میرے ہم نوا ۔۔۔دسویں قسط

میرے ہم نوا ۔۔۔قسط د س۔

وہ پوری تیاری کے ساتھ آیا تھا ۔اسکا دوست اپنی گاڑی لیکر باہر کھڑا تھا ۔رات بہت گہری تھی ۔ ابوالکلام کے بنگلہ بھی سناٹوں میں گھرا تھا ۔ نوکر چاکر بھی اپنے کوارٹرز میں جا چکے تھے۔

وہ تہذیب کے کمرے سے واقف تھا ۔اور اب اپنے قدم دھیرے دھیرے بڑھا رہا تھا ۔

اسے ابوالکلام یا شمیم آرا سے خوف نہیں تھا ۔ وہ عمر کی اس منز ل  پر تھے جہاں اکثر نیند کی گولیاں کھا کر مدہوش ہو جاتے ہیں ۔ ۔" یہ میرا فیصلہ کن وار ہو گا ۔ اس کے بعد جیت صرف میرا مقدر ہو گی ۔ ایک رات کے لیۓ بھی تہذیب کو غائب کر دوں تو دونوں خاندان بھر سے منہ چھپاتے پھریں گے ۔ " ایک زہریلی ہنسی ہنستے ہوۓ وہ  بہت اطمینان سے تہذیب کے کمرے کی کھڑکی کی طرف بڑھا تھا اور اس پر چڑھنے کے لیۓ اپنا پیر اس کھڑکی کی پٹ پر رکھنا چاہا تھا۔ 

مگر اس سے پہلے  کسی نے پیچھے سے اسکی پیتھ پر زوردار لات ماری تھی اور اس سے پہلے کہ اسکی چیخ نکلتی اسکے منہ کو ایک موٹے کپڑے سے  ڈھک دیا گیا تھا ۔ وہ ایک بے بس پرندے کی طرح پھڑ پھڑا کر رہ گیا ۔ 

اس نے ہاتھ پاؤں زور زور سے ہلانے کی کوشش کی مگر مقابل کے مضبوط بازؤں میں وہ بے بس ہو گیا ۔تھا اور ایک بار پھر اس کے کندھے پر ایک  زوردار ہاتھ پڑا تھا اور وہ بے ہو ش ہو گیا تھا ۔

*************

" یہ اشعر کہاں گیا ہے کچھ پتا کریں ۔مجھے گھبراہٹ ہو رہی ہے ۔ " رابعہ بیگم تیسری بار اکبر سیٹھ کے پاس آ کر کہہ رہی تھیں ۔ وہ آٹھ بجے ہی گھر سے نکلا تھا اور اب صبح بھی ہو گئ تھی اس کا کہیں اتا پتا نہیں تھا ۔

" میں فون کر رہا ہوں ۔‌اسکے دوستوں میں ۔ ابھی تک کو ئ بھی صحیح جواب نہیں دے رہا ۔ " وہ جھنجھلاۓ سے بولے ۔ 

" مجھے ہو ل آرہے ہیں اس نے کچھ غلط نا کر لیا ہو  اپنے ساتھ ۔ " رابعہ بیگم کی روہانسی انداز پر وہ اور جڑے۔

" وہ اپنے ساتھ غلط نہیں کرتا   دوسروں کے ساتھ کرتا ہے ۔۔" فکر مت کرو ۔ " یہ کہکر وہ اتھ رہے تھے کہ فون بجا تھا ۔

" ہیلو ۔"

" تمہارا بیٹا ہمارے پاس قید ہے ۔ دو دن بعد اسے آزاد کریں گے ۔ "ایک بھاری مردانہ آواز سن کر اکبر سیٹھ متوحش ہو گۓ۔ 

" تم ہو کون ۔میرے بیٹے کو قید کرنے والے  " 

ابوالکلام  صاحب کی بیٹی کو اغوا کرنے چلا تھا ۔لیکن ہم نے اسکی کوشش کو نا کام کر دیا ہے ۔

" شکر منا ؤ جیل میں نہیں لے گۓ۔ صرف اپنی قید میں رکھے ہیں اگر  دو دن تک  پولس اسٹیشن  میں رکھتے تو نا تم  کسی کو منہ دکھانے کے قابل ہو تے نا وہ ۔کیوںکہ ایک بار جو جیل گیا تو سمجھو اس کا کیریر ہی ختم ۔ " اس لیۓ ہمارا احسان مانو ۔ دو دن تک ایک اواز بھی  نہیں نکلنی چاہیۓ ۔ دو دن بعد وہ خود گھر پہنچ جائگا ۔" ابھاری سخت آواز کے ساتھ کہا گیا تھا اور فون بند ہو گیا ۔

" کس کا فون تھا ۔ کیا اشعر کا تھا ۔ " رابعہ بیگم جلدی سے ان کے قریب آئ تھیں ۔‌

" ہاں ۔وہ اپنے دوستوں۔ کے ساتھ دو دن کے لیے گوا چلا گیا ہے ۔ " وہ فون رکھ  چکے تھے ۔ اب انکے ماتھے کی سلوٹیں کچھ زیادہ ہی گہری ہو گئیں تھیں ۔

************

آج ابوالکلام کے بنگلہ روشنیوں سے منور تھا ۔ بنگلہ کو نہایت دیدہ زیبی سے برقی قمقموں اور پھولوں سے سجا یا گیا تھا ۔استقبالیہ پر پھول بچھا ۓ گۓ تھے ۔ اور بڑے سے گیٹ پر مصنوعی بیلیں بھی لگا ئ گئ تھیں ۔ ابوالکلام وقت کے پابند تھے تو ٹھیک آٹھ بجے انکی دعوت شروع ہو گئ تھی ۔یہ پہلی دعوت تھی جس میں اکبر سیٹھ اور انکا کوئ فیملی ممبر اس دعوت میں موجود نہیں تھا ۔جبکہ دیگر کو انہوں نے خود ہی نظر انداز کیا تھا جس میں انکی مرحومہ بہن کی فیملی بھی تھی ۔

طہ اور نظیر صاحب بھی وقت پر موجود تھے ۔ ابوالکلام کی طرح طہ بھی وقت کی پابندی پسند کرتا تھا ۔اس لیۓ وہ دولہا ہونے کے باوجود مقررہ وقت پر موجود تھا ۔

ابوالکلام نے مختصرا ایمرجنسی  میں ہوۓ نکاح کا احوال اپنے دوست احباب کو بتا دیا تھا اور اب سب اپنے خوش گپیوں میں مصروف تھے ۔ایک چھوٹی سی گاڑی میں جسے اظہار نے پھولوں سے سجا دیا تھا تہذیب کو 

رات کے ایک بجے تک رخصت  کروا کر وہ لوگ گھر آگۓ تھے۔

****************" 

گھر پہنجنے تک سب تھکن سے چور ہو گۓ تھے ۔ اربیہ البتہ تہذیب سے چپکے چپکے بات کر رہی تھی وہ فریش تھی ۔۔اظہار آتے ہی لمبا لیٹ گیا تھا ۔

اربیہ ۔بہن ایک کپ چا ۓ تو بناؤ ۔سچ بہت تھک گیا ہوں ۔ " 

" تو اب چاۓ پی کر تمہیں کون سے پہاڑ سر کر نے ہیں ۔ اب اتنی رات ہو گئ اب چاۓ وا ۓ نہیں بنے گی۔ اربیہ جو سر جھکا کر تہذیب سے کان میں کجھ کہہ رہی تھی ۔ تڑخ کر بو لی تھی ۔

" ارے میرا نہیں تو طہ بھائ اور تہذیب آپی کا تو خیال کر لو ۔جاۓ پی کر کچھ فریش ہو جائین گے۔ "  وہ بند آنکھیں لیۓ ہی بولا تھا ۔

" اظہار ۔' طہ نے اسے ٹوکا ۔

" تمہاری زبان کچھ زیادہ ہی لمبی ہو رہی ہے " 

" ہممم ۔آپ تو کہیں گے ہی ۔ اب تو آپ پراۓ ہو گۓ ۔بلکہ تہذیب آپی کو پیارے ہو گۓ ۔ " اسکے یوں کہنے پر طہ کھنکار کر اٹھا تھا ۔

"  اربیہ بیٹی۔  پانچ چھ کپ چاۓ کے بنا ہی لو ۔ بہتر رہے گا ۔ " اور رخشی سے کہو ۔تہذیب کو اندر کمرے میں لے جاۓ ۔ چا ۓ وہیں دے دینا ۔" صابرہ بیگم دوسرے کمرے میں سے آئ تھیں ۔

" جی امی ۔ " اربیہ اٹھ گئ اور رخشی بھی  تہذیب کا ہاتھ پکڑ کر اندر لے گئ تھی ۔

جاری ہے ۔



 ۔



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ