آنسو

آنسو 
”آنسو “ کا تعلق آنکھوں سے ہوتا ہے۔آنکھوں کا تعلق دل سے ہوتا ہے ۔دل جس میں خوشی و غم موجزن ہو تے ہیں ۔اس لیے تعلق بھی گہرا ہوتا ہے ۔بغیر دل میں محسوس کیے آنکھوں سے آنسو کیسے ٹپک سکتے ہیں ۔دل میں درد کی گہری ٹیس آنکھ میں آنسو بن جاتی ہے۔دل جو سمندر کی طرح گہرا ہو وہاں آنسو قطرہ نہیں ،جو آنکھ سے گرے ،گہر بن جاتا ہے ۔
آنسو عام طور پر غم و حزن کے عالم میں آنکھو ں سے گرتے ہیں ۔مسرت کی انتہا پر جو گرتے ہیں وہ خوشی کے آنسو ہو تے ہیں ۔یہ خوشی کے آنسو مسکراہٹ کے ساتھ آتے ہیں ۔کیف و خو شی کے عالم میں انسان مسکراتا بھی ہے اور آنکھوں سے آنسو بھی جاری ہو تے ہیں ۔ایسے میں جذبات کا اظہار آنکھوں سے ہی ہوتا ہے ۔چونکہ زبان گنگ ہو جاتی ہے ۔
آنسو بہانے میں خواتین کافی بد نام ہیں ۔بات بات پر آنسو بہانا ،خواتین کی عادت ہو تی ہے ۔کہتے ہیں عورت جب روتی ہے تو مرد کا دل اسکے آنسوٶں کے ساتھ بہنے لگتا ہے ۔خواتین ان آنسو ٶ ں کا استعمال اپنی خواہشوں کو پورا کرنے میں کرتی ہیں اور کامیاب بھی ہو تی ہیں ۔عورت کے آنسوٶں سے مرد کا دل پسیج جاتا ہے ۔
کچھ آنسوٶں کو مگر مچھ کے آنسو بھی کہتے ہیں ۔جو آنسو جھوٹے ہوں وہ مگر مچھ کے آنسو کہلاتے ہیں ۔جب دکھ نا ہو ،لیکن دکھ کے اظہار کے لیے مصنوعی قسم کے جو آنسو بہاۓجاتے ہیں وہ مگر مچھ کے آنسو کہلاتے ہیں ۔ایسے آنسو بہانے والے ریا کار ہوتے ہیں جنکے دل میں خلو ص نہیں ہو تا ،دکھا وا ہوتا ہے ۔گداگر ،ساس بہو کے لیے ،بہو ساس کے لیے اور کٸ سیاسی لیڈر ،اداکار وعیرہ مگر مچھ کے آنسو بہاتے ہو ۓ نظر آتے ہیں ۔ 
آنسوٶں کی بات نکلی ہے تو محاورتاًخون کے آنسو بھی بولا جاتا ہے ۔آدمی پر جب نا قابل برداشت غم ،مشکلات ،آزمایش آتی ہیں ۔اور وہ پر عزم ہر مشکل گھڑی کو بڑے صبر و استقلال سے گذارنے کی کوشش کرتا ہے ۔رونے دھونے کے بجاۓ مصیبتوں سے لڑتا رہتا ہے ۔مسلسل جد وجہد میں مصروف رہتا ہے لیکن پھر بھی اسے مطلوبہ نتایج نہیں مل پاتے ،تب بندہ اندر ہی اندر خون کے آنسو رونے لگتا ہے ۔بظاہر تو اسکی آنکھیں خشک ہیں ۔اسکی آنکھوں میں ایک قطرہ بھی نہیں مگر وہ پھر بھی رو رہا ہے ۔وہ خون کے آنسو رو رہا ہوتا ہے ۔یہ خون کے آنسو دل میں منجمد ہو کر رہ جاتے ہیں ۔دل کندن تو بن جاتا ہے ۔مگر انسان ایک ایسے نا قابل بیان دکھ میں مبتلا ہوتا ہے ۔جس سے انسان کی شخصیت میں توڑ پھوڑ شروع ہوتی ہے ۔خون کے آنسو اس وقت آتے ہیں جب آنسو ختم ہو تے ہیں ۔آنکھوں کے سوتے خشک ہو جاتے ہیں ۔دل کا سمندر سوکھ جاتا ہے یہاں وہاں 
غم کا صحرا ہی نظر آتا ہے ۔بنجر زمین ناکام ارمانوں سے سج جاتی ہے ۔یہ آنسو ٹپک نہیں پاتے ،یہ دل ہی میں گرتے ہیں اور دل ہی میں اپنی جگہ بنا لیتے ہیں ۔
یہ تو آنسوٶں کے روپ تھے ۔آنسوٶں کا ایک اور روپ بھی ہوتا ہے جب انسان اپنے گناہوں سے نادم ہو کر اللہ کے حضور اپنی آنکھوں سے توبہ کا اہتمام کرتا ہے ۔کہتے ہیں کہ اللہ تعالی  کو عاجز بندے کی یہ کیفیت انتہاٸ محبوب ہو تی ہے ۔بقول شاعر
ع     موتی سمجھ کر شان کریمی نے چن لیے
قطرے جو تھے میرے عرق انفعال کے
اللہ تعالی  کا یہ بندہ تنہاٸ میں اللہ کے حضور گڑ گڑا کر معافی مانگتا ہے اور آنسو ٶں سے اپنی ندامت کا اظہار کرتا ہے ۔اللہ تعالی  کو گناہگار بندہ کی ادا اس قدر پسند آتی ہے کہ وہ اپنی ”غفار الذنوب “ والی صفت کے ساتھ بندہ کی توبہ قبول فرماتا ہے ۔یہ آنسو بندہ کی آنکھ میں قطرہ نہیں موتی بن جاتے ہیں ۔لعل و گہر سے بھی زیادہ قیمتی موتی ،دل ایک گہرا سمندر بن جاتا ہے اور پشیمانی و ندامت کے یہ آنسو موتی بن جاتے ہیں ۔اللہ تعالی  انہیں محفوظ کر لیتا ہے ۔وہ ضایع نہیں کیۓ جاتے ،اسکا اجر بروز قیامت بندہ کو ملے گا ۔
اسی طرح حضور صلی اللہ  علیہ وسلم کی محبت میں ،حضور ﷺ کی یاد میں ،مدینہ منورہ کی زیارت کو ترستی آنکھیں ،درود پڑھتے ان آنکھوں سے ٹپکنے والے آنسو اتنے ارزاں نہیں ہو تے کہ ضایع کیۓ جايں ۔ان آنسوٶں کا کو ٸ مول نہیں ہوتا ۔یہ آنسو بہت قیمتی ہو جاتے ہیں ۔یہ آنسو حقیر بندہ کی عزت و قو قیر میں اضافہ کرتے ہیں ۔اس طرح بندہ اپنی منزل مراد کو پہنچ جاتا ہے ۔
ختم شد


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ