلی گئ تھی ۔
اربیہ نے طہ کو آئسکریم دینا چاہا ۔تو اس نے منع کر دیا ۔
"ہم کھا کر آۓ ہیں ۔ "
اسکی بات پر اظہار نے آنکھیں نجائیں ۔
" ہممم ۔کافی مزے ہو رہے ہیں ۔ "
" خاک مزے ہو رہے ہیں ۔ محترمہ کو کیویٹی پرابلم ،گھنٹہ بھر لگا دیا اتنی سی آئسکریم کھانے " اس کے جلے کٹے انداز پر اظہار کی ہنسی چھوٹ گئ تھی ۔
" اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں "
اسکی بات بر طہ نے اسے آنکھیں نکالی تھیں ۔
" خاموش آئسکریم کھاؤ ۔ "
وہ سب یونہی بات کرتے آئسکریم کھاتے کافی وقت گذر گیا ۔ ۔ تہذیب بھی واپس نہیں آئ تھی ۔
" امی ایک اور بات آپ لوگوں کو بتانا بھول گیا ۔ " طہ کو اچانک یاد آیا تو اس نے ابا اور امی دونوں کو یکساں مخاطب کیا تھا ۔ وہ دونوں اس کی طرف متوجہ تھے ۔
" دراصل میں نے لون اپلائ کیا تھا ۔ وہ سینکشن ہو گیا ہے ۔ "
" اوہ ۔ لیکن لون کس لیۓ لیا ۔ اور کتنا لون ہے " یہ نظیر صاحب نے سوال کیا تھا ۔
"ابا ۔ لون تو پجیس لاکھ کا ہے ۔ماہانہ اقساط بھرنے ہیں ۔ یہ ایک ہوم لون ہے ۔ " اسکی بات پر وہ سب ملے جلے جذبات کا شکار ہو کۓ تھے ۔
" اربیہ کی شادی تک رک جاتے ۔ اب دہرا بار پڑ جاائیگا ۔ نظیر صاحب نے کہا تھا ۔
سوچا تو یہی تھا مگر اربیہ کی شادی کے لیۓ رقم تو جمع ہی ہے ۔ اسکے ساتھ ساتھ مجھےگھر کا بھی دیکھنا ہے ۔جتنی جلد ہو سکے ۔ اس لییے اپلائ کیا تھا ۔ خوش قسمتی سے جلد ہی سینکشن ہو گیا ۔ " اس نے کہا ۔
" گھر کتنے مہینوں میں بنے گا ۔ " نظیر صاحب نے اسے دیکھا ۔
" تین مہینے میں بن جائیگا ۔ بلڈر تو یہی کہہ رہا ہے ۔ " اس کی بات پر سب کے جہرے کھل اٹھے تھے۔
" اللہ مبارک کرے ۔ ساری زندگی کرایہ کے گھروں کے دھکے کھاۓ ہیں ۔ اللہ تمہیں اس سے محفوظ رکھے گا ۔" امی کی آنکھیں بھر آئیں تھیں ۔
":جی امی ۔آپ دعا کرتی رہیۓ ۔سب کام خوش اسلوبی سے طۓ پاۓ۔ " وہ اٹھتے ہوۓ بولا تو صابرہ آمین کہتی ہی اٹھیں تھیں ۔
وہ اندر آیا تھا اور جب دروازہ بند کر کے پلٹ کر دیکھا تو وہ سو بھی چکی تھی ۔ وہ یہ خوش خبری اسے بھی سنانا چاہتا تھا ۔ اسی لیۓ اسکے بیڈ کے پاس جا کر ٹہر گیا ۔ وہ اسے اٹھانا چاہتا تھا ۔مکر پھر واپس پلٹ گیا ۔
" کل بھی تو بتا سکتا ہوں ۔ " اس نے صوفہ پر اپنا تکیہ سیدھا رکرتے دل ہی دل میں کہا تھا ۔
ان دونوں کو بھی پتا نہیں تھا کہ اگلی صبح ان کے لیۓ جدائ کا پیغام لانے والی تھی ۔
**********
ا
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں