تیرے شہر میں
ہم تیرے شہر میں آۓ تھے مسافر کی طرح
شہر شہر اوارہ گردی کی عادت تو کبھی نا تھی ۔اس لیۓ شہروں ،گاؤں کے بارے میں معلومات بھی کم ہی تھیں ۔ جب ابھی کالج میں تھے اور منگنی شدہ ہو چکے تھے تب ابا جی کو حیدرآباد شہر دکن گھمانے کا شوق پیدا ہوا ۔دراصل رشتہ دار کی دعوت آگئ تھی ۔ ہم جو ہمیشہ نانا کرتے تھے ۔ذوق سیاحت اچانک امڈ آیا کہ دیکھیں تو سہی آخر حیدرآباد کیا چیز ہے ۔ اباجی کے ساتھ شادی شدہ بہن اور ہماری چھوٹی بہن وہ بھی ساتھ چلیں۔ ۔
شام کی شادی تھی اور ہم دوپہر پہنچ گۓ تھے اپنے تایا کے گھر ۔تائ جی نے کھانا نکالا اور اصرار کر کر کہ کھانا کھلانے لگیں ۔ اور ہر تھوڑی دیر بعد ان کا یہ فرمانا کہ "بھئ ۔ابھی سیر ہو کر کھالیں ،سیر ہو کر کھالیں" ۔ ہمارے تو سر سے گزر گیا ۔ سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیوں ایسا کہہ رہی ہیں ۔ لیکن دعوت میں گۓ تو پتا چلا ۔ کہ آیسکریم کی دعوت تھی ۔ تنا ول طعام کی نہیں ۔اف ۔ ہم زیادہ سے زیادہ کتنے آیسکریم کھا سکتے تھے ۔ تب سمجھ آیا کہ وہ کیا کہنا چاہ رہی تھیں ۔ خیر ۔۔۔۔
اب آتے ہیں ان کے شہر کی طرف ۔
اس شہر میں رونق بہت ہے ۔آدمی آجاتا ہے تو پھر بس جاتا ہے ۔اس شہر کو قلی قطب شاہ نے بسایا تھا اور دعا کی تھی کہ اسکو لوگوں سے معمور کر ۔ وہ دعا اس درجہ مقبولیت پاگئ کہ جو بھی حیدرآباد دکن میں ایک بار آتا ہے وہ پھر جاتا نہیں ۔
رواداری اور مہمان نوازی ۔حیدرآبادیوں کا شیوہ ہے ۔اور یہاں کا پکوان اپنی مثال آپ ہو تا ہے ۔ چاہے دم کی بریانی لیں یا پھر کھٹے بیگن کا سالن ۔ رمضان کی حلیم ہو کہ ہر جمعہ پکنے والی کھٹی دال ۔ جسکو حیدرآبادی پکوان کا ذائقہ لگ جاۓ ۔اسے پھر کچھ بھی اچھا نہیں لگنا ۔
اباجی نے چار مینار گھمایا ۔مکہ مسجد دکھائ ۔اور بھئ زو کو کیسے بھول سکتے ہیں نہرو زوالیجیکل پارک ۔ وہاں بھی گۓ ۔شیر ببر بھی دیکھ لیۓ ۔ (بعد میں پتا چلا حیدرآبادی شیر کے سامنے تو وہ شیر ببر کچھ بھی نہیں تھے ۔) 😀
اقسمت اچھی تھی ۔نمایش کے مہینے میں گۓ تھے تو لگے ہاتھوں نمائش بھی دیکھ لی جو کہ (سال میں صرف ایک بار یکم جنوری سے پندرہ فروری تک لگتی ہے ۔). کچھ کشمیری ڈریسس بھی خرید لیۓ ۔ بہرحال جب واپس اپنے شہر پہنچے تو کزنز نے گھیر لیا ۔
کیسا لگا حیدرآباد ۔
ٹھیک ٹھاک ہے ۔شہر اچھا ہے مگر شاید ہمیں سوٹ نہیں کرےگا ۔ ہم نے منہ بسورا ۔
وہ کیوں ۔
وہاں کی خواتین اف ۔اتنا میک اپ کرتی ہیں ۔کہ کیا بتایئں۔ وہ تو شاید کسی کی میت میں بھی جائیں گی تو میک اپ کے بغیر نا جائیں ۔ اور ۔۔۔۔وہ تو شاپنگ کو بھی جاتی ہیں تو میک اپ کر کے جاتی ہیں ۔ اب کوئ پوچھے ۔شاپنگ کرنے آئ ہیں کہ دعوت اٹنڈ کرنے ۔ ہماری بات پر وہ سب ہنسنے لگیں۔پھر کہا ۔
پھر تو تمہیں واقعی مشکل ہوگی ۔ (کیونکہ میک اپ نامی بلا سے کافی دور دور رہتے تھے ۔)۔
بہرحال ۔جس شہر میں ایک مسافر کی طرح آۓ تھے ۔اس شہر میں پھر یوں بس گۓ کہ یہیں کے ہو گۓ۔
اور یوں کہ
جو تیرا شہر تھا وہ اب میرا شہر بن گیا ۔
ختم شد ۔
۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں