دی ڈارک ڈیمن ہاؤس ۔۔۔۔کون ہے ڈیرک 

قسط سات 

ان تینوں نے اپنے آپ کو  چھڑانے کی بہت کو شیشیں کیں  لیکن بے سود ۔ اس کمرے میں ایسا مہیب اندھیرا تھا کہ وہ تینوں اپنے آپ کو بھی دیکھ نہیں پا رہے تھے ۔

جیسے جیسے رات بڑھتی جا رہی تھی ۔اس بنگلہ کی پراسرار سی خاموشی انہیں ہو لا رہی تھی۔ 

ایسی آوازیں وہ لوگ سن رہے تھے جسے کبھی سمجھ نہیں پاتے ۔ ایسی سرگوشیاں ایسی آہٹیں جن کو سن کر ہی انکے رونگٹے کھڑے ہو رہے تھے ۔ 

ایسا لگ رہا تھا رات اس وقت اپنے شباب پر ہے۔ زمین  حشرات سے بھرنے لگی تھی۔ ان تینوں کے چہروں پر اب مکڑیاں چلنے پھرنے  لگی تھیں ۔

چوہے یہاں سے وہاں اچھل کود کر رہے  تھے ۔ جھینگر انکے کان کے پاس چیخ رہے تھے ۔مچھروں کی ایک کثیر تعداد یہاں آ چکی تھی اور اب انکے کاٹنے سے وہ لوگ چیخنے لگے تھے ۔ 

مکڑیاں جب پورے جسم پر رینگنے لگتیں تو انہیں لگتا کہ موت آسان تھی یہ سب برداشت کرنے سے ۔

قریب میں سانپوں کی آوازیں بھی آ رہی تھیں ۔ 

جارج ۔۔۔ہنری رونے لگا تھا وہ ویسے بھی کمزور اعصاب کا مالک تھا ۔

کچھ کرو یار ۔۔۔۔مجھے لگتا ہے کہ میں اب کل کی صبح نہیں دیکھ پاؤں گا ۔

اسکے وحشت زدہ آواز سن کر  ان دونوں کا دل بھی گھبرا رہا تھا۔ 

ایک دوسرے کو کیا ہمت دیں یہ سمجھ نہیں پا رہے تھے 

ہنری ۔۔۔جارج نے آواز دی ۔

ہم یہاں سے بھی نکل جائیں گے ۔ہمت رکھو ۔‌

کون۔۔۔  ۔کون ہمیں بچاۓ گا ۔‌اور یہاں‌ کوئ ذی نفس ہی نہیں جس کی ہم مدد لے سکیں ۔شاید ہمارا بھی حال اب ان لوئس فیملی کی طرح ہی ہو ۔ گمنام ۔۔۔ ۔ان لوگوں کو ہنری کی آواز آئ۔

جارج نے کچھ نہیں کہا لیکن اسکی سوچ اسی اس ادھوری کہانی کی جانب لے جا رہی تھی۔ 

کچھ تھا جو ادھورا محسوس ہو رہا تھا ۔اور وہ اس کہانی کو مکمل جاننا چاہ رہا تھا ۔

جارج ۔آج رات تو ہمیں انہی کیڑے مکوڑوں کے سنگ گذارنی ہے ۔ شاید کل صبح۔۔۔

صبح کیسی صبح ۔یہاں تو صبح بھی اندھیری ہو تی ہے ۔ ایسی صبح جو بنا اجالے کے ہو ۔اس سے کیا امید کریں ہم ۔۔صبح دم اندھیرا ۔۔اندھیرا صبح دم ۔ہنری کی درد اور مایوسی سے بھری آواز پر وہ دونوں خاموش سے ہو گۓتھے۔ 

ہنری ۔ہر رات کو اجالا شکست دیتا ہے ۔ہم بھی دیں گے ۔ 

بس اس خوفناک رات کو گذار لیں ہم ۔۔۔پال اسے ہمت دے رہا تھا ۔ 

ہاں ۔ان سانپ ۔مکڑیوں اور ان جن جیسے مچھروں سے چھٹکارا ملے تو۔ ۔۔۔۔ہنری پھر چڑ کر بو لا تھا ۔

اسکے بعد مکمل خاموشی چھائ ہوئ تھی۔

رات کا ایک ایک لمحہ انہوں نے عذاب کی طرح کاٹا تھا اور۔ گھڑیال پانچ  بجا رہا تھا ۔تو جارج نے آنکھین پھاڑ پھاڑ کر دیکھا ۔ 

اندھیرا جیسا تھا ویسا ہی تھا ۔البتہ اسکی شدت میں کمی آئ تھی ۔ 

جارج نے اپنے بندھے ہاتھ پیر کو دیکھا ۔ 

وہ کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا ۔ 

میں اب اپنی پاکٹ سے کچھ اوزار نکال سکتا ہوں ۔نا ہی اپنے آپ کو چھڑا سکتا ہوں ۔ 

وہ کچھ دیر تک سوچتا رہا ۔پھر اسے ایک خیال آیا تھا ۔اور اسکی آنکھیں چمکنے لگیں تھیں ۔اس نے ابنی آنکھیں بند کیں اور اپنی بند آنکھوں کے ساتھ اس نے آواز دی تھی۔

ڈیر ڈیرک ۔۔۔ہلپ می ۔ڈیرک اگر تم ہمیں سن سکتے ہو تو ہمیں تمہاری مدد کی ضرورت ہے ۔ اس نے پکارا تھا ۔ہنری اور پال نے بھی سنا تھا ۔

ڈیرک ۔۔ان دونوں نے دہرا یا ۔

وہ  ہمارادشمن ہے ۔ وہ ہماری کیا مدد کرے گا ۔ وہی تو ہمیں یہاں پھنسا چکا ہے ۔ اور تم اسے ہی  بلا رہے ہو ۔ ،

جارج ۔۔۔ڈیرک تو مردہ ہے ۔ وہ ہماری کیا مدد کرے گا اور کیوں۔ پال کو بھی حیرت کا جھٹکا لگا تھا۔ 

ڈیرک ہی ہماری مدد کر سکتا ہے ۔ اور ڈیرک کو ہماری مدد کرنی چاہیۓ۔ جارج پھر سے آنکھیں بند کیے اسے آواز دے رہا تھا ۔ 

ڈیرک ڈیرک ۔۔۔۔اسکی آواز ہوا کی طرح چہار سو گردش کرنے لگی ۔۔جیسے جیسے ہوا کا گذر ہو رہا تھا ویسے ویسے اسکی آواز بھی گونج رہی تھی ۔ 

پھر ایک ہوا کا سرد جھونکا آ یا تھا ۔انکے کمرے میں ۔یوں کہ ان پر سرد ہوا نے کپکپی طاری کر دی تھی ۔ 

تم نے مجھے آواز کیوں دی جارج ۔یہ اصول کے خلاف ہے ۔ انہیں ڈیرک کی آواز آئ تب ان تینوں نے آنکھیں کھولی تھیں ۔ 

ڈیمن ہاوس میں کوئ اصول کہاں چلتے ہیں ۔ڈیرک ۔ جارج نے دھیمے سے کہا ۔

مجھے بتاؤ تم مجھ سے کیا چاہتے ہو ۔ ڈیرک نے غصہ سے کہا ۔

ڈیرک ۔ہم اس صندوق کو کھولنا چاہتے ہیں ۔ تاکہ ڈیمن سے مقابلہ کریں ۔لیکن شاید ڈیمن نہیں چاہتا کہ ہم اس تک پہنچیں ۔ اس نے ہمیں باندھ دیا ہے ۔ اور اب ہم کچھ نہیں کر سکتے ۔ تم ہمیں آزاد کر دو ۔ اب تم ہی ہماری مدد کروگے ۔ جارج جلدی جلدی بول رہا تھا ۔

جارج ۔۔ڈیرک کی سرد آواز آئ۔ 

میں تمہاری کوئ مدد نہیں کر سکتا ۔ تمہیں جو بھی کرنا ہے   خود ہی کرنا ہو گا ۔ قید سے رہائ میرا کام نہیں ۔

وہ طنزیہ مسکرایا ۔

ہاں تمہارا کام نہیں ہے مگر  تم مجھے یہاں کیوں لاۓ ۔کیوں تم نے میرا انتخاب کیا ڈیمن سے لڑنے کے لیۓ۔ اور کیوں تم نے جان بوجھ کر میرے لیۓ سارے راستے بناۓ تاکہ میں خود ڈیمن‌سے لڑنے یہاں آؤں ۔ میں جس وقت  ایک ایک پنی کے لیۓ ترس رہا تھا ۔تم نے مجھے پیسوں کا لالچ دیا ۔ اور اب کہہ رہے ہو کہ تم میری مدد نہیں کروگے ۔ 

نہیں ڈیرک تم ہمیں یوں بے یار و مدد گار نہیں چھوڑ سکتے جبکہ تم ہماری مدد کر سکتے ہو ۔ کیا تم چاہتے ہو کہ ہم تین دوست بھی ان لوئس فیملی کی طرح مر جائیں ۔ 

لوئس فیملی مری نہیں ۔۔ڈیرک چلایا تھا ۔اسکی چیخ نے ایک لحظہ کو ان تینوں کو جامد کر دیا تھا ۔

کیا تم بتا سکتے ہو لوئس فیملی مری نہیں تو اس فیملی کا کیا حشر ہوا ۔ جارج اسکی آنکھوں میں  آنکھیں  ڈال کر دیکھتے ہوۓ بولا ۔

تب ڈیرک نے اپنی سفید آنکھیں ان پر مرکوز کیں ۔

تمیں آدھی کہانی اس کتاب کے ذریعہ معلوم تو ہو گئ ہے ۔اسکے بعد کی کہانی میں تمہیں بتاتا ہوں ۔ وہ سر جھکا کر بو لا تھا ۔

جان اور لارا نے مل کر یہ فیصلہ کیا کہ وہ یہ بنگلہ چھوڑ دیں گے ۔ خزانہ لیکر وہ دونوں خوش تھے ۔اس خزانےسے انکی آگے کی کی نسلیں بنا کماۓ بھی عیش کی زندگی گذار سکتی تھیں ۔‌صرف ایک نکلس بیچ کر انہوں نے اپنا سارا قرض ادا کر دیا تھا ۔ یہاں تک کہ جان نے اپنے آفس سے جو قرض لیا تھا اس نے وہ بھی ادا کیا تھا ۔اور جب لوگ انہیں پوچھتے کہ اتنی جلد انہوں نے یہ سارا قرض کیسے ادا کیا تو وہ ہنس ہنس کر کہتے ۔

انہیں خزانہ ملا ہے ۔ 

اور سب یہی سمجھتے کہ وہ مزاحا ایسا کہہ رہے ہیں ۔

بھلا خزانہ آج کل کسی کو کیسے مل سکتا ہے ۔ اور جان اور لارا یہ چاہتے بھی نہیں تھے کہ لوگ انہیں سچ سمجھیں ۔

وہ لوگوں کو ایسی ہی بے یقینی میں گھرا چھوڑ کر یہاں سے جانا چاہتے تھے ۔ 

انہوں نے اپنا سامان پیک کیا ۔اپنے دونوں بچوں کو تیار کیا ۔ لارا نے خود بھی کپڑے پہنے ۔وہ قیمتی لباس میں بے حد خوبصورت لگ رہی تھی ۔اسکے ہاتھ میں اپنا نومولود بیٹا تھا جسے وہ اکثر چھپا کر رکھتی تھی ۔ 

جان نے بھی جانے کی پوری تیاری کر لی تھی ۔وہ جلد سے جلد اب اس بنگلہ سے نکل جانا چاہ رہا تھا ۔

چلو لارا ۔فیم کو پکڑے وہ لارا کے پاس آیا تھا ۔ لارا نے اپنے بیٹے کو ایک کپڑے میں لپیٹا تھا اور اسے سینے سے لگایا تھا ۔

وہ اس بنگلہ سے باہر قدم رکھنے ہی والے تھے کہ ۔۔۔۔سارا بنگلہ اندھیرے میں ڈوب گیا ۔ اور تیز تیز ہواؤں سے اس بنگلہ میں موجود ہر چیز دھڑا دھڑا دھڑ گرنے لگی ۔

وہ جہاں تہاں رک گۓ۔ ایک طوفان انکی زندگی میں آنے والا تھا ۔

گڈ ایوننگ ۔جان ۔‌یہ آواز وہ پہچانتے تھے یہ موت کی آواز تھی ۔خوف و دہشت کی علامت تھی ۔

آخر تم نے جانے کا فیصلہ کر ہی لیا ۔  بے حد ڈارک سرخ آنکھیں اب ان دونوں پر مر کوز تھیں ۔

ہاں ۔جان نے ہمت سے کہا تھا ۔ اور جانے کے لیے قدم بڑھاۓ۔ 

اوکے گڈ ڈیسیشن ۔میں ہو تا تو یہی کرتا ۔ ڈیمن‌کے ساتھ دشمنی نہیں رکھنی چاہیۓ ۔ ہاہاہا ۔۔۔اسکی مکروہ ہنسی یہاں وہاں پھیل گئ۔ 

ہیلو لارا ۔کیسی ہو ۔ اب کے اسکا رخ لارا کی طرف تھا ۔ لارا بے آرام سی کیفیت میں مبتلا ہو ئ۔ 

اور تمہارا بچہ ۔۔۔وہ کیسا ہے ۔۔۔۔اسکی سفاک آنکھیں اب لارا کے ہاتھوں کی جانب تھیں ۔لارا نے اسکی نظروں کو محسوس کرتے اپنے بچے کو اپنے سینے سے لگا کر چھپانے کی کوشش کی تھی۔ 

چلو لارا ۔اب ہمارے جانے کا وقت ہو گیا ہے ۔جان نے جلدی سے کہا اور آ گے کی طرف قدم بڑھاۓ ۔

جانے کا وقت تو تمہا را ہو گیا ہے ۔جان ۔لیکن تمہیں اس بچے کو دینا ہو گا ۔ کوئ موت کا لمحہ تھا لارا اور جان کے لیۓ۔ وہ ڈر سے کانپ گۓ تھے ۔

نہیں ۔میں اپنا بچہ نہیں دوں گی۔ کبھی نہیں ۔ ماں ہوں میں اسکی ۔ لارا چیخی ۔ اس نے اپنے اپنے بچے کو اپنے سینے سے بہت زور سے بھینچا تھا ۔

ہاہا ہا۔ جان تم نے بتایا نہیں کہ اس خزانے کی قیمت کیا ہے ۔ یہ سن کر جہاں لارا دم بخود جان کو دیکھ رہی تھی وہیں جان نے نظریں چرائیں ۔

ڈیمن یہ بچہ ہم تمہیں کسی قیمت نہیں دےہسکتے ۔چاہے اسکے بدلے تم ہماری جان ہی کیوں نا لو ۔ جان اب چلایا ۔

اچھا ۔ اکر تمہاری جان کی قیمت ہی یہ بجہ ہو تو ۔۔۔۔وہ ہنسا تھا ۔ تو یہاں وہاں دھواں سا پھیلا تھا ۔

میں اپنی جان دے دوں گی ۔مگر یہ بچہ تمہیں یعنی ایک ڈیمن‌کو نہیں دوں گی ۔ لارا ایک بار پھرچیخی ۔

اور جان ۔تم یہ سوچ بھی کیسے سکتے ہو کہ میں اپنا بچہ اس خزانہ کے عوض دے دوں گی ۔‌اسکی غصہ سے بھری آواز پر جان نے اسے دکھ سے دیکھا ۔

لارا ۔ میں نے کوئ سودا نہیں کیا ۔ اس نے بنگلہ کا کہا تھا اور ہم بنگلہ چھوڑ کر جا رہے تھے ۔لیکن یہ ۔۔اس نے بات ادھوری چھوڑی ۔

تم یہ سوچ بھی کیسے سکتے ہو کہ ڈیمن ایسی آسان‌ڈیل کرتا ہے ۔ہاہاہا ۔۔۔۔

یہ بچہ آیا ہی میرے لیۓ ہے ۔لارا ۔تم نے اسے دیکھا ۔۔۔وہ کس کے  جیسا ہے۔   ۔۔نہیں دیکھا تو اب دیکھ لو ۔۔

اسکی بات پر لارا نے کرب سے آنکھیں بند کر لیں ۔

اسے ہاسپٹل کا وہ وارڈ نمبر تیرہ یاد آ گیا جہاں وہ ٹہری تھی۔نرس نے اسے بیٹے کی خوشخبری دی تھی اور بچہ اسے لا کر دیا تھا ۔اس نے شوق سے بچہ تھام لیا اور جب اس پر سے کپڑا ہٹایا تو وہ ڈر کے مارے چیخی تھی۔ 

نہیں یہ میرا بچہ نہیں ہے ۔ 

جان ۔یہ دیکھو ۔ہمارا بچہ ۔۔۔وہ روتے روتے جان کو بتارہی تھی ۔اور جان بھی پتھرائ آنکھوں سے اس بچے کو دیکھ رہا تھا ۔ 

وہ بچہ عجیب تھا ۔ ان دونوں سے بالکل مختلف ۔‌ان دونوں کا رنگ سفید تھا ۔جبکہ یہ بچہ پورا سیاہ تھا اسکی آنکھیں سفید تھیں جو اس پر بہت بھیانک لگ رہی تھیں ۔۔ایسا بچہ انکی نسل میں کہاں سے آیا ۔وہ سمجھ بھی رہے تھے اور کسی کو بتانے کے قابل بھی نہیں تھے ۔

یاد آیا لارا ۔ یہ بچہ اس ڈیمن‌کی امانت ہے ۔ جان کو وہ صندوق کھولنا نہیں چاہیۓ تھا ۔اس نے کھولا اب  یہ بچہ مجھے دینا ہو گا ۔لاؤ مجھے دو ۔

نہیں‌۔تم نے صرف بنگلہ جھوڑنے کا کہا تھا ۔‌جان‌چلایا ۔

تم اصول کی بات کرو ۔ 

ہاہاہا ڈیمن‌کسی اصول کو نہیں مانتا ۔ ڈیمن تو اصول توڑنے پر ہی بنا ہوں ۔‌ہاہاہا۔ ۔۔۔۔اسکی ہنسی اس کمرے میں گونجنا شروع ہو ئ تھی ۔ جان اور لارا وہاں سے بھاگنے کے لیۓ دوڑے ۔لیکن وہ جہاں بھی جاتے وہاں ڈیمن موجود ہوتا ۔ اور اسکی ہنسی کی آواز آتی ۔وہ بھاگتے بھاگتے تھک گۓ ۔اور ہانپنے لگے ۔ تبھی ڈیمن نے ان سے وہ  بچہ چھینا  اور کہا ۔

آب یہ بچہ میرا ہو گا ۔ کیونکہ یہ میرا غلام ہو گا ۔ 

تم اس بچہ کو لیکر کیا کرو گے ۔ لارا نے  روتے روتے پوچھا ۔

میں اس بچے کو اس بنگلہ کا نگران بناؤں گا ۔ وہ وہی کرے گا جو میں کہوں گا اور اب تم اور اور تمہاری بیٹی ۔۔۔۔

اس نے ایک پھونک ان پر ماری تھی ۔اور وہ جان اور لارا الو بن گۓ تھے۔ اسی بنگلے میں  رہوگے مگر الو بن کر ۔۔۔وہ پھر ہنسا تھا ۔

اور وہ الو بن گۓ۔ اور وہ بچہ ۔۔۔۔بچہ ہمیشہ کے لیۓ اس ڈیمن‌کی قید میں چلا گیا ۔اس وقت تک جب تک کہ کوئ اسے اس ڈیمن کی قید سے بچالے ۔ وہ بچہ اب آزاد ہونا چاہتا ہے ۔ ڈیرک بولتے بولتے چپ ہو گیا اور رونے لگا ۔۔

اور وہ تینوں یک ٹک ڈیرک کو دیکھ رہے تھے ۔جسکی سفید آنکھوں سے گرم گرم آنسو نکل رہے تھے ۔

جاری 



۔

۔ 



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ