تیرے لیۓ ۔قسط 10 completed

 وہ شام میں کپڑے لیۓ اپنی الماری سٹ کر رہی تھی ۔جب رحیمہ اس کے پاس آئ تھی ۔ 

"باجی ۔ "

"آؤ ۔رحیمہ کیا ہوا ۔" اس نے اپنا کام کچھ دیر کے لیۓ موقوف کر دیا تھا .

"باجی میں بیوٹی پارلر کا کام  سیکھنا چاہ رہی تھی "۔ وہ انگلیاں مروڑ کر بول رہی تھی ۔ 

"بیوٹی پارلر "۔اریشہ نے حیرانی سے دہرایا تھا ۔

"کیا تمہیں دلچسپی ہے ۔اس میں ۔ "

"ہاں باجی" ۔اس نے سر ہلایا ۔

"فوزان سے پوچھا ۔" اس نے سوال کیا ۔

"پوچھا تھا مگر انہوں نے کہا کہ پری کو سنبھالو کافی ہے ۔"وہ سر جھکا کر بولی ۔

"باجی ۔گھر کے بالکل قریب ہے ۔ آپ اپنے اسکول سے آئیں گی تب میں جاؤں گی۔ پری کی بھی ٹنشن نہیں ہو گی۔" وہ اسے راضی کرنا چاہ رہی تھی ۔ ۔ 

ااریشہ کچھ دیر سوچتی رہی ۔ پھر اس نے اثبات میں سر ہلایا تھا ۔

"ٹھیک ہے ۔جوائن کر لو ۔ میں بول دوں گی فوزان کو ۔ "

"شکریہ باجی" ۔ اس کی خوشی چھپاۓ نہیں چھپ رہی تھی۔ 

**********

دوسرے دن فوزان اس کے پاس آیا تھا ۔

"کیوں دی اسے اجازت" ۔‌وہ چڑ کر بولا ۔

"جانے دیں ۔بور ہو رہی ہوگی۔ دل بہل جاۓ گا اس کا ۔ کچھ سیکھ کر ہی آۓ گی۔" وہ رسان سے بولی ۔ 

"بد صورتی میں اضافہ کرنے کے ایک سو ایک طریقے سیکھ کر آۓ گی "۔ وہ تپا ہوا تھا ۔ 

ا"اسے ہنسی آئ۔ "اسے میک اپ پسند نہیں تھا ۔

"بچی ہے فوزان "۔ وہ بولتے بولتے اسے شرارت سوجھی۔ 

آ"آپ کی طرح بڑی عمر تھوڑی ہے اس کی ۔" اسکی شوخ سی بات پر وہ اسے گھورنے لگا ۔

ا"اچھا بڑی عمر ۔ابھی بتاتا ہوں تمہیں "۔ وہ اٹھا تو وہ جلدی سے اپنے کمرہ کی طرف بھا گی تھی ۔ 

ان دونوں کو ہنستے دیکھ کر رحیمہ کے اندر ایک عجیب سی آگ لگی تھی ۔


**********

رحیمہ اب اریشہ کے آنے کے بعد دوپہر کا کھانا کھا تے ہی پالر کے لیۓ نکلتی ۔ اور اریشہ پری کو لے کر بیٹھ جاتی ۔ پری بہت سمجھ دار سی بچی تھی ۔ وہ زیادہ تر اپنے آپ کھیلتی رہتی ۔ وہ اب چھ مہینے کی ہو رہی تھی ۔ اس لیۓ فیڈر ہو  تو وہ زیادہ ستاتی بھی نہیں تھی ۔ 

فوزان اب زیادہ تر بنگلور میں رہ رہا تھا ۔ اس کا زیادہ وقت کام میں ہی لگ رہا تھا ۔ وہ گھر کو بس دو دن کے لیے آتا اور پھر تیسرے دن اس کی روانگی ہو تی ۔ اس نے پلاٹ بھی لے لیا تھا ۔ جسکی ماہانہ قسطیں اسے بھرنی تھیں ۔


********

رحیمہ جب پہلی بار بیوٹی پارلر سے آئ تو بہت حیران تھی ۔ اس نے کبھی نہیں سو چا تھا کہ لوگ صرف خوبصورت  نظر آنے کے کے  لاکھوں  روپیۓ یو نہی خرچ کر دیتے ہیں .جتنے روپیۓ اس کا باپ ماہانہ کماتا اتنا کچھ عورتیں ایک دن میں خرچ کر دیتی ہیں یہ دیکھ کر وہ دنگ رہ گئ تھی۔ 

"باجی ۔کیا ایسے بھی عورتیں ہو تی ہیں دنیا میں ۔جو مہینہ بھر کی کمائ ایک دن میں لٹاتی ہوں  "۔ وہ اریشہ سے پوچھ رہی تھی۔

"ہاں۔ہوتی ہیں بلکہ دنیامیں اس سے زیادہ عجیب و غریب واقعات ہو تے ہیں ۔ تم نے ابھی دنیا کو دیکھا  کہاں ہے ۔" اس کی حیرت پر وہ مسکرائ تھی ۔ 

"دنیا ہی تو دیکھنا چاہتی ہوں ۔ باجی "۔ وہ بھی جواباً مسکرائ تھی۔ ۔ 

***********

جیسے جیسے دن گذرتے جا رہے تھے ۔ رحیمہ کو کئی خواتین سے سابقہ پڑتا جا رہا تھا ۔ کچھ مستقل کسٹمرز تھیں تو کچھ کبھی کبھی آنے والی۔ لیکن سب میں ایک بات کامن تھی وہ تھی ۔فضول گوئ کی ۔ 

وہاں پارلر میں گھنٹوں بیٹھنا بڑتا تھا تو اکثر ایک دوسرے کے حالات زندگی سے بھی واقفیت ہو جاتی تھی۔ ۔ ایسے ہی رحیمہ سے بھی اس کے بارے میںکسی  نے پوچھا ۔جب اس نے بتایا کہ اسے تو اس کی سوتن ہی بیاہ کر لائں ہے ۔اور باجی تو بہت اچھی ہیں ۔ تو وہ سب ہنسنے لگی تھیں ۔ 

ا"ارے چھوڑو ۔ یہ تو سب مردوں کو اپنی مٹھی میں کرنے کے طریقے ہیں ۔ اگر وہ خود نا کرتی تو کیا تمہارے شوہر نے دوسری شادی نہیں کرنی تھی ۔ "

"دیر بدیر وہ اولاد کے لیۓ شادی تو ضرور کرتا ۔ اس سے پہلے کہ وہ خود کر کے لاۓ خود ہی کوئ اللہ میاں کی گاۓ کو پکڑ کر شادی کروادو ۔ چلو جی قصہ ختم ۔ شوہر تو زندگی بھر کے لیۓ غلام ہو جاۓ‌اور سسرال میں نام بھی۔ پاؤ ۔ "

"اور نہیں تو کیا ۔ ورنہ ایسی عورت کی کیا حیثیتت جو اپنے شوہر کو اولاد کا سکھ نا دے سکے۔  نری بانجھ "۔ ایک اور نے ہاں میں ہاں ملائ ۔ تو پہلی بار رحیمہ کو لگا کہ شاید کہیں وہ غلط تھی .

اور وہ جب گھر آئ تو اریشہ کو لیکر وہ بدگمان ہو گئ تھی۔

************* ۔

ااب وہ کئ چیزوں میں من مانی سی کرنے لگی تھی ۔ 

اس دن بھی وہ پارلر سے آئ تو ایک بہت بڑا میک اپ  بکس خرید کر لائ تھی ۔ جو کہ امپورٹڈ تھا ۔ اور کافی مہنگا لگ رہا تھا ۔ 

اریشہ نے دیکھا تو پوچھ بیٹھی۔ 

"اتنا مہنگا میک اپ بکس کیوں خریدا ۔ رحیمہ ۔ "

"مجھے اچھا لگا تو میں نے خرید لیا "۔ اس نے لا پرواہی سے کہا تھا ۔ 

"تم نے اتنے پیسے ضائع کر دیۓ "۔ اسے افسوس سا ہوا تھا تو رحیمہ ہنسی تھی۔ 

"باجی ۔آپ تو کچھ روپیوں کی بات کر رہی ہیں ۔ لوگ تو کسی کی زندگی ضائع کر دیتے ہیں ۔ اور احساس تک نہیں کرتے۔ "نجانے اس کے لہجے میں کیا تھا کہ اریشہ نے چونک کر اسے دیکھا تھا ۔‌

"مطلب "۔‌

"کجھ نہیں بس ایسے ہی کہہ دیا" ۔ وہ میک اپ باکس اٹھاۓ اوپر چڑھنے لگی 

نیچے اریشہ اسے ایک  ایک قدم اوپر چڑھتی دیکھ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں الجھی سوچ کے ساۓ تھے۔


**********

"رحیمہ ۔ رحیمہ ۔ "اریشہ اسے پکارتی آ رہی تھی ۔ وہ ٹی وی لاؤنج میں ٹی وی لگاۓ بڑے مزے سے بیٹھی تھی ۔ 

"پری کو تم نے مارا ۔اور اتنی زور سے ۔ دیکھو تو بچی کا گال سرخ انگارہ ہو گیا "۔ وہ پری کو لیۓ اسکے پاس آئ تھی ۔ لہجہ میں حد درجہ برہمی تھی۔ 

"ہاں مارا ۔بہت تنگ کر رہی تھی تو اس لیۓ مارا ۔" وہ ہنوز ٹی وی میں مگن انداز میں بولی تھی ۔ 

ا"ایسے کیا تنگ کیا تھا اس نے ۔ یہ تو بڑی مہذب بچی ہے ۔تم نے اسے ایسا مارا بچی کے گال پر کہ  انگلیوں کے نشا ن بیٹھ گۓ ۔ "

"تو کیا ہوا باجی ۔ وہ میری اولاد ہے ۔ آپکی تو نہیں جو آپ اتنا چلا رہی ہیں ۔ "اس نے ویسے ہی بد تمیزی سے جواب دیا تھا ۔ ایک پل کے لیۓ اریشہ سن ہو گئ تھی۔ 

ا"اور ۔۔۔۔میری پری کی تکلیف سے آپ کو کیا لینا دینا ۔ آپ کی خود کی اولاد تو نہیں جو  آپ کو درد محسوس ہو ہونہہ۔ "اس نے  سر جھٹک کر پھر سے ٹی وی پر توجہ مبذول کر لی تھی۔ اریشہ کو ایک پل میں اپنا آپ بلکل بے وقعت سا محسوس ہوا تھا ۔

اسے کسی نے آج تک حتی کہ شوہر نے تک بے اولادی کا طعنہ نہیں دیا تھا ۔ اس کا رنگ بلکل پھیکا پڑ گیا تھا اور وہ اپنے کمرے میں آگئ تھی۔ نجانے کب کے رکے آنسو یکدم بہنے لگے تھے ۔ اور اسکے آنسو دیکھ کر بے چین ہونے والا فوزان بھی وہاں نہیں تھا ۔

 

۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ