ہاے۶ یہ کیوٹ بزرگ قسط دو

ہاۓ یہ کیوٹ بزرگ 
ہم نے کہا تھا کہ بزرگ جو ہوتے ہیں وہ موقعہ محل بھی نہیں دیکھتے،اور نا مزاج ،طبیعت وغیرہ ۔بس کچھ یاد آجاۓ تو اسی پر ڈٹ جائیں گے ۔یہ ہماری امی ساس بھی ایسی ہی ہیں ۔انکی اکلوتی بھتیجی کی بیٹی کی شادی تھی جبکہ سگا بھانجاانکی بھتیجی کے شوہر تھے مطلب ڈبل رشتہ داری ،یہ لوگ کافی دولت مند ہیں۔اور بیٹی کی شادی میں کوئ کسر ‌‌‌‌نہیں  چھوڑ   رہے تھے۔چونکہ ایک طرف بھتیجی تو دوسری طرف بھانجا اس لیۓ انہیں اسپیشل پروٹو کول دے کر بلایا گیا تھا ۔ویسے یہ دونوں میاں بیوی ہماری ساس کو چاہتے بھی بہت تھے۔اور عزت بھی بہت دیتے تھے۔اس لیۓ انہیں آٹھ دن پہلے ہی بلا لیا تھا ۔مہندی کا فنکشن بہت رات تک چلا ۔دوسرے دن دوپہر میں جب کھانا وغیرہ کھا کر سب اپنی تھکن اتار رہے تھے ۔انہیں اچانک کچھ یاد آیا تو یہ اپنے بھانجے کے پاس چلی گئیں۔
منعیم منعیم ،!،وہ تھکے ہارے گہری نیند میں تھے اور یہ انہیں جگانے لگیں۔
"جی ۔جی خالہ  کیا ہوا "وہ پریشان کہ پتا نہیں خالہ کو کیا ضرورت پیش آئ۔
"تم نے بیٹی کو جہیز میں تانبے کے دیگچے دیۓ کہ نہیں ۔"
"ہائیں" انکی نیند بھک سے اڑ گئ۔جیسے دل میں کہہ رہے ہوں کہ اتنی ضروری بات تھی یہ ۔(دراصل پرانے زمانے میں دیگچے وغیرہ دینا بہت اعزاز کی بات تھی ۔اور یہ لازما" جہیز میں دیے جاتے تھے۔اور یہ دیگچے عام طور پر گھر میں بڑے پکوانوں کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔)
"جی نہیں خالہ ،آجکل ان‌چیزو‌ں کا فیشن نہیں رہا  ۔آجکل تانبہ کی دیگچیو‌‌ں میں کون پکاتا ہے ۔آج کل تو سب کچھ کیٹرنگ والے کرتے ہیں ۔ان  کے بھانجہ نے بڑی رسانیت سے کہا۔ انکا جواب سن کر وہ پھر جانے کے لیے آگے بڑھیں۔
"اچھا اچھا ٹھیک ہے ۔اب تم سو جاؤ۔مجھے ایسے ہی یاد آگیا تو پوچھنے کے لیے آگئ ۔"اب انکے بھانجے اس سوچ میں پریشان کہ جاگنے کے بعد اتنی جلدی نیند کہاں سے آتی ہے۔اسکے بعد وہ کئ بار یہ بات یاد کر کہ ہنستے تھے  کہ خالہ نے کیسے دیگچے کے لیے نیند سے جگایا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  چلیں یہ تو نیند سے جگانے والی بات تھی اور انکے بھانجے نے مذاق میں لے لیا تھا۔لیکن وہ ہمارے ساتھ ایسا کرتی ہیں کہ سمجھ نہیں آتی کہ ہنسیں کہ کیا کریں ۔نام وغیرہ تو اکثر بھول جاتی ہیں ۔لیکن وہ ہم میاں بیوی کو اپنے بھائ بھاوج سمجھنے لگتی ہیں ۔ایسا کبھی کبھا ر ہوتا ہے ۔اورجب اس طرح سمجھ کر وہ ہمیں آواز دیتیں ہیں تو پوچھیں مت ۔ذرا سو چیۓ جب ہال بھر  مہمان ہوں اور آپکی ساس جو کہ خود ستر سال کی ہوں اور وہ سب کے سامنے آپ کو ' بھابھی جان ' کہہ کر بلاۓ تو کیسا محسوس ہو گا۔ہم اپنی ہی ساس کی کئ بار ' بھابھی  جان ' بن چکے ہیں ۔



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ