ہاۓ یہ کیوٹ بزرگ

ہاۓ یہ کیوٹ سے بزرگ 
کہتے ہیں کہ بڑھاپا بچپن ہی کا ایک روپ ہو تا ہے ۔اور بڑھاپے میں بچپن کے پیارے رنگ نظر آتے ہیں ۔جس طرح بچے کیوٹ ،معصوم ہو تے ہیں اسی طرح بزرگ بھی معصوم سے ،کیوٹ سے ہو تے ہیں ۔اب ہم آپ کو اپنی ساس کا یہی معصوم سا انداز بتانا چاہتے ہیں ۔ہماری ساس روایتی ساسوں کی طرح بلکل بھی نہیں ہیں ۔بلکہ ماں جیسی کہوں تو غلط نہیں ہو گا ۔یہ کیوٹ لفظ ہماری بیٹی نے دیا ۔عید کے دن کی بات ہے۔وہ نہاٸیں دھوٸیں اور چوٹی کے لیے ہمارا انتظار کرنے لگیں ۔ہم چونکہ مصروف تھے اس لیے بیٹی کو کہا کہ انکے  بال بنادو ،میں بعد میں چوٹی ڈال دونگی ۔ہم یہ کہکر اپنے کام میں مصروف ہو گۓ ۔تھوڑی دیر کے بعد دیکھا ۔ہماری ساس اپنے بالوں سے بے نیاز کھانے میں مصروف تھیں ۔ہماری جدید فیشن کی دلدادہ بیٹی نے انہیں جدید انداز میں ہاٸ پونی ڈال دی تھی۔(شکر تھا لٹ ںہیں چھوڑی تھی ۔) انہیں پتا ہی نہیں تھا کہ انکی پوتی نے انکے بالوں کا کیا حشر کیا ہے ۔”یہ کیا کر دیا “ہم اپنی ہنسی دبا تے ہوۓ بولے ۔
”مما ۔دادی کتنی کیوٹ لگ رہی ہیں ناں “ وہ بولی تو ہم بھی اثبات میں سر ہلانے لگے ۔ اس طرح وہ کیوٹ کہلاٸیں۔جس طرح بچے دل کےسچے ہو تے ہیں اسی طرح بزرگ بھی دل کے سچے ہو تے ہیں ۔سیاست وغیرہ کو پس پشت رکھ دیتے ہیں اور کسی بھی قسم کی لگی لپٹی کے بغیر اپنے دل کی بات کہ دیتے ہیں ۔
ہماری امی ساس نے بھی ایسے ہی کیا ایک بار ۔ہمارے خاندان میں چونکہ ساس ہی بڑی ہیں اس لیے عید ملنے سب ہمارے پاس ہی آتے ہیں ۔ایسے ہی عید ملنے انکے ایک بھانجے آۓ ۔ہم بتا دیں یہ وہ بھانجے تھے جو تھے تو پچاس کے ،لیکن  اپنی عمر ہمیشہ چھپانے کی کوشش کرتے تھے اور خود کو کم عمر بتانے کی کوشش کرتے تھے۔خیر وہ آۓ اور ہماری ساس کو جھک کر سلام کیا ۔
”اسلام علیکم خالہ “
وعلیکم السلام “ہماری ساس نے بھی انہی کی طرح پر جوش انداز میں جواب دیا ۔
”دعا دیجیۓ خالہ “وہ جھکے جھکے ہی بولے ۔
”دعا “ وہ سوچنے لگیں اور پھر کہا ۔
”جلدی بوڑھا ہو “ انہوں نے معصوم انداز میں دعا دی ۔
”خالہ ،دعا دے رہیں ہیں کہ بد دعا “ وہ اپنے بال برابر کرتے اٹھتے ہو ۓ بولے ۔
”بھیا آپ غلط مت سمجھیں ۔وہ آپ کو درازٸ عمر کی دعا دینا چاہتی ہیں ۔بس زبان انکی ساتھ نہیں دے رہی ۔“ ہم اپنی ہنسی چھپاتے ہوۓ بولے ۔
ہاں ۔پھر ٹھیک ہے ۔ورنہ خالہ سے لڑاٸ ہی ہو جانا تھی ۔“وہ بھی ہنس کر بولے ۔چونکہ عمر زیادہ ہے ہماری ساس کی ،اس لیے انکی باتوں کو زیادہ سیریس نہیں لیا جاتا۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ