دی ڈارک ڈیمن ہاؤس ۔۔۔خونی سایہ
دی ڈارک ڈیمن ہاؤس ۔۔۔۔۔۔۔خونی سایہ
قسط تین
و لوگ بنا آواز کیۓ چل رہے تھے۔ انہیں الووں کا ڈر تھا مگر انہیں یہ پتا نہیں تھا کہ الووں سے بڑی بلا انکے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل رہی ہے ۔
وہ بڑی مشکل سے راستہ ڈھونڈتے جا رہے تھے ۔ افراتفری میں بھاگتے بھاگتے انہیں اپنے کمرے کا راستہ ہی بھول گیا تھا ۔
وہ چلتے جا رہے تھے ۔یہ جانے بنا کہ وہ جہاں سے شروع کر رہے تھے وہیں واپس آ گۓ تھے ۔
اب دوپہر ہو رہی تھی ۔ اور وہ ابھی تک راہ داریوں میں بھٹک رہے تھے ۔
ایک منٹ رکو ۔ جارج نے ان لوگوں کو روکا ۔
کیا ہم دوبارہ یہیں واپس نہیں آۓ ۔ وہ پوچھ رہا تھا ۔ تو ان دونوں نے سر کھجا یا ۔
شاید صحیح کہہ رہے ہو ۔
جارج آس باس کچھ ڈھونڈنے کی کوشش کرنے لگا ۔
کیا ڈھونڈ رہے ہو ۔
میں جب بھی یہاں سے نکلتا ہوں ۔ تو مجھے یہ کھڑکی ملتی ہے ۔میںاس پر کچھ لٹکا دوں گا تا کہ ہمیں بتا چل جاے کہ ہم یہاں آ چکے ہیں ۔
یہ کہتے ہو ے اس نے اپنی تھیلی سے جو وہ ہمیشہ اپنے پتلون کی پاکٹ کے ساتھ باندھتا تھا ۔ ایک سرخ کپڑا نکالا اور اس نے اس کھڑکی کو باندھا ۔ اور اب وہ دوسری راہ داری میں مڑ گۓ تھے۔
چلتے جلتے جارج کو کچھ آواز آئ تھی۔ ایسے جیسے کہ کوئ ہنس رہا ہو
وہ رکا تھا اور آس پاس دیکھنے لگا ۔
پھر کوئ لمبی لمبی سانسیں لینے لگا ۔اور بھر اس نے اس سایہ کو دیکھا تھا ۔جو اب اپنی ظاہری صورت کے ساتھ حاضر تھا۔ اسکا چہرا انتہای سفید اور آنکھیں سرخ تھیں ۔ آنکھوں سے لیکر اسکی پیشانی خون سے بھری لگ رہی تھی ۔ اسکے ہاتھ بھی خون میں رنگے تھے ۔ اس عجیب بلا کو دیکھ کر انہیں جیسے سانپ سونگھ گیا تھا ۔
کک کون ہو تم ۔۔ ہنری ہکلایا ۔
میں تو میزبان ہوں ۔ اور تم میرے مہمان ۔ بتاؤ کیا چیز پیش کروں ۔ وہ خونی مسکراہٹ کے ساتھ کہہ رہا تھا ۔
ان تینوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تھا ۔
ہم مہمان ہیں تو ہمارا کمرہ کدھر گیا ۔ جارج نے اسے گھور کر دیکھا ۔
وہ خونی بلا ہنسنے لگی ۔
مل جاۓ گا بہت جلد لیکن میری ایک شرط ہے ۔
شرط ۔جارج کو لگا کہ وہ اب اسکے چنگل میں پھنسنے والے ہیں ۔
ہاں ۔مجھے تمہارا وہ دوست چاہیۓ جو بہت ایماندار ہے ۔اسکی آواز خطرناک حد تک بلند تھی۔ ۔
ان تینوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ لیا ۔ سیاہ گھپ اندھیرے میں اس بلا کی صرف سرخ چمکتی ہوئ آنکھیں نظر آرہی تھیں جس سے دل کے اندر تک خوف کی لہر سرایت کر رہی تھی ۔
ہم میں سے کوئ ایک بھی ایماندار نہیں ہے۔تم کسکی تلاش میں ہو ۔
تلاش وہ کرے جسے نا ملے مجھے تو میرا شکار مل گیا ہے ۔ یہ کہہ کر اس نے اپنا ہاتھ لمبا کیا ۔ اور پال کی گردن دبوچ لی ۔
وہ پال سے کئ فٹ دور تھا مگر اسکا ہاتھ لمبا ہو تا گیا تھا ۔اورپال کی گردن تک پہنچ گیا تھا ۔
پال کے حلق سے آوازیں نکلنی شروع ہوئیں ۔
اسکی انگلیاں لوہے کی زنجیر کی طرح سخت تھیں ایسا لگ رہا تھا کوئ لوہے کا شکنجہ اسکے گردن کے گرد کس رہا ہو ۔
ہنری جارج نے پال کا ہاتھ نہیں چھوڑا تھا جبکہ اس بلا کے دوسرے ہاتھ میں انکی گردنیں تھیں ۔ انہیں سانس لینی مشکل لگنے لگی۔
اب وہ تینوں اس بلا کے چنگل میں پھنسے تھے ۔
خونی بلا اپنے سرخ ہاتھوں سے پال کی گردن پر اپنے انگلیوں کے نشان چھوڑ رہی تھی ۔ وہ تینوں سخت مزاحمت کر رہے تھے ۔
پال کے زرد ہو تے چہرے کو دیکھ کر جارج کے ہاتھ پیر ٹھنڈے ہو نے لگے تھے ۔
وہ یوں پال کو موت کے منہ میں جاتے نہیں دیکھ سکتا تھا ۔اس نے اپنی پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالا ۔ ہاتھ باہر نکالا تو ایک چھوٹا نوکیلا صلیب تھا جو لوہے کا بنا ہو ا تھا ۔
اس نے اپنی گردن سے لپٹے اس بلا کے ہاتھ پر ایک زور دار وار کیا ۔
وار کاری رھا ۔ اس بلا نے چیخ ماری تھی ۔
نہیں ۔ اسکی آنکھوں سے خون تپکنے لگا ۔
اسکے ہاتھوں کی گرفت سے پال نیم مردہ سا تھا مگر وہ ہوش میں تھا ۔
خونی سایہ اب جارج پر جھپٹا ۔ اس نے ایک ہاتھ سے جارج کو گردن سے پکڑا اور دور پھینک دیا ۔ایک لمحہ میں جارج دیوار سے بری طرح ٹکرا گیا ۔
اب وہ خونی سایہ نے ہنری کو اپنے داہنے ہاتھ سے اوپر اٹھایا اور بہت بلندی سے اسے گرادیا ۔
ایک اندوہ ناک چیخ ہنری کے منہ سے نکلی تھی ۔ وہ تیورا کر زمینبوس ہوا تھا ۔ اب خونی بلا ان دونوں کو چھوڑ کر پال پر اپنی توجہ مرکوز کر چکی تھی۔
جس کی آنکھیں اور منہ سے اب خوننکلنے لگا تھا ۔
پال ۔جارج نے جو دیوار سے سرٹکرانے کے بعد بے ہو ش ہونے کے قریب تھا آخری آواز دی تھی ۔
پال ۔ ۔پال ۔ اٹھو آنکھیں کھولو ۔اب تم ہی ہمیں بچا سکتے ہو ۔اٹھو ۔آنکھیں کھولو ۔پال ۔اسکی لرزا دینے والی للکار پر پال نے بمشکل آنکھیں کھولیں ۔
اس نے اپنے دونوں دوستوں کو دیکھا جنکے سر خون آلود تھے ۔ اور وہ بے ہوش ہونے کے قریب تھے ۔اسکی آنکھوں میں اندھیری چھاتی جارہی تھی ۔ لیکن اسے یہاں آنے سے ایک دن پہلے کا واقعہ یاد آ رہا تھا ۔
وہ اس رات اپنی روز کی مزدوری ختم کر کے اپنے گھر جا رہا تھا ۔سنسان سڑک ، رات کا سماں یہاں وہاں اکا دکا مسافر ہی نظر آ رہے تھے ۔وہ گنکناتے جا رہا تھا جب اس نے اپنے سامنے چل رہے بزرگ کو اچانک گرتے دیکھا ۔ وہ بھاگ کر انکے پاس گیا ۔ وہ ساٹھ سالہ بزرگ بے ہوش ہو گۓ تھے ۔اس نے ہلایا جلا یا ۔آوازیں دیں مگر بے سود ۔ انکی بند آنکھیں کھلیں نہیں ۔ اسکے پاس انہیں ہاسپٹل لے جانے کے سوا کوئ چارا نہیں تھا ۔ اسکے پاس صرف اتنے ڈالر تھے۔ جس سے وہ صرف ٹیکسی کا کرایہ دے سکتا تھا ۔
اس نے ٹیکسی کر لی اور سیدھا ہاسپٹل لے آیا ۔ اور خود انکے ہو ش میں آنے کا انتظار کر نے لگا ۔
کچھ دیر میں ہی وہ بزرگ ہوش میں آ گۓ تھے۔ اور انہوں نے اسے بلایا ۔
وہ انہیں سلام کرتا بیڈ کی ایک جانب ٹہر گیا تھا ۔
کیا نام ہے تمہارا۔ انبزرگ کا لہجہ بہت مہربان تھا ۔
پال ۔ اس نے نظریں جھکا کر جواب دیا ۔
وہ اسے دیکھنے لگے ۔ ایک پرانی بدرنگ شرٹ اور گھٹنوں سے گھسی ہوئ پینٹ سے انہیں اسکی مالی حالت کا اندازہ ہو گیا ۔تھا۔
شکریہ ۔تم نے میری جان بچائ۔ وہ بولے ۔
میں ڈیابٹیس کا مریض ہوں ۔ شوگر لو ہو کر اکثر یونہی راستے میں بے ہو ش ہو جاتا ہوں ۔ مگر تم پہلے انسان تھے جس نے میری نا صرف مدد کی بلکہ میرے بییگ کو بنا چھوۓ مجھےواپس دے دیا ۔ اکثر لوگ میرے پیسے نکال کر مجھے بیگ دیتے ہیں ۔وہ ہنسے ۔
پال نے نظریں نہیں اٹھائیں ۔
دیکھنا چاہتے ہو ۔اس بیگ میں کتنے روپۓ ہیں ۔ انہوں نے اسکے سامنے بیگ کھولا ۔ پال کو ڈالرز سے بھرا و ہ بیگ حیران کر گیا ۔
یہ تقریبا ایک ہزار ڈالرز ہیں ۔ وہ ابھی بھی مسکرارہے تھے ۔
تم چاہتے تو مجھے وہیں بے ہوش جھوڑ کر یہ بیک لے کر وہاں سے بھاگ سکتے تھے ۔ مگر تم نے ایمانداری کا راستہ کیوں چنا ۔
۔کیوں ۔ ۔
وہ سراپا سوال تھے ۔
سر ۔ان روپیوں کو چوری کر کے مجھے کیا ملتا میں یہ بیگ لے کر بھاگتا اور تمام عمر پو لیس سے چھپ چھپ کر زندگی گذارتا ۔پولیس تو کبھی نا کبھی پکڑ لیتی اور میں جیل کی سلاخوں میں بند ہو جاتا اور میری فیملی در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو تی ۔
کیا کر لیتا میں ان روپوں سے ۔کیا مجھے یہ روپے سکون کی نیند دیتے ۔
نہیں ۔
کیا میں اور میری فیملی خوش رہتے
۔ںہیں
تو کیوں چوری اختیار کرتا جو مجھے سکون کا ایک لمحہ بھی نا دیتی ۔
وہ ٹہر ٹہر کر بول رہا تھا جبکہ بزرگ کے چہرے پر ستائش تھی ۔
اگر چاہو تو یہ بیگ لے جا سکتے ہو ۔ میری مرضی سے ۔ کوئ تمہیں کچھ نہیں کہے گا ۔ انہوں نے پیشکش کی ۔
جناب ۔وہ مسکرایا ۔
محنت کی کمائ ہی کھری کمای ہو تی ہے ۔ میری محنت کے دو پیسے مجھے جو سکون دیں گے وہ یہ روپے نہی دیں گے ۔
بزرگ بھی مسکراۓ۔
ٹھیک ہے۔ لیکن تم نے میری جان بچائ۔ اور جان کی قیمت تو یہ بیگ سے بھرا روپیہ بھی ادا نہیں کر سکتا ۔ وہ رکے تھیے اور اپنی جیب سے ایک آئینہ نکالا اور اسکی طرف بڑھایا ۔
یہ لو ۔ اسے رکھ لو ۔
پال نے تعجب سے اس آئینہ کو دیکھا جو لکڑی کے فریم میں مقید تھا ۔ بہت قدیم آئینہ لگ رہا تھا ۔
ہر چیز اپنے وقت پر کام آتی ہے ۔ یہ آیینہ بھی اپنے وقت پر کام آئیگا ۔ ان بزرگ نے کہا تو پال کو وہ آیینہ رکھنا پڑا تھا ۔
اور اب کھلتی بند آنکھوں کے ساتھ اپنی جیب میں پڑا وہ آئینہ یاد آیا تو اس نے اپنے جیب میں ہاتھ ڈالا اور وہ آیینہ نکالا ۔
سیاہ اندھیری راہ داری آئینہ نکالتے ہی چمکنے لگی تھی ۔
اس آئینہ کو دیکھتے ہی خونی سایہ دو قدم پیچھے ہٹا تھا ۔ اور اس روشنی کے سا تھ ہی کمزور پڑنے لگا تھا ۔
اس نے اپنے ہاتھ کا دباؤ پال کی گردن پر ڈالنا چاہا مگر پال اب نیکی کی قوت جان چکا تھا ۔ اس نے ایک جھٹکے سے اس خونی سایہ سے اپنے آپ کو چھڑایا تھا ۔ وہ سایہ زمین سے دو فٹ اوپر اچھلا تھا ۔
اے سایہ ۔یہ دیکھ ۔ نیکی بدی پر کیسے غالب آتی ہے ۔ اس نے آئینہ سیدھا کیا اور اس سایہ کے چہرے پر مرکوز کیا ۔ اس آیینہ سے نکلتی روشنی سے اس سایہ کی چیخیں نکلنے لگی تھیں ۔
میں جا رہا ہوں مگر وہ نہیں جاۓ گا وہ آرہا ہے اوروہ آۓ گا جیسی بے معنی پکار پکار رہا تھا۔
آیینہ میں وہ سایہ قید ہوتا جا رہا تھا ۔
جیت نیکی کی ۔ پال نے نعرہ لگایا تھا اور وہ سایہ مکمل چھوٹا ہو گیا اور ایک سیاہ نقطہ بن کر اس آیینہ میں قید ہو گیا ۔ تب پال نے سکون کی سانس لی اور جارج اور ہنری کی جانب بھاگا ۔ وہ بے ہو ش ہو گۓ تھے ۔ وہ انہیں جھنجھوڑنے لگا تھا ۔
جارج ،ہنری ۔اٹھو اٹھو ۔ وہ انہیں آوازیں دینے لگا ۔
کچھ دیر میں ان دونوں کی آنکھ کھلی ۔
اور ان دونوں کو اٹھتے دیکھ کر پال کی جان میں جان آئ تھی ۔
وہ سایہ نما بلا کہاں گئ ۔ جارج نے پہلا سوال یہی کیا ۔
وہ قید ہو گئ۔ ایک آیینہ میں ۔ اسکی بات پر وہ دونوں حیران سے تھے ۔
آیینہ ۔میں مگر کیسے ۔تم نے یہ سب کیسے کیا ۔
پال نے مختصرا بتا یا ۔تو ہنری اسے دیکھ کر مشکوک نظروں سے دیکھ کر پوچھا ۔
ایماندار اور تم ۔سیریسلی۔۔تم تو سکول میں ہمارا بر گر چوری کرتے تھے۔ اس بات بر جارج قہقہ مار کر ہنسا تھا۔
وہ تو ابھی بھی کرتا ہوں ۔دوست جو ٹہرے۔ پال ہنستے اسے چڑا کر بولا ۔
اس بزرگ نے تمہیں ایماندار کیسے مان لیا ۔یقینا انہوں نے بیگ چیک نہیں کیا ہو گا ۔ ہنری کی بکواس جاری تھی ۔
یا پھر تم نے نقلی نوٹ رکھ دیۓ ہونگے ۔ ۔ انہیں پتا نہیں چلا ہو گا ۔ وہ بک بک کرتے جا رہا تھا ۔
تبھی جارج نے موم بتی جلائ تھی جو کہ وہ ہمیشہ ساتھ رکھ رہا تھا۔
یہ دیکھو ۔ہمارا کمرا ۔۔۔۔مل گیا ۔اس نے سامنے اشارا کیا تو ان تینوں نے دیکھا ۔ وہ بالکل اس کے سامنے کھڑے تھے۔ یہ کمرا اگر یہیں تھا تو وہ پچھلے ایک گھنٹے سے کیوں نظر نہیں آیا ۔
اگر وہ یہاں نہیں تھا تو اب بالکل انکے سامنے کیسے آیا ۔
یہ ساری سوچنے کی باتیں تھیں ۔مگر وہ اس سب میں پڑنے کے موڈ میں نہیں تھے ۔اس لیۓ کمرے میں گۓ اور سب آڑھے ترچھے بیڈ بر لیٹ گۓ۔۔تھے ۔یہ سوجے بنا کہ اب اس ڈارک ڈیمن ہاںس کی وہ پہلی رات تھی اور یہ رات ان پر کیا ستم ڈھاۓ گی وہ نہیں جانتے تھے۔
جاری ہے
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں