میرے ہم نوا ۔۔۔قسط تیئیس

 میرے ہم نوا ۔۔۔قسط تئیس23 

وہ فون ہاتھ میں پکڑےغائب دماغی سے بیٹھا رہا تھا ۔ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اس نے واقعی مچتشم کی ہی آواز سنی تھی یا یہ اسکے کانوں  کو دھوکہ ہوا تھا ۔

" تم ہی یہ کام کر سکتے ہو طہ ۔مجھےتم سے ہی امید ہے ۔انکی سرگوشی سنائ دی ۔

", تم تہذیب سے شادی کر لو ۔"  وہی سرگوشی اور وہ سناٹے میں اس سرگوشی کی بازگشت سننے لگا ۔

" مجھے تم سے ہی امید ہے ۔ تم ہی یہ کام کر سکتے ہو ۔" یہ آخری بازگشت تھی جو اس نے سونے سے پہلے سنی تھی۔ 

********

" طہ ۔ میری بات سنو ۔ وہ اپنا آفس بیگ اٹھا کر باہر نکل ہی رہا تھا کہ اسے صابرہ بیگم نے روک لیا ۔

" جی امی ۔ " اس نے بیگ میز پر رکھا ۔

" تمہارے ابو بتا رہے تھےکہ  تم تہذیب سے شادی نہیں کرنا چاہتے ۔ " انکے انداز میں واضح خفگی تھی ۔

" امی ابھی تو میں آفس کو لیٹ ہو رہا ہوں ۔شام میں بات کریں گے. ۔وہ بیگ اٹھاتے ہوۓ بولا ۔ یقیناً امی اب اسکے انکار کو لیکر اس سے پوچھ گچھ کریں گی ۔ 

" ٹھیک ہے مگر شام تک۔ ہم سب تمہاری ہاں سننا چاہیں گے ۔ " امی نے گویا دھمکی دی ۔

" جی اور کچھ " وہ چڑ کر بولا ۔

" آپکی لاڈلی بھتیجی ہے تو آپ تو فیور کریں گی ہی ۔  " وہ خفگی بھرے لہجے میں کہتا جانے کے لیۓ آگے قدم بڑھا چکا تھا ۔

" اسکے علاوہ میرے بھائ پر جو مصیبت آ پڑی ہے مجھے اس سے اپنے بھائ کو نکالنا ہے ۔ کتنے فکرمند ہو چکے ہیں وہ ۔ بار بار طبعیت خراب ہو رہی ہے ۔ سینے میں درد کی شکایت بھی شروع ہو گئ ہے ۔ ایسے میں مجھے اور کیا سوجھے گا ۔ مجھےبھتیجی کو  فیور دے  کر کیا کرنا ہے ۔یہاں تو بات میرے بھائ کی ہے ۔اسکی تو جان پر بن آئ ہے ۔ امی یہ کہتی اچانک پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں اور وہ جو آگے جانے کے لیۓ قدم بڑھا چکا تھا انکے رونے پر اسے پلٹ کر آنا پڑا ۔

" امی ۔ آپ رو کیوں رہی ہیں ۔میں‌نے کہا نا شام میں بات کروں گا ۔ وہ انہیں اب تسلی دینے لگا تھا ۔

" طہ ۔میرے بچے ۔میری یہ بات مان لو پھر بے شک تم آگے میری کوئ بات نہیں ماننا ۔ بس یہ بات ۔ " وہ اسے نرم دیکھ کر منت بھرے لہجے میں کہہ رہی تھیں ۔

" مجھے اب تو جانے دیں ۔میں شام میں آکر بات کرتا ہوں ۔ ابا بھی ہونگے ۔ جب تک آپ تھوڑا پر سکون ہو جائیں ۔ ہم سب کو ماموں کی فکر ہے ۔ اور اتنے بڑے صدمے سے انہیں نکالنا بھی ہم ہی کو ہے ۔ میں بھی بہت فکرمند ہوں انکی صحت کو لیکر ۔ اس لیے آپ ٹنشن نا لیں ۔ " وہ انہیں انکے بیڈ پر لٹا کر خود باہر آگیا امی اسکی تسلی پر خاموش ہو گئیں تھیں ۔

*****

شام میں وہ نظیر صاحب کے سامنے بیٹھا تھا اور محتشم کے فون کا وہ انہیں بتا چکا تھا ۔

" پتا نہیں اس پر کیا افتاد آن پڑی تھی جو اسے یوں ملک چھوڑ کر جانا پڑ ا ۔ مگر اتنا تو بیٹے کنفرم ہے کہ  تہذیب سے شادی کا اس کا کوئ ارادہ نہیں  ورنہ وہ یہاں واپس آتا ۔ " وہ انکی بات  غائب دماغی سے ہی سن رہا تھا ۔

اسے پھر سے محتشم کی ملتجی آواز کانوں سے ٹکرانے لگی تھی ۔

" جی ابا ۔ یہ تو کنفرم ہی ہے ۔۔" اس نے بھی سر اثبات میں ہلایا تھا ۔

" تو اب تم کیا کہتے ہو ۔ وہاں تمہارے ماموں ایک گو مگو کی کیفیت میں مبتلا ہیں . انکی طبعیت پر ایک بوجھ ہے جو انہیں سکون سے سانس بھی لینے نہیں دے رہا ۔" 

" ابا ۔مجھے بھی فکر ہے ماموں کی لیکن میں جذبات میں آ کر کوئ فیصلہ نہیں لینا چاہ رہا ۔ آپ کو کیا لگتا ہے یہ  سب اتنا آسان ہے " وہ خود الجھ رہا تھا ۔

" طہ ۔سارے واہمے ایک جانب رکھ دو ۔ ہمارے لیۓ اس وقت سب سے اہم مسئلہ اپنے خاندان پر آئ اس افتاد کا سامنا کرنا ہے ۔ تہذیب صرف ابوالکلام کی نہیں ہماری بھی بیٹی ہے اور مجھے اس وقت اس بچی کے لیۓ دل میں ہمدردی پیدا ہو رہی ہے ۔ اگر خدانخواستہ اس کی جگہ ہماری بیٹی ہو تی تو ۔۔ یہ وقت کسی کے لیۓ بھی کٹھن ہو تا ہے ۔ نظیر صاحب جذبات میں بہتے جا رہے تھے ۔انکی آواز بھی بھرا گئ تھی ۔

"  خود محتشم نے بھی تو تم سے یہی التجا کی ہے کہ ماموں کی عزت کا خیال کرتے ہو ۓ تہذیب سے شادی کر لو ۔ یہی کہا تھا نا اس نے ۔ " وہ اس سے پوچھ رہے تھے ۔

" جی ۔ابا ۔اس نے ہاں میں سر ہلایا تھا ۔

" پھر کس بات کا تردد ہے " وہ اب حتمی فیصلہ سننے کے لیۓ منتظر تھے ۔اور کافی کشمکش کے بعد اس نے ہاں کہا تھا ۔ نجانے کونسی بات تھی جو اسکے مثبت فیصلہ میں پنہاں تھی ۔ماموں کی صحت انکی عزت یا ماں باپ کا بے چد اصرار یا پھر محتشم کی درخواست ۔۔۔وہ کسی کو بھی رد نہیں کر سکا ۔ وہ ہاں کہہ کر بھی فکرمند تھا ۔ پریشان تھا ۔ بہت سارے ایسے ایشوز تھے جس نے اسے وہ شرائط نامہ لکھنے پر مجبور کیا تھا ۔ مگر وہ بھی کیا کرتا ۔کچھ معمالوں میں وہ بھی ضد کا پکا تھا ۔ آگے جائداد کو لیکر اس پر کسی قسم کا دباؤ نا ہو ۔اس لیۓ اس نے نکاح سے قبل ہی ساری باتیں کلیر کر لیں تھیں ۔

جاری 


 



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ