میرے ہم نوا ۔۔۔قسط بیس

 میرے ہم نوا ۔۔۔قسط بیس 

ابھی دلہا نہیں آیا تھا جس کا سب کو شدت سے انتظار تھا ۔نکاح کا وقت ٹھیک آٹھ بجے کا تھا ۔اب دس بج رہے تھے۔ ابوالکلام کو تشویش ہوئ تو انہوں نے طہ کو ہی فون ملایا ۔وہ ابھی فلیٹ میں ہی رکا تھا ۔

ہیلو ۔طہ ۔محتشم نکلے یا نہیں ۔ " انکی بات پر طہ بھی متحیر رہ گیا ۔

" لیکن ماموں ۔محتشم بھائ تو یہاں سے دو گھنٹے پہلے ہی نکل گۓ تھے ۔ابھی تک نہیں پہنچے ؟ " وہ خود  سوال کرنے لگا ۔

" دو گھنٹے پہلے ۔لیکن ابھی تک پھر کیوں نہیں آ ۓ۔ کیا ان کا بینڈ باجے کا بروگرام تھا ۔ " ابوالکلام نے ناگواری سے پوچھا تھا ۔ وہ  شادی میں گانے بجانے کے سخت خلاف تھے ۔

" نہیں ۔محتشم بھائ نے اس بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا " 

تبھی کسی نے پکارا تھا ۔

" دلہے کی کار آگئ ۔ " ابوالکلام نے فون کاٹ دیا تھا ۔ اور خود دلہے کا استقبال کرنے جا پہنچے تھے ۔ 

لیکن ان میں محتشم نہیں تھے ۔ انکے تینوں دوست سر جھکاۓ مجرموں کی طرح کھڑے تھے. 

 " کیا ۔ہوا ۔ محتشم کہاں ہیں " ابوالکلام نے ان سب کو یکساں پوچھا تھا ۔

" انکل۔ ہم تینوں وقت پر نکل گۓ تھے ۔لیکن آدھے راستے میں کار اچانک  گھر ررر آوازیں کرتی بند ہو گئ ۔ وہاں کا علاقہ سنسان سا تھا ۔ کہیں کار بنانے والے میکینک نظر نہیں آرہے تھے ۔

ہم نے کہا کہہم  پہلے میکانک دیکھ آتے ہیں ۔تو محتشم بھی چلنے کے لیۓ تیار ہو گۓ۔‌ہم نے ہی منع کردیا ۔

 اس طرح ہم تینوں محتشم کو کار میں چھوڑ کر چلے گۓ تھے ۔قریب بیس پچیس منٹ بعد ہم آۓ تو محتشم گاڑی میں نہیں تھے ۔بس ان کا فون کار میں رکھا ہو ا تھا ۔ " ان‌کا ایک دوست  بول رہا تھا اور یہ سب سن کر سب کو سانپ سونگھ گیا 

۔  سب کے سر پر یکایک  آسمان ٹوٹا تھا ۔ 

" لیکن محتشم کہاں جا سکتے ہیں ۔ " نظیر صاحب حیرانی سے پو چھ رہے تھے ۔

" انکل ۔کچھ سمجھ نہیں‌آیا کہ وہ اچانک کہاں غائب ہو گۓ ۔ ہم نے فون نمبرز بھی چیک کیۓ مگر ایسا کوئ مشکوک نمبر تو کسی کا بھی نہیں تھا ۔ آپ ایک اور بار چیک کریں ۔ " دوست نے فون ابوالکلام کی طرف بڑھا یا ۔جسے انہوں نے کانپتے ہاتھوں سے تھا ما ۔ ۔کچھ دیر میں طہ بھی ںہاں آ چکا تھا ۔ اور جب اسے ساری بات پتا چلی تو وہ بھی شاک میں آ گیا تھا ۔

ماموں ۔اگر آپ کہیں تو میں پولس میں کمپلینٹ کردوں ۔ " اس نے اپنی ہمت جٹا کر کہا تھا ۔ محتشم بھا ئ کی خیریت کو لیکر وہ کاقی واہمو ں  میں گھر گیا تھا ۔

" نہیں ۔ ابھی پولیس میں نہیں جائیں گے ۔کیا پتا وہ کل تک آ جاۓ ۔" انکی بات سن کر طہ بھی کچھ ذھیلا سا پڑ گیا ۔ ابھی بھی انکے خاندان میں پولیس کو لیکر کافی تحفظات تھے ۔

" لیکن محتشم کو کوئ نقصان نا پہنچے ۔ " یہ اکرم صاحب تھے جو اس افتاد پر بے حد تشویش میں مبتلا ہو گۓ تھے ۔

"'ہاں ۔ بس اسکے لیۓ دعا ہی کر سکتے ہیں ۔ " نظیر صاحب نے انکے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا ۔

اب مہمانوں میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئ تھیں ۔ کچھ مہمان اب واپس جانے کی تیاری کر رہے تھے ۔ ایک پل میں خوشی کا ماحول غم کے بادلوں میں گھر گیا ۔ہر کوئ اپنے اپنے مزاج کے مطابق را ۓ دینے لگا تھا ۔

ان لوگوں کو دیکھتے طہ انددخواتین کے حصے میں چلا گیا تھا ۔ وہاں شمیم آرا رونے میں مصروف تھیں اور صابرہ رابعہ انہیں سنبھال رہی تھیں ۔ جبکہ تہذیب بس ٹکر ٹکر سب کو دیکھ رہی تھی ۔اس کا گھونگھٹ اب سر سے ڈھلک گیا تھا ۔ 

طہ کو یہ سب دیکھ کر ایک شدید رنج نے آ گھیرا تھا ۔وہ واپس پلٹ گیا تھا ۔

" ماموں ۔ آپ خواتین کو گھر بھیج دیں ہم لوگ یہیں رک جائیں گے ۔ مامی رو رہی ہیں انکی طبعیت خراب ہو سکتی ہے " 

ابوالکلام جو کرسی پر ڈھیلے انداز میں بیٹھے تھے ۔ اٹھے تھے انہوں نے طہ کا ہاتھ تھاما تھا ۔

طہ ۔ تم سب کو گھر بھیج دو ۔مجھ سے اٹھا نہیں جا رہا ۔ " انکے بھراۓ لہجے پر طہ بے ساختہ ان کے پاس گیا تھا ۔

" سب ٹھیک ہو جائیگا ۔ آپ بلاوجہہ فکر مند نا ہوں ۔ " یہ کہتے اسکی آواز بھی کانپ رہی تھی ۔ 

" میں خواتین کو گاڑی میں بھیج دیتا ہوں ۔ آپ خود کو سنبھال لیں ۔ " وہ انہیں تسلی دیتا پھر سے اندر چلا گیا تھا ۔

" ابوالکلام بھائ ۔" اکبر سیٹھ کی آواز پر ابوالکلام بے ساختہ پلٹنے پر مجبور ہو گۓ وہ انکے پیچھے سے آ رہے تھے ۔

"


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ