تیرے لیۓ ۔۔قسط 7 complete
تیرے لیۓ۔۔۔۔
اسی وقت فوزان اور اریشہ نے کچھ بولتی نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکھا تھا ۔رحیمہ واپس آئ تو کافی نڈھال سی تھی ۔
"کیا ہوا رحیمہ ۔تمٹھیک ہو "۔ اریشہ نے اسے تشویش بھری نظروں سے دیکھا ۔
"باجی ۔مجھ سے کھانا نہیں کھایا جائے گا۔ واپس آرہا ہے ۔"وہ پیٹ پکڑے پکڑے بولی تھی۔
ا"اچھا ٹھیک ہے ۔تم وہاں لیٹ جاؤ ۔ڈاکتر کے پاس چلتے ہیں" ۔ اس نے اسے لٹا یا اور فوزان کی طرف مڑی ۔تھی۔ مگر اس کے کچھ کہنے سے پہلے ہی وہ بولا تھا۔۔
"تم ناشتہ کر لو ۔میںگاڑی نکالتا ہوں۔" گاڑی کی چابی ٹیبل سے اٹھا تا وہ بولا تھا ۔اریشہ نے اثبات میں صرف سر ہلایا تھا ۔
کچھ ہی دیر بعد وہ رحیمہ کو لیۓ لیڈی گائنا کولوجسٹ کے کلینک میں موجود تھے ۔
"میں ابھی چیک کرتی ہوں "۔ ڈاکٹر رحیمہ کو لے کر اندر چلی گئ تھی ۔ کچھ دیر بعد وہ واپس آئ تو مسکراتے ہوۓ بولی تھی ۔
" وہ ماں بننے والی ہے۔" ڈاکٹر کی اس بات نے دونوں کو ایک پل میں بے پناہ خوشی سے ہمکنار کر دیا تھا ۔
"سچ۔ ڈاکٹر "۔ اریشہ خوشی سے بولی تو ڈاکٹر نے مسکراتے ہوے سر ہلایا ۔
"اللہ تیرا شکر ہے "۔اس نے بے اختیار کہا تھا ۔ فوزان آسے دیکھ کر مسکرانے لگا تھا ۔
" جی ۔یوں تو سب ٹھیک ہے ۔مگر آپ کو احتیاط کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہیں مکمل بیڈ رسٹ دینا ہوگا ۔ ورنہ انکے حمل کے ضائع ہونے کا خدشہ ہے "۔ ڈاکٹر کی اس بات سے وہ دونوں پریشان ہو گۓ ۔
"میں میڈیسن لکھ رہی ہوں ۔ ہر مہینہ ان کا چیک اپ ہو گا ۔ اور مکمل نو مہینے تک کا بیڈ رسٹ ۔آپ ۔۔۔"۔اس نے اریشہ کو سوالیہ انداز میں دیکھا تھا ۔
"بڑی بہن ہوں انکی" ۔اس نے اندر سے آتی رحیمہ کو دیکھ کر کہا تھا ۔
"چلیں ٹھیک ہے ۔ ویسے پریشانی کی کوئ بات نہیں ۔بس احتیاط سے رہنا ہوگا ۔" اس نے پیپر پر لکھنا شروع کردیا اور بل فوزان کو تھمایا ۔
"یہ ٹیلٹ وغیرہ منگوالیں۔دودھ ،پھل مقوی غذاییں دیتے رہیں ۔" ڈاکٹر اپنے روٹین والے لہجے میں کہہ رہی تھی۔
"۔ جی ٹھیک ہے ۔ شکریہ"
۔ فوزان نے پیپر لے لیا اور وہ دونوں باہر آگئیں.
راستہ میں فوزان نے گاڑی روک کر ڈھیر سارے پھل اور مٹھائی لی تھی۔گھر پہنچ کر جب اریشہ نے امی کو خوش خبری سنائ تو وہ بھی نہال ہو گئیں۔ فوراً رحیمہ کی بلائیں لے ڈالیں اور دعا ئیں دینے لگیں ۔
" رحیمہ امی کے ہی کمرے میں لیٹ جاؤ ۔اب اوپر مت جانا ۔سیڑھیاں چڑھنے اترنے سے احتیاط کرنا ہے ۔ "اریشہ نے نرمی سے رحیمہ کو کہا تو وہ اثبات میں سر ہلا تی امی کے کمرہ کی جانب بڑھی تھی ۔
اس کے جانے کے بعد امی نے اریشہ کو بھی ڈھیر ساری دعائیں دیں ۔
"میری بچی ۔اللہ نے تمہاری سن لی ۔بہت دل کیا تم نے ۔ اللہ تم تینوں کو ہمیشہ خوش و خرم رکھے "۔ انکی دعا پر آمین کہتی اریشہ نم آنکھیں لیے مسکرانے لگی تھی ۔
"دعوت کا کیا کرنا ہے" ۔ فوزان صوفہ پر بیٹھ کر اس سے پوچھنے لگا ۔
"رحیمہ تو پتا نہیں آۓ گی کہ نہیں۔ آپ بتائیں کیا کریں ۔"
"ہم دونوں چلتے ہیں ورنہ بھابھی برا مان جائیں گی۔" اس نے کہا تو اریشہ سوچنے گی ۔
"کیا ہوا ۔ "
"اگر انہوں نے رحیمہ کا پوچھا تو ۔۔۔میں دراصل ابھی اتنی جلد بتانا نہیں چاہتی ۔ "اس نے وضاحت کی ۔
"کیوں "۔وہ تھوڑا حیران ہوا ۔
"بس ۔اتنی جلد بتائیں گے تو نظر ہو جاتی ہے ۔ اس لیۓ ۔کچھ دن گذر جائیں جب بتائیں گے "۔ اس کی بات پر امی نے بھی ہاں میں ہاں ملائی ۔
"صحیح کہہ رہی ہے ۔ ابھی کسی کو کچھ مت بتاؤ ۔خوامخواہ باتیں بنتی ہیں "۔ ان کی بات پر فوزان کندھے اچکا کر رہ گیا ۔
*******
شام میں وہ دونوں دعوت کے لیے نکلے تھے ۔ رحیمہ نے ویسے بھی آنے سے منع کر دیا تھا ۔ بھابھی نے رحیمہ کا پوچھا تو اریشہ نے سب کو یہی بتا یاکہ اسکے کچھ رشتہ داراس سے ملنے کے لیے آۓ تو وہ رک گئ ۔
گیارہ بجے تک وہ فارغ ہو گۓ تھے ۔ اریشہ فرنٹ سیٹ بر بیٹھی تھی ۔
آج کی خوش خبری سن کر وہ دونوں ہی سرشار تھے ۔
"خوش ہیں ناں آپ ۔" اس نے گاڑی چلاتے فوزان کو دیکھ کر پوچھا تھا ۔
"ہاں بہت ۔ ایک خوبصورت احساس ہو رہا ہے ۔ مجھے ۔"اس کی آنکھوں میں آنے والے مہمان کے لیۓ ابھی سے محبت پھوٹی جا رہی تھی ۔
"چلیں اس بات پر کافی تو پلوائیں "۔ وہ ہنسی تو وہ اسے دیکھنے لگا ۔
"شیور ۔ لیکن تم یہ سب کیسے منیج کرو گی۔ ڈاکٹر نے بیڈ ریسٹ کہا ہے ۔ تم کو ئ ہاؤس وائف نہیں ہو ۔ جاب ہے تمہاری ۔"
"میں سب سنبھال لوں گی" ۔ اس کے لہجے میں اطمینان تھا ۔
"میڈ رکھ لو ۔ گھر کے سو کام ہوتے ہیں ۔میں نہیں چاہتا کہ اس سب میں تم پر یا تمہاری صحت پر اثر پڑے ۔ "وہ ڈرائیو کرتے بہت سنجیدگی سے کہہ رہا تھا ۔
"نہیں ۔گھریلو کاموں کے لیے آ تو رہی ہے ۔شمو ۔ میں اسے ملازماؤں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی ۔ میں اس معاملہ میں رسک نہیں لے سکتی ۔ "اس نے صاف انکار کر دیا تھا ۔
"پھر بھی ۔ مجھے بھی اکثر آوٹ آف اسٹیشن رہنا پڑتا ہے ۔ تم اکیلی پڑ جاؤگی۔ اس لیۓ کہہ رہا تھا "۔اس نے کافی شاپ پر گاڑی روک دی تھی ۔ دو کافی کا آرڈر دیکر وہ پھر اسے کہہ رہا تھا ۔
"میں سب دیکھ لوں گی ۔ بس بھروسہ رکھیں مجھ پر ۔" اس کی بات پر وہ مسکرایا تھا ۔
"بھروسہ تو ہے ۔ تم پر اپنے آپ سے زیادہ ۔ "
کافی آگئ تھی۔
وہ ایک کپ اسے دے کر خود اپنے کپ سے گھونٹ گھونٹ کافی پینے لگا تھا ۔
کافی پی کر اس نے گاڑی اسٹارٹ کر دی تھی ۔" اچھا ایک ات تو بتاؤ ۔"۔وہ اسٹیرنگ گھماتے گھماتے اسے دیکھنے لگا ۔
"جیلس نہیں ہوتیں تم ۔ رحیمہ سے ۔ "
"جلیں میرے دشمن ۔ میں کیوں جلوں وہ میری چھوٹی بہن کی طرح ہے "۔ اس نے جلدی سے کہا تو فوزان کی مسکراہٹ گہری ہوگئ۔
ا"اگر مجھے اس سے محبت ہو جاۓ تب کیا کرو گی۔ "
"آپ ہی بتادیں کہ میں کیا کروں گی۔" وہ اس سوال کے لیۓ تیار نہیں تھی ۔
"مجھے پتا ہے تم کیا کرو گی۔ "
"کیا ۔"
"تم ہم دونوں کے راستے سے خاموشی سے ہٹ جاؤگی ۔ ہے ناں ۔" وہ سیدھا اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا ۔
آ"آپ مجھے اپنے راستے سے ہٹا دیں گے "۔ وہ روہانسی ہوگئ ۔
"ہاں ۔" وہ اسے چھیڑ کر مزے لے رہا تھا ۔
"ہر اس چیز کو جو میرے اور تمہارے بیچ آۓ۔ سمجھیں "۔ اس نے اس کے سر پر ہلکی سی چپت لگا ئ اور ہنسنے لگا تھا ۔
"گجرے لے لوں "۔قریب گجرے والا انکی کھڑکی کے پاس آآگیا تھا۔
"دو لے لیں ۔" اریشہ کی آواز پر وہ ہنسا ۔
"بھئ۔ شوہروں کو مساوات کا حکم دیا گیا ہے ۔سوکنوں کو نہیں ۔ "
"میں آپ کو بھٹکنے نہیں دینا چاہتی ۔"
"گڈ ۔ اللہ ایسی بیوی ہر ایک کو دے ۔" وہ گجرے پیک کرواتے ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے لگا ۔
"ویسے ۔۔۔۔"۔وہ کچھ شرارتی ہوا ۔
"سوچ رہا ہوں ۔ ابھی دو کی گنجایش تو ہے ۔تو کیوں نا اس پر عمل کر ہی ڈالوں" ۔اس کے شراتی انداز پر وہ اسے گھورنے لگی ۔
"مجھے کھونے سے ڈر نہیں لگتا ۔" وہ اس کے گھورنے کو خاطر میں نا لا کر بو لا تھا ۔
"نہیں ۔ کیونکہ میں نے آپ کو پالیا ہے "۔ وہ جذب سے بولی ۔
"ہوں۔ ڈائلاگز بڑے بڑے مارتی ہو ۔کرتی ورتی کچھ نہیں ۔" آج وہ خوش تھا اس کی باتوں سے لگ رہا تھا ۔
آ"آپ پٹری سے کیوں اتر رہے ہیں ۔ "
"کار ہے ریل گاڑی نہیں جو پٹری پر سے اترے "۔ وہ برجستہ بولا تو وہ لاجواب سی کہہ گئ۔
"گھر آگیا ۔"
" ہوں ۔ میں گاڑی پارک کر کے آتا ہوں" ۔ وہ اس کے۔ لیۓ ڈور کھولتا ہوا بولا ۔
"خبردار ۔اگر اپنے کمرے کا دروازہ بند کیا تو ۔۔۔۔ "وہ اسے اترتا دیکھ کر دھمکی بھرے انداز میں بولا تھا ۔
اریشہ کو بے ساختہ ہنسی آئ تھی ۔
آ"آ پ کے لیۓ تو دل کے دروازے ہمیشہ ہی کھلے رہتے ہیں ۔ "۔ وہ مسکراتے کہہ کر اندر کی جانب بڑھی تھی ۔
آج وہ خوش تھا اور وہ اس کی خوشی کو ملیامیٹ نہیں کر سکتی تھی ۔ آج بہت دنوں بعد اسے فوزان اپنے پرانے موڈ میں نظر آیا تھا ۔ اس لیۓ وہ اسے ناراض نہیں کر سکتی تھی۔
#################################.
۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں